بھارتی میڈیا میں پاکستان مخالف پروپگنڈے کی ریس لگی ہوئی ہے

بھارتی میڈیا میں پاکستان مخالف پروپگنڈے کی ریس لگی ہوئی ہے

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 بھارت کا میڈیا پاکستان کے خلاف آگ کے شعلے تو پہلے ہی اگل رہا تھا اب وزیراعظم نواز شریف کے جنرل اسمبلی میں خطاب نے اسے بالکل دیوانہ کر دیا ہے۔ نواز شریف نے کشمیر اور دہشت گردی پر پاکستان کا موقف جس واضح اور ٹھوس انداز میں بردباری کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے اس کا بھارتی میڈیا میں کوئی ٹھوس جواب تو نہیں، نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا کوئی ذکر ہے، نہ اس بات کا کوئی حوالہ ہے کہ کشمیر کا معاملہ خود جواہر لال نہرو اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے۔ اگرچہ اب بھارت کے اندر ایسے سیاسی عناصر موجود ہیں جو یہ کہنے لگے ہیں کہ نہرو نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے جا کر غلطی کی تھی، اگر ستر سال بعد بدلے ہوئے حالات میں کسی مسئلے کو نقد و نظرکی میزان میں تولنا شروع کر دیا جائے اور جس وقت فیصلہ کیا جا رہا تھا، اس زمانے کے حالات کو پیش نظر نہ رکھا جائے تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے۔ پنڈت نہرو جس زمانے میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گئے اس وقت صورت حال یہ تھی کہ مجاہدین کشمیر سری نگر کی جانب تیزی سے بڑھ رہے تھے اگر دو چار روز تک مزید جنگ جاری رہتی تو سری نگر مجاہدین آزادی کے قدموں میں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ جب اقوام متحدہ نے کشمیر میں جنگ بندی کرا دی اور پاکستان نے نہرو کے اقوام متحدہ میں کئے گئے وعدے کے پیش نظر یہ فیصلہ قبول کرلیا تو پاکستان میں بھی ایسے عناصر موجود تھے جو اس فیصلے پر خوش نہیں تھے۔ ان کا یہ خیال تھا کہ نہرو نے یہ چال چلی ہی اس لئے ہے کہ انہیں یقین تھا کہ دو چار روز میں سری نگر بھارت کے ہاتھ سے نکل جائیگا اس سب سے قطع نظر بھارتی میڈیا نے جو جنگی ماحول پیدا کر دیا ہے۔ خود بھارتی آرمی چیف نے اس پر غم و غصہ کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ میڈیا کے جو لوگ اس طرح کا ماحول پیدا کر رہے ہیں، انہیں زمینی حقائق کا کوئی ادراک نہیں، نہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ پاکستان پر حملہ کرنا کتنا مشکل کام ہے۔ بھارتی آرمی چیف دلبیر سنگھ نے تو اپنی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ پاکستان پر حملے کے خیال کو ذہن سے نکال دے اور اس آپشن کو سرے سے ختم کر دے۔ آرمی چیف نے بھارتی میڈیا کے ان اینکروں کی معلومات پر اظہار افسوس کیا ہے جو ہر وقت جنگ کے راگ الاپ رہے ہیں اور جن کا خیال ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے بھارتی فوج کو پاکستان پر حملہ کر دینا چاہئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے کشمیر کے زمینی حقائق کو بہت بہتر طریقے سے عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ جنہوں نے ایک ذمہ دار ملک کے وزیراعظم کی طرح امن کی خواہش کی ہے انہوں نے سخت موقف اپنایا لیکن ہر قسم کے معاملات پر مذاکرات کی خواہش ظاہر کی، بھارتی میڈیا کی نواز شریف پر تابڑ توڑ تنقید اور ایک انتہا پسند سیاسی جماعت کی طرف سے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ مقرر کرنے سے یہ تو بہرحال واضح ہوگیا کہ پاکستان میں جو لوگ نواز شریف کو مودی کا یار ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے انہیں خاصی مایوس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں پیپلز پارٹی نے یہ نعرہ پاپولر بنانے کی کوشش کی تھی کہ ’’مودی کے یار‘‘ کو ہروا دیا جائے، اس کے جواب میں آزاد کشمیر کے ووٹروں نے پیپلز پارٹی کو بری طرح ہروا دیا اور ’’مودی کے یار‘‘ کا نعرہ فائر بیک کر گیا۔

غالب یاد آئے ؂

میں نے کہا کہ ’’بزم ناز چاہئے غیر سے تہی‘‘

سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ ’’یوں‘‘

وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی نے آج اس سلسلے میں دلچسپ ٹویٹ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ وزیراعظم کو مودی کا یار کہتے تھے اب وہ کیا کہیں گے؟ سوال خاصا مشکل ہے لیکن بندہ چکنی مٹی کا بنا ہو تو کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آتا ہے۔

اس وقت بھارتی چینلوں میں باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے کہ کون بڑھ چڑھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہے۔ حکومت کی بوکھلاہٹ تو سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ میڈیا کو کیا ہوگیا ہے، اس کی ذمہ داری تو یہ ہے کہ اپنی حکومت کی درست رہنمائی کرے اور اسے بتائے کہ کشمیر میں جس طرح ظلم و تشدد کا بازار گرم کیا گیا تھا اور جس انداز میں انسانیت کے خلاف جرائم کئے جا رہے تھے اس پر آخر کسی کو تو احتجاج کرنا تھا، اس لئے وزیراعظم نواز شریف نے نہ صرف یہ معاملہ اسمبلی میں اپنے خطاب میں اٹھایا بلکہ اقوام متحدہ کو جو ڈوزیئر پیش کیا گیا اس میں بچوں کے چہروں پر پیلٹ گنوں کے چھروں سے بننے والے زخموں کو دیکھ کر سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی آبدیدہ ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کی بوکھلاہٹ کا عالم یہ ہے کہ تمام چینلوں کے ٹاک شوز میں پر سوائے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے کوئی دوسرے پروگرام نہیں اٹھائے جا رہے۔ میڈیا کا رویہ دلائل سے عاری اور میں نے مانوں کے طرز عمل کا اظہار محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان مخالف ریس

مزید : تجزیہ


loading...