نواز شریف کی تقریر، ملکی و بھارتی منظر نامہ

نواز شریف کی تقریر، ملکی و بھارتی منظر نامہ
نواز شریف کی تقریر، ملکی و بھارتی منظر نامہ

  



میاں نواز شریف کی اقوام متحدہ کی تقریر نے پاکستان اور ہندوستان میں یکساں شور مچا دیا ہے۔ حالانکہ شور کی توعیت مختلف ہے۔ لیکن شور کی گونج ایک جیسی ہے۔ پاکستان میں وزیر اعظم کی تقریر پر انہیں داد دی جا رہی تنقید کم ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ میں ایک اچھی تقریر کر کے اپنے مخالفین کو چپ کروا دیا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعظم کی تقریر پر بھارت میں بہت شور ہے۔ بھارتی میڈیا تو یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ یہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقریر ہے۔ اس لئے بھارتی میڈیا ایک تاثر تو یہ دے رہا ہے کہ میاں نواز شریف نے یہ تقریر جنرل راحیل شریف کے شدید دباؤ میں کی ہے۔ بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ تقریر فوج نے میاں نواز شریف کو لکھ کر دی ہے اور میاں نواز شریف نے صرف پڑھی ہے جبکہ ایک بھارتی ٹی وی نے تو حد ہی کر دی ہے۔ اس ٹی وی کے تجزیہ نگار تو یہ کہہ رہے تھے کہ یہ تقریر اتنی زہریلی تھی کہ یہ جنرل راحیل شریف کی لکھی ہوئی نہیں ہے کیونکہ جنر ل راحیل شریف ایک آئینی عہدہ پر ہیں اس لئے وہ ایسی تقریر نہیں لکھ سکتے لہٰذا یہ تقریر حافظ سعید کی لکھی ہوئی تھی اور میاں نواز شریف نے حافظ سعید کی لکھی ہوئی تقریر پڑھی ہے۔ شائد حافظ سعید بھارتی ٹی وی کی اس رپورٹ پر خوش ہو جائیں کیونکہ وہ تو اکثر میاں نواز شریف کی کشمیر پالیسی سے خوش نہیں رہتے۔

میاں نواز شریف کی تقریر کس حد تک اچھی تھی کس حد تک بری تھی۔ یہ بحث چند دن تک رہے گی۔ پھر ہم اس تقریر کو بھول جائیں گے۔کچھ ریٹائرڈ جنرل ان کی تقریر سے ابھی بھی خوش نہیں ہیں۔ وہ ان کی تقریر میں کمی ڈھونڈ رہے ہیں۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کہ میاں نواز شریف کی اس تقریر نے بھارت کو مزید پریشان کر دیا ہے۔ اسی لئے بھارت کی انتہا پسند تنظیم نے میاں نواز شریف کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے لگا دی ہے۔ کیا میاں نواز شریف کے سر کی قیمت پاکستان میں میاں نواز شریف کے ان ناقدین کو چپ کروانے کے لئے کافی ہے جو انہیں بھارت نواز سمجھتے ہیں۔ اسی لئے میاں نواز شریف کے ناقدین ان کو اس تقریر کا کریڈٹ دینے کی بجائے اس کو اسٹبلشمنٹ کی زبان کہہ رہے ہیں۔

ایک طرف میاں نواز شریف کی تقریر دوسری طرف بھارت کا جنگی جنون ۔ اور ساتھ ساتھ پاکستان میں فضائی جنگی مشقیں بھی جاری ہیں۔ موٹر وے پر پاکستان کے جنگی جہاز لینڈ کرتے اور اڑتے نظر آرہے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک طرف میاں نواز شریف نے اپنی تقریر سے پاکستان کے موقف کی بھر پور ترجمانی کی ہے تو دوسری طرف ان کی تقریر نے بھارت میں جنگی جنون کو مزید ہوا دی ہے اور جنگی جنون کو بڑھا دیا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت میں جنگ کے حامیوں کو میاں نواز شریف کی تقریر سے تقویت ملی ہے۔ اسی لئے بھارت مزید غصے نظر آرہا ہے۔

بھارت کے ساتھ تناؤ کے اضافہ نے ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل کیا ہے۔ ایک خبر تو یہ بھی تھی کہ عمران خان30 ستمبر کو اپنا رائے ونڈ مارچ ملتوی کرنے کو تیار ہیں۔ اسی مقصد کے لئے انہوں نے گزشتہ روز ایک اجلاس بھی کیا ۔ لیکن پھر ان کو دوستوں نے مشورہ دیا ہے کہ ابھی پنے مارچ کو ملتوی نہ کریں اس سے میاں نواز شریف کو سیاسی فائدہ اور آپ کو سیاسی نقصان ہو گا۔ لہذا آپ ابھی چند دن دیکھیں اگر بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو تا ہے تو چند دن بعد بھی ملتوی کرنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ بھارت میں بڑھتا جنگی جنون بھارتی وزیر اعظم مودی کو بند گلی میں لیکر جا رہا ہے۔ بھارت کے سیاسی تجزیہ نگارخود بھی اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مودی نے اگر پاکستان کے خلاف کچھ نہ کیا تو ان کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ ان کی جماعت اور وزراء نے یہ جنگی جنون خود بنایا ہے۔ اور اب وہ خود ہی اس کا شکار ہو جائیں گے۔ کیونکہ بھارتی دفاعی و سیاسی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے بھی سامنے آرہی ہے کہ مودی پاکستان کے ساتھ کسی باقاعدہ جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان کے پاس واحد آپشن لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ ہے۔ یہ آپشن مودی اس سے قبل بھارت میں دو بڑی ریاستوں کے انتخابات کے دوران بھر پور طریقہ سے استعمال کر چکے ہیں۔ اور لائن آف کنٹرول پربھارت کی روزانہ بلا اشتعال فائرنگ سینکڑوں بے قصور معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کے باوجود ۔ انتخابی جلسوں میں پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز تقریروں اور یہ تک کہنے کے باوجود کہ لوگو کیا میں پاکستان کا وزیر اعظم ہوں جو آپ مجھے ووٹ نہیں دیں گے۔ کے باوجود مودی ہار گئے۔ کیونکہ بھارت میں یہ بات سب کو سمجھ آگئی تھی کہ مودی پاکستان کو اپنے انتخاب جیتنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے مودی کوئی جعلی کام کر کے بھارت کی عوام کو بیو قوف نہیں بنا سکتے۔ انہیں اپنے بنائے ہوئے جنگی ماحول کو justify کرنے کے لئے کوئی بڑا قدم اٹھانا ہو گا۔ لیکن شائد ابھی تک کے حالات کے مطابق ایسا کوئی امکان نہیں۔ اس لئے میاں نواز شریف نے اپنی تقریر سے مودی کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔

مزید : کالم