کیا بھارت کی طرف سے محدود جنگ شروع ہونے والی ہے؟ حالات ظاہر کرتے ہیں

کیا بھارت کی طرف سے محدود جنگ شروع ہونے والی ہے؟ حالات ظاہر کرتے ہیں

  



تجزیہ:چودھری خادم حسین

سوال یہ ہے کہ کیا بھارت جنگی جنون میں اپنی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹر انن کے تحت مقررہ اہداف کو نشانہ بناکر پاکستان کے ساتھ جنگ کا آغاز کردے گا اور کیا دنیا کے بڑے ممالک کو یہ احساس ہے کہ بھارت کس حد تک جارہا ہے ، جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو وزیر اعظم محمد نواز شریف نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے عوام بلکہ خود پاکستان کا مقدمہ بھی بہت اچھے پیرائے میں دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے، وزیر اعظم کی تقریر بہت ہی ماہرانہ طریقے سے لکھی گئی وزارت خارجہ اور وزیر اعظم کے معاون بھی خصوصی طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں کہ تقریر میں سب کچھ تھا، اس میں پاکستان کے موقف کا اعادہ اور بھارت کو غیر مشروط مذاکرات کی دعوت امریکہ اور چین کو بھی پسند آئی اور انہوں نے دونوں ممالک کو اپنے مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات ہی کے لئے کہا ہے، جبکہ مذاکرات کا تعطل بھارت کی طرف سے ہوا اور پھر دوبارہ کے لئے مشروط کیا گیا جبکہ پاکستان غیر مشروط مذاکرات کے لئے زور دیتا چلا آرہا ہے اور مرکزی نقطہ تنازعہ کشمیر ہے بقول وزیر اعظم پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے تاہم تنازعہ کشمیر حل ہوئے بغیر امن نا ممکن ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کی انتہا پسندی پوری دنیا پر عیاں ہو چکی ایسے میں بھارت نے جنگی جنون کا مظاہرہ کیا اپنے جنگی طیارے پاکستان سے قریبی ہوائی اڈوں پر پہنچا دیئے، اب یہ فطری امر ہے کہ پاکستان کو اپنے دفاع کی تیاری تو کرنا ہے اور ہماری جانباز ائیر فورس نے مشق کر کے بتادیا ہے کہ ہم غافل نہیں ہیں، پہل نہیں کریں گے لیکن حملے کا توڑ بھی جانتے ہیں۔

اس سلسلے میں عالمی سطح پر یہ احساس ہونا چاہیے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ تناؤ اور محاذ آرائی کیوں ہے ؟ اور بھارت کا متعصبانہ رویہ کیا نتائج دکھائے گا، جنگ کسی کے لئے بھی اچھی نہیں، لیکن پاکستان کی مجبوری ہے کہ اسے متعصب دشمن ملا جو پہلے بھی جنگ مسلط کرچکا اور پاکستان کو دفاع پر ہی مجبور ہونا پڑا، اب بھی صورت حال ایسی ہے کہ پاکستان دفاعی اقدامات پر مجبور ہوگیا ہے۔

اس سلسلے میں یہ اطلاع بھی ہے کہ بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی تشویش کا شکار ہیں، اور پاکستانی نژاد امریکی شہری سمجھتے ہیں کہ پاک بھارت لڑائی ہو جائے گی، اسی لئے وہ امریکہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ عالمی امن کے لئے مداخلت کرے اور جنگی جنون کو ختم کرانے کی کوشش کرے، بعض پاکستانی امریکیوں نے تو پاکستان میں اپنی جائیدادیں بھی فروخت کردی ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ ان سے یہ جائیدادیں خود پاکستاننژاد امریکیوں ہی نے خریدی ہیں یوں ایک طبقہ پریشان ہوا تو دوسرا مطمئن ہے اسے پاکستان کی مسلح افواج پر اعتماد بھی ہے، یوں بھی آج کے دور میں جنگ مذاق نہیں، بھارت اور پاکستان ایٹمی صلاحیت کے مالک اور دونوں کے پاس ایٹمی اسلحہ ہے تو کیا بھارت خطے میں تباہی کے درپے ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ مودی سے بعید نہیں جو گجرات میں دو ہزار افراد کو زندہ جلا سکتا ہے اسے انسانیت کی کیا فکر ہوسکتی ہے، ان حالات میں چین نے واضح طور پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے، تو کیا چین کسی بھارتی ایڈونچر کی صورت میں پاکستان کی عملی مدد کرے گا یہ بھی سوال ہے جو پوچھا جارہا اور توقع کی جارہی ہے کہ چین اب عملی طور پر بھی پاکستان کا ساتھ دے گا اور پھر یہ جنگ پھیل بھی سکتی ہے جسے بھارت والے حکمت عملی کی لڑائی کہہ رہے ہیں۔

ان حالات میں ضرورت اندرونی استحکام کی بھی ہے، یہ بہت ہی خوش آئندہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کے جلسے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرلی ہے، اور تحریک انصاف نے بھی اڈہ پلاٹ پر ہی جلسہ کرنے کا اعلان کردیا ہے، یوں بھی حکمران جماعت کے کارکنوں کو مزاحمت اور بیان بازی سے روک دیا گیا ہے، اس سے حالات میں بہتری ہوگی، تحریک انصاف کو بھی مثبت جواب دینا چاہیے، اور اشتعال انگیز بیانات اور حرکات سے اجتناب کرنا چاہیے، ہم تو پہلے بھی تجویز دے چکے کہ جلسہ یا احتجاج موخر کردیا جائے کہ معروضی حالات کے مطابق مظاہرہ اور جلسہ مناسب نہیں ہوگا، توقع کرنا چاہیے کہ وزیر اعظم واپسی پر سیاسی جماعتوں اور راہنماؤں کو باقاعدہ اعتماد میں لیں اور ساری اپوزیشن بھی ان کا ساتھ دے گی، اور موجودہ حالات میں بھارت کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

محدود جنگ

مزید : تجزیہ