داعش نے موصل حملے میں کیمیائی مادے سے بھرے راکٹ فائر کیے تھے،امریکی فوج

داعش نے موصل حملے میں کیمیائی مادے سے بھرے راکٹ فائر کیے تھے،امریکی فوج

  



واشنگٹن (اے پی پی) امریکی فوج نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش نے عراق میں امریکی فوج پر حملے میں کیمیائی مادے سے بھرے راکٹ فائر کیے تھے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی فوج کا کہنا ہے کہ موصل میں قیارہ ایئر بیس کی حدود کے اندر گرنے والے راکٹ میں شاید گندھک کا استعمال کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اڈے پر موجود فوجی دستوں کے پاس کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے آلات موجود ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ منگل کی سہ پہر کیا گیا تھا۔ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس حملے میں گندھک کا استعمال کیا گیا تھا تاہم وہاں موجود کسی بھی فوجی اہلکار کی ظاہری حالت سے یہ سامنے نہیں آیا کہ وہ کسی کیمیائی ہتھیار سے متاثر ہوئے ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اس حملے سے اس علاقے میں مشن پر کوئی فرق نہیں پڑا اور نہ ہی اس کی فوجوں نے اپنی جگہ تبدیل کی ہے۔واضح رہے کہ داعش پر طویل عرصے سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خام حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرتی ہے جوِ جلد، آنکھوں اور سانس کی نالی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...