حکومتی گندم کا والی وارث کون؟

حکومتی گندم کا والی وارث کون؟
حکومتی گندم کا والی وارث کون؟

  



پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اب تک فصلوں کے پیداواری اور پھر ان کے استعمال کیحوالے سے کئے جانے فیصلوں میں عجیب کنفیوثر ن کا شکار ہے۔ ایوب خان کے سبز انقلاب کے بعد ملک میں گندم اور دوسری اجناس کی پیداوار میں اضافہ ہوتا رہا، بعدازاں مختلف ادوار میں پاکستان فصلوں کے حوالے سے کوئی بہتر کارکردگی نہ دکھا سکا، اس کی وجہ حکمرانوں کی زراعت سے عدم دلچسپی، کالا باغ ڈیم کے سلسلے میں سیاسی قلا بازیاں اور عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں ملک میں گندم کی قیمت کا کم ہونا شامل تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا موقف تھا کہ گندم کی قیمت کو اتنا بڑھا دیا جائے کہ کسانوں کے تمام ووٹ ان کو مل جائیں، گویا اس ریٹ کو بڑھانے میں ہوش اور عقل و دانش سے زیادہ سیاسی فائدے کا پہلو اہم تھا۔گندم کی قیمت 625/روپے فی من سے بڑھا کر 1200/من کردینا سیاسی فیصلہ تو ہوسکتا ہے، مگر معاشی طور پر یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا اور ہم عالمی مارکیٹ میں موجود گندم کے نرخوں سے کہیں زیادہ نرخ کر بیٹھے جس کا فائدہ پیداوار بڑھنے کی صورت میں تو ضرور ہوا، مگر پیپلز پارٹی کسانوں کے ووٹ حاصل کرنے میں 2013ء میں بری طرح ناکام ہوئی۔

گندم کے آج کے جو مسائل ہیں، وہ اِسی غلط فیصلے کی اصل بنیاد ہیں کہ آج عالمی مارکیٹ میں گندم کا نرخ 15000/ روپے فن ٹن اور ہمارا گندم خریداری کا نرخ 32500/ روپے فی ٹن ہے۔ گزشتہ تین سال کے اعدادو شمار کا موازنہ کیا جائے تو محکمہ خوراک اور دوسری ایجنسیوں نے زیادہ گندم کی خریداری کر کے کسان کو تو سپورٹ فراہم کی، مگر کس قیمت پر ؟۔۔۔یہ ایک سوال ہے جو بہت سارے لوگوں کے ذہن میں نہیں ہے۔ ذخیرہ اندوز اپنے داؤ پر ہیں اور پنجاب حکومت، جس کی گڈ گورننس پر مجھسمیت ہر پاکستانی کو مثبت نظر آنے میں شک نہیں ہے، مگر پھر بھی سوال یہپیدا ہوتا ہے کہ اضافی گندم کا بحران تیسر ے سال میں کیسے داخل ہوگیا؟ اور گندم کو جمع+جمع+جمع کرنے اور اسے نکاسی کے عمل سے نہ گزارنے کے ذمہ دار کون لوگ ہیں؟ جب اٹھارویں ترمیم آچکی تو صوبے کو اضافی گندم کے بحران میں مبتلا کرنے کا فائدہ کس کو ہے؟ نکاسی کے نام پر 60لاکھ ٹن اضافی گندم کی موجودگی میں 6لاکھ ٹن گندم کی جعلی برآمد کی ریبیٹ پالیسی دے دینا کس طرح کی گڈگورننس ہے؟ جبکہ اس ایکسپورٹ والی گندم کے سودے لاہور اور اسلام آباد میں دن رات ہو رہے ہیں، مگر شاید حکومتی گندم کا والی وارث کوئی نہیں۔

میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب اور محکمہ خوراک کے قابل افسران کی ٹیم کا شت کاروں کی سپورٹ کے لئے دن رات ایک کرکے گندم خریدرہی ہے، مگر موجودہ صورت حال کو دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ مسلسل تین سال میں بچ جانے والی گندم کی نکاسی کیوں ممکن نہیں بنائی جارہی، جبکہ اِس گندم کی خریداری، ٹرانسپورٹیشن اور سٹوریج پر اربوں روپے کے اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ پنجاب میں کابینہ کمیٹی نے گزشتہ برس بھی فلورملوں کو گندم ریلیز کرنے کے معاملے کو طول دیا، جیسے گندم گوداموں میں پڑے پڑے خراب ہونے کی بجائے مقدار میں بڑھ رہی ہو۔ جب ذخیرہ اندوز مافیا، جسے عزت کے ساتھ ’’پرائیویٹ سیکٹر‘‘بھی کہا جاتا ہے، مرضی کے نرخوں تک اپنی ذخیرہ شدہ گندم کو لے جاتا ہے، تب جاکہ محکمہ خوراک گندم جاری کرنے کے بارے میں صرف سوچتا ہے، گویا محکمہ خوراک ان لوگوں کو فائدہ پہنچا کر سرکار کو نقصان پہنچا رہا ہے اور نقصان اخراجات کے تین گناہونے کے ساتھ ساتھ گندم کی کوالٹی بھی خراب ہو رہی ہے، جسے چیک کرنا کسی کے اختیار میں نہیں۔ ان تمام معاملات کا حل صرف حقیقی ایکسپورٹ ہے، جس سے نہ جانے کیوں اجتناب کیا جارہا ہے اور وفاقی حکومت بھی اپنے اداروں سے کام نہیں لے رہی اور سفارت کاری بھی افغانستان کی مارکیٹ کو نرخوں کے زیادہ ہونے کے علاوہ دورلے جا چکی ہے، جس سے 70فیصد فلور ملوں میں کام بند ہونے سے بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوچکا۔

اب جبکہ ذخیرہ اندوز آئے روز اپنی گندم کے نرخوں میں اضافہ کر کے عوام کو پریشان کررہے ہیں اور سرکاری گندم عوام کو مناسب نرخوں پر آٹے کی فراہمی کے لئے ہی خریدی جاتی ہے،اب ایک ماہ گزرنے کو ہے، سرکاری گندم کا اجرا نہیں ہو سکا جو نادیدہ ہاتھوں نے کسی خاص مقصد کے لئے کر رکھا ہے، اس کا فائدہ چند لوگوں کو، جبکہ نقصان ہماری حکومت کے خزانے کو،عوام کو اور فلور ملنگ انڈسٹری کو ہو رہا ہے اور ہر دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر یہی صورت حال رہی تو آئندہ فصل پر پنجاب کے گوداموں میں 32لاکھ ٹن گندم پڑی ہوگی جو ماشا اللہ چوتھے سال میں جارہی ہوگی، اِسی لئے آج لوگ سوال کررہے ہیں کہ اِس نقصان کا ذمہ دار کون ہے اور اتنی بڑی مقدار میں اربوں روپے لگا کر گندم کی خریداری کر کے سرکاری گندم کا والی وارث کون ہے؟

چند سولہ گریڈ کے اہل کار یا پھر؟

مزید : کالم