امریکی فوج کو عراق میں ’کیمیائی حملے‘ کا شبہ

امریکی فوج کو عراق میں ’کیمیائی حملے‘ کا شبہ

  



بغداد (آن لائن)امریکی فوج نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے عراق میں امریکی فوج پر حملے میں کیمیائی مادے سے بھرے راکٹ فائر کیے تھے۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ موصل میں قیارہ ایئر بیس کی حدود کے اندر گرنے والے راکٹ میں شاید گندھک کا استعمال کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ اس اڈے میں سینکڑوں امریکی فوجی موجود ہیں۔اگر یہ خیال درست ثابت ہو جاتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے اس حملے میں گندھک کا استعمال کیا ہے تو یہ عراق میں اتحادی افواج پر کیے جانے والا ایسا پہلا حملہ ہوگا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اڈے پر موجود فوجی دستوں کے پاس کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے آلات موجود ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ منگل کی سہ پہر کیا گیا تھا۔ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس حملے میں گندھک کا استعمال کیا گیا تھا تاہم یہ بھی کہا گیا ہے ۔

کہ وہاں موجود کسی بھی فوجی اہلکار کی ظاہری حالت سے یہ سامنے نہیں آیا کہ وہ کسی کیمیائی ہتھیار سے متاثر ہوئے ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ اس حملے سے اس علاقے میں مشن پر کوئی فرق نہیں پڑا اور نہ ہی اس کی فوجوں نے اپنی جگہ تبدیل کی ہے۔اب تک عراق میں لگ بھگ 20 ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں کرد جنگجوؤں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام تھا۔دولت اسلامیہ پر طویل عرصے سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خام حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرتی ہے جوِ جلد، آنکھوں اور سانس کی نالی کو نقصان پہنچاتی ہے۔موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے جو دو سال سے دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے اور امید ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اسے دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے چھڑانے کے لیے جنگ کا آغاز کیا جائے گا جس میں امریکی فوج کی جانب سے مقامی فوجوں کی رہنمائی کی جارہی ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...