ریت کا ڈھیر

ریت کا ڈھیر
ریت کا ڈھیر

  



قارئین کرام ، ایم کیو ایم سے متعلق خبریں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ وہ ایم کیو ایم جہاں پتہ بھی الطاف حسین کی رضامندی کے بغیر نہیں ہل سکتا تھا ، دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آج کس صورت حال سے دوچار ہے۔ یہ صرف ایم کیو ایم کے لئے نازک اور سخت وقت نہیں ہے بلکہ اس ملک میں سیاست کرنے والے تمام عناصر کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں سیاست ریت کا وہ ڈھیر بن گئی ہے یا بنا دی گئی ہے جو تیز ہوا کے جھونکوں کے ساتھ اپنی ہیئت بدل لیتی ہے۔ صحرا میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ پاکستان میں جب سے ’’کا ر پوریٹ ‘‘ اور ’’ وراثتی ‘‘ سیاست نے پنجے گاڑے ہیں، سیاست ریت کا ڈھیر بن گئی ہے۔ سندھ اسمبلی میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ فنکشنل سمیت دیگر جماعتوں کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔ سندھ اسمبلی میں پیش کئی گئی قراردادوں میں بانی ایم کیو ایم کی 22 اگست کی اشتعال انگیز تقریر اور میڈیا ہاؤسز پر حملے کے خلاف مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رہنماء سردار احمد، پی پی کی رہنماء خیر النساء، پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان اور مسلم لیگ کی نصرت سحر نے قرارداد پیش کی۔ قرار دار پیش کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم فوج، عدلیہ، میڈیا اور دیگر ریاستی اداروں سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء رؤف صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کا کوئی قائد نہیں ، سربراہ فاروق ستار ہیں۔ جیل میں وفاداری تبدیل کرنے کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ہے۔ سندھ اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد سے متعلق پارٹی قائدین فیصلہ کریں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منگل کی رات ایم کیوایم کے عارضی مرکز پر ایم کیوایم کے سربراہ ڈاکٹر محمد فاروق ستار کی سربراہی میں منعقد ہوا ۔ جس میں رابطہ کمیٹی پاکستان کے تمام اراکین نے شرکت کی ۔ اجلاس میں لندن میں مقیم ایم کیوایم کے کنوینر ندیم نصرت ، اراکین رابطہ کمیٹی واسع جلیل ، مصطفیٰ عزیز آبادی اور قاسم علی رضا کو رابطہ کمیٹی سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ نیز اجلاس میں رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا کوئی بھی رکن یا ذمہ دار پارٹی آئین ، منشور اور 23 اگست 2016ء کو دی جانے والی پالیسی گائیڈ لائن کے خلاف اپنے کسی بھی قول و فعل سے ملکی سالمیت و استحکام کے خلاف رحجانات رکھنے کا حامل پایا گیا تو اسے فی الفور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیا جائے گا ۔ رابطہ کمیٹی پاکستان کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے حوالے سے ایم کیوایم کے آئین میں مطلوبہ ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ۔ دوسری طرف ایم کیوایم لندن کے رہنما ندیم نصرت نے کہا ہے کہ بانی ایم کیوایم کے بغیر پارٹی کچھ بھی نہیں ۔ جبکہ ایم کیوایم پاکستان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لندن سے جاری ہونے والے بیان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔ ندیم نصرت نے مزید کہا کہ بانی ایم کیوایم نے ہی مہاجروں کو شناخت دی ، ان کے بغیر ایم کیوایم کچھ نہیں ہے ۔دوسری جانب رابطہ کمیٹی ایم کیوایم پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لندن سے جاری کئے گئے بیان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔ رابطہ کمیٹی ایم کیوایم پاکستان کا مزید کہنا ہے کہ ندیم نصرت کے بیان کو ایم کیوایم پاکستان کا بیان نہ سمجھا جائے ۔ 22اگست کے واقعہ کے بعد متفقہ طور پر لندن سے اظہار لاتعلقی کرچکے ہیں۔ ایم کیوایم لندن کے کنوینر ندیم نصرت نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ بانی ایم کیوایم اپنی ذات میں ایم کیوایم ہیں ۔ ان کے بغیر پارٹی کچھ بھی نہیں۔ ندیم نصرت نے متحدہ بانی اور مہاجروں کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ بانی نے ہی مہاجروں کو شناخت دی ۔ متحدہ بانی کو ان کے جانثاروں سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔ ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے کہا کہ لندن کی قیادت مائنس الطاف حسین فارمولے کو مسترد کرتی ہے ۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما امریکہ سے پاکستان واپس آنے والے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے کہا کہ میں مہاجر نہیں ہوں ۔ پاکستان میں پیدا ہوا ، پاکستانی ہوں ، سندھی پڑھی ہے ۔ سوچنا ہوگا کہ اکثریت کے باوجود کبھی ایم کیوایم کا چیف منسٹر نہیں بننے دیا گیا ۔ آرٹیکل 6کی باتیں کرنے والا آئین مساوات کی بھی بات کرتا ہے ۔ سندھ اسمبلی سے خطاب میں ایم کیوایم کے رکن سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے خواجہ اظہار کی گرفتاری کا نوٹس لے کر قانون کی عملداری یقینی بنائی ۔ فیصل سبز واری نے کہا کہ 22اگست کو جو کچھ ہوا ،ایم کیوایم کی بھوک ہڑتال کا نتیجہ نہیں تھا ۔ پارٹی قیادت تو اس وقت صوبائی اور وفاقی حکومت سے بات کرنے میں مصروف تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر غدار نہیں تھے ، نہ ہی ہیں اور ہم مہاجروں کے غدار نہیں ۔ نیت کی ہے کہ اس شہر کی سیاست میں پتھر بھی نہ چلے ۔ ہمیں سپورٹ کریں ۔ فیصل سبزواری نے مزید کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ خوف کے باعث متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بنائی ۔ خوف ہوتا تو خاموش ہوکر بیٹھ جاتے ۔ پاکستان نہ آتے ۔ اپنی قوم اور ووٹرز کا قرض اتانے کے لئے تلخ اور آسان فیصلہ کیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صبح و شامل سوشل میڈیا پر غدار کہہ کر گالیاں دی جارہی ہیں ۔ ہم سب کو دیوار سے لگائیں گے تو جیل میں چلے جائیں گے یا خاموش ہوجائیں گے ۔ ایم کیوایم کے رہنما نے کہا کہ ایسا نہیں لندن کے ارکان کو رابطہ کمیٹی سے نکالنے کے سیاسی مضمرات کا نہیں پتا ۔

ایک نجی چینل کے ایک پروگرام میں ایم کیوایم کے سینئر رہنما سلیم شہزاد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاجروں کو شناخت اور پہچان ایم کیوایم کے بانی نے دی ہے ، بائیس اگست کے بعد ایم کیوایم پاکستان نے بالکل درست موقف اختیار کیا ہے ، ایم کیوایم کے کنوینر چونکہ ملک میں نہیں اس لئے پارٹی کے آئین کے مطابق فاروق ستار ہی کنویز ہیں ۔ فاروق ستار اب مکمل لاتعلقی کرکے عوام کو کنفیوژن سے نکالیں اور مہاجر عوام اور کارکنوں کو متحد کریں ۔ فاروق ستار کو ایم کیوایم کے کارکنوں اور مہاجروں کو بتانا ہوگا کہ اب صرف ایم کیو ایم پاکستان ہی ایم کیوایم ہے ، جس کے سربراہ فاروق ستار ہیں ۔ایم کیو ایم کا ووٹر اس وقت بہت کنفیوژ ہے ، میرے پاس بہت سی کالز آرہی ہیں ۔ لوگ پریشان ہیں اب کیا ہوگا ۔ سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ ندیم نصرت کے بیان میں جن مسائل کا ذکر کیا گیا اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ ایم کیوایم بہت مہذب لوگوں کی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی ۔ ایم کیوایم میں کچھ لوگوں نے کارکنوں کو ایسی راہ پر لگایا جس کی وجہ سے آج وہ دہشت گرد اور بھتہ خور کہلاتے ہیں ۔ میں نے وہ کام تو نہیں کیا لیکن چونکہ میں بھی اس ٹیم کا حصہ تھا تو میں بھی قصور وار ہوں ۔ ایم کیوایم اور مہاجروں پر لگے داغ کو دھونے کا وقت آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا الطاف حسین ا ور ان کے چند ساتھیوں پر ’’را‘‘ سے روابط کے الزام کی سچائی کچھ لوگوں نے اپنے بیان دے کر ثابت کردی ہے ۔ ایم کیوایم میں رہتے ہوئے کچھ لوگوں نے یہ کیا ہے تو الزام لگا ہے ۔ اسی پروگرام میں تجزیہ نگار مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان نے رہنما کے بجائے منزل کا انتخاب کرلیا ہے ۔ سلیم شہزاد ایم کیوایم کے ان چند بنیادی لوگوں میں تھے جنہوں نے اے پی ایم ایس او بنائی تھی ۔ سلیم شہزاد اگر ایم کیوایم لندن کے خلاف بات کررہے ہیں تو لندن میں موجود رہنماؤں کو سوچنا چاہئے وہ غلط کررہے ہیں ۔ ندیم نصرت اگر خود کو صحیح سمجھتے ہیں تو پاکستان آکر یہ پوزیشن لیں ۔ فاروق ستار اور ان کے ساتھی ایم کیوایم کو بچارہے ہیں۔ مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان نے ندیم نصرت مصطفی عزیز آبادی ، واسع جلیل اور قاسم علی کو رابطہ کمیٹی سے نکالنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے ۔ اس فیصلے کے ردعمل میں اسی طرح کا فیصلہ لندن سے آنے کا بھی خدشہ ہے ۔ ایم کیوایم پاکستان لندن سے بیٹھ کر دباؤ ڈالنے والے تمام رہنماؤں کو پارٹی سے نکال کر ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے ۔

