پسند کی شادی پر بھائی اور باپ سفاک بن گئے ، بیٹی کے سامنے خاوند اور اس کے سسرال کو قتل کردیاگیا

پسند کی شادی پر بھائی اور باپ سفاک بن گئے ، بیٹی کے سامنے خاوند اور اس کے ...

  



لاہور(وقائع نگار)خاتون کی پسندکی شادی پر اس کے سفاک بھائیوں اور باپ نے رشتہ داروں کی موجودگی میں بچی کوگھردعوت پر بلایا بعد ازاں اس کے سامنے شوہر اور سسر کو تشدد کے بعد فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔متاثرہ خاتون اپنے بھائی خالد،عرفان ،انضمام اورباپ محمد شریف سے اپنے شوہر سرفراز احمد اورسسر جاول حسن کی زندگی کی بھیک مانگتی رہی کہ انہیں نہ مارا جائے ،ہمیں معاف کر دیا جائے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور اپنے ہی خون کا گھر اجاڑ کر موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے 251\16 بجرم 302مقدمہ درج کر لیاتاہم پتہ چلا کہ ملزمان خاصا اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مقامی تھانے کے ایس ایچ او سے ساز باز کر لی اور مدعی مقدمہ محمد اعجاز جو کہ مقتول سرفراز احمد کا بھائی ہے، الٹا دھمکیاں دینا شروع کر دیں کہ اگر کیس کی پیروی سے باز نہ آیا تو اس کا انجام بھی اس کے بھائی اور باپ جیسا ہو گا۔ پولیس نے اڑھائی ماہ گزرنے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جبکہ درست تفتیش نہ کرنے پر اسے معطل کیا جا چکا ہے۔ادھر مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس تفتیش کے بہانے گھر آتی ہے اور رشوت کا تقاضا کیا جاتا ہے۔غمزدہ خاندان اپنی فریاد لئے روزنامہ پاکستان پہنچ گیا اور رو تے ہوئے اپنی دکھ بھری بپتا سنائی۔ایس ایچ اونے رابطہ کرنے پراپنا موبائل فون ڈرائیور احسان اللہ کے حوالے کر دیا اور پیغام دیا کہ وہ صاحب کیساتھ میٹنگ میں ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ وہ گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ویرکاں تھانہ تتلے عالی گاؤں کوٹلی اروڑہ کے رہائشی ہیں۔کیس کے مدعی محمد اعجاز ،محمد حسن اور مومنہ بی بی نے بتایا کہ سرفراز احمداور جاول حسن محنت مزدوری کرتے تھے۔ گاؤں کے رہائشی محمد شریف کی بیٹی ماہ نور سے ان کے سرفراز نے 20 مئی کو نکاح کر لیا اور کامونکی گاؤں بھروکی منتقل ہو گئے۔ گاؤں کے با اثر افراد محمد عاشق ،محمد لطیف ،محمد افضل اور محمد عبد الرحمن نے میاں بیوی کو اپنی ضمانت پر گاؤں واپس بلایااور لڑکی ماہ نور کی اس کے گھر والوں سے صلح کروا دی ۔کچھ وقت گزرنے پر8 جولائی کو محمد شریف نے ا پنی بیٹی ،داماد اور سمدھی کو گھر دعوت پربلایا ۔ماہ نور کی والدہ بلقیس بی بی بھی اس موقع پر دعوت میں موجود تھی ۔ محلہ دار عاشق ،محمد لطیف ،محمد افضل اور عبد الرحمن بھی دعوت میں موجود تھے ۔اسی دوران ماہ نور کے گھر والوں نے اس کے شوہر اور سسر کو مارنا شروع کر دیاپھر کلہاڑیوں کے وارسے شدید زخمی کیا،آخر کار فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جبکہ ماہ نور ان کو بچاتے ہوئے شدید زخمی ہو گئی ۔اس دوران محلہ داروں کو گھر میں گھسنے نہ دیا گیا۔ ملزمان کارروائی کے بعد فرار ہوگئے۔ دوہرے قتل کی تفتیش تھانہ تتلے عالی کے سب انسپکٹر ایوب بیگ کو سونپی گئی جس نے ایس ایچ او ملک اصغر کے ساتھ مل کرصلح کی ضمانت دینے والے محلہ داروں محمد عاشق ،محمد لطیف ،محمد افضل اور محمد عبد الرحمن کورشوت لیکر رہا کر دیا۔ اصل ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائیماہ نور کی والدہ بلقیس کو سرگودھا سے گرفتارکر کے اس کا عدالت میں چالان پیش کر دیاجبکہ خالد اور نصر اللہ دبئی فرار ہو گئے۔دیگر ملزمان تا حال روپوش ہیں جبکہ ماہ نور کے دو بھائیوں انضمام اور شمشاد نے ساز باز کر کے اپنی گرفتاری دے دی۔وہ دو ماہ سے پولیس کی حراست میں ہیں ۔مدعی مقدمہ نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ محلہ دار محمد عاشق ،لطیف ،عرفان اور دیگر کی جانب سے انہیں لگاتار دھمکیاں مل رہی ہیں جبکہ پولیس واقعہ میں ملوث افراد سے تفتیش کے بہانے دعوتیں اڑاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے ایس پی طارق عزیز کے پاس بھی گئے جنہوں نے ناقص تفتیش پر سب انسپکٹر ایوب بیگ کو معطل کر دیا ہے لیکن تاحال مقدمے کا کوئی نیا تفتیشی مقرر نہیں ہوسکا۔انہوں نے پولیس حکام سے اپیل کی کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔

مزید : علاقائی


loading...