سیلز ٹیکس میں کمی سے کھا دوں اور زرعی ادویات کی قیمتیں کم ہوئیں ،سکندر بو سن

سیلز ٹیکس میں کمی سے کھا دوں اور زرعی ادویات کی قیمتیں کم ہوئیں ،سکندر بو سن

  



لاہور(کامرس رپورٹر)وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ اسکیورٹی اینڈ ریسرچ ملک سکندر حیات خان بو سن نے کہا ہے کہ اس سال کپاس کی فصل گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہے لیکن ستمبر میں احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ستمبر ستمگر بھی بن جاتا ہے۔ سیلز ٹیکس میں کمی سے کھا دوں اور زرعی ادویات کی قیمتیں کم ہوئیں جس کا براہ راست فائدہ کسانوں کو پہنچا،پاکستان میں پولٹری کی صنعت نے بہت ترقی کی ہے جس کاسہر ا نجی شعبہ کے سر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہو ں نے گزشتہ روز پی پی اے کے انٹرنیشنل ایکسپو 2016میں شامل وفود اور میڈیا کے نمائندوں سے نمائش کے افتتاح کے مو قع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر چیف آرگنائزر رضا محمود خورسند ،سابق چیرمین اور لاہور چیمبر آف کا مرس کے صدارتی امیدوار عبدالباسط ،سابق چیرمین ڈاکٹر مصطفےٰ کمال ،بانی چئیرمین خلیل ستار، ڈاکٹر عبدالکریم بھٹی، عظمت چوہدری سمت دیگر بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ اسکیورٹی اینڈ ریسرچ ملک سکندر حیات خان بو سن نے کہا کہ زراعت کی گروتھ منفی رہی اسے مثبت بنانے کے لئے اقدام کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پولٹری انڈسٹری کے مسائل کے حل ترجیحی بنیادوں پر ا قدام کر رہی ہے اس ضمن میں وفاقی وزارت خزانہ ،ایف بی آر سمیت دیگر تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پولٹری سیکٹر کے تمام مطالبات کو پورا کریں تاکہ یہ انڈسٹری اپنی بزنس کی ترقی کی صیح صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ سب چیزیں ٹھیک ہیں ابھی بھی بہتری کی بہت گنجائش ہے ۔چیف آرگنائزر رضا محمود خورسند نے کہا کہ سالانہ پولٹری کانفرنس اور نمائش کا سلسلہ 1998 ء سے شروع ہوااور اب 2016 ء میں 18 ویں کانفرنس اور نمائش منعقد کی جا رہی ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اپنی درخشاں روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی پولٹری کا سالانہ شو بہتر انداز میں منعقد کیاہے ۔ چیف آرگنائزر رضا محمود خورسند کا کہنا تھا کہ تین روز ہ سالانہ نمائش میں 300 غیر ملکیوں سمیت صنعت مرغبانی کے تمام شعبہ جات سے منسلک تقریبا6000 کاروباری افراد بھرپور شرکت کرینگے۔قبل ازیں پی پی اے کے بانی چئیرمین خلیل ستار نے کہا حکومت کو پولٹری انڈسٹری کو مقابلے کی ہموارفضاء فراہم کرنی چائیے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کو خام مال پر بھاری ٹیکسز کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے اور پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا کہ پولٹری کی اشیاء کی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال پر درآمدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کو کم کرکے زرعی شعبے کی دوسری مصنوعیات پر لاگو ٹیکس کی شرح کے مد مقابل لا یا جائے تا کہ پولٹری انڈسٹری اپنی پیداواری اور ترقی کی صلاحیت کو استعمال کر سکے۔

مزید : صفحہ اول