پروگرام کے میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بائیس اگست کے بعد سے متحدہ قومی موومنٹ مسلسل مسائل کا شکار ہے ۔ لندن سے الطاف حسین کے حق میں ایک اور بیان آنے کے بعد ایم کیوایم پاکستان کے لئے مشکل کھڑی ہوگئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان ملک میں اپنے کارکنوں اور مہاجر عوام کا مقدمہ لڑ رہی ہے تو ایم کیوایم لندن کی یہ پانچ صفحوں پر مشتمل تحریر الطاف حسین کا مقدمہ لڑرہی ہے اور اس مہاجریت کی بات کررہے ہیں جس میں 1947ء سے لے کر آج تک کے واقعات ہیں۔ اس بیان میں ندیم نصرف نے بہت سی ایسی باتیں کی ہیں جن پر سوال اٹھ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کو زمینی حقائق کا احساس ہوگیا ہے ، لیکن ایم کیوایم لندن کو کراچی کے زمینی حقائق کا اندازہ نہیں ہوا ہے ۔ اب بھی ایم کیوایم لندن کی جانب سے الطاف حسین کو ایم کیوایم کا قائد اور مہاجر عوام کا لیڈر قرار دیا جارہا ہے ۔ ندیم نصرت کے بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ انہیں ایم کیوایم پاکستان پر اعتماد نہیں ہے اور وہ مائنس ون کو مسترد کرتے ہیں ۔

سوشل میڈیا پر کسی نے لکھا کہ ’’ 50 ایم پی اے 25 ایم این اے 8 سینیٹر اور ہزاروں بلدیاتی نمائندوں کے باوجود متحدہ نے عوام کے بنیادی مسائل نہیں حل کروائے نہ ان کو اجاگر کیا ،، بس مختلف اوقات میں حقوق کا نعرہ لگا کر احساس محرومی پیدا کرتے رہے۔ اگر قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسبملی میں ایک بھی سیٹ نہ ہو تو بھی مسائل اجاگر کروائے جا سکتے ہیں اور حل بھی کروائے جا سکتے ہیں مگر ایجنڈہ مسائل بڑھانا تھا نہ کہ کم کرنا سو وہ کیا ‘‘ ۔ یہ تلخ حقیقت ہے۔ ابتداء میں حقوق یا موت کا نعرہ لگانے والی جماعت جس طرح دیوار سے لگی یا لگائی گئی ہے ، وہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ پا کستانی سیاست ریت کا ڈھیر ہے۔

مزید : کالم


loading...