قصۂ ماضی اور اب کراچی میں کیا ہو گا؟

قصۂ ماضی اور اب کراچی میں کیا ہو گا؟
قصۂ ماضی اور اب کراچی میں کیا ہو گا؟

  



یہ اُن دِنوں کی بات ہے،جب مہاجر قومی موومنٹ کے الطاف حسین کے ساتھ اختلاف کی بنیاد پر بدر اقبال اور اُن کے ساتھ بعض اراکین اسمبلی اور کارکنوں نے آواز بلند کی تو ان کو سبق سکھانے کا حکم ہوا۔ اس ہدایت کی روشنی میں ان حضرات کو اپنی جان بچانا مشکل ہو گئی اور یہ سب کراچی سے فرار ہو کر پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ ان میں دو یا تین مختلف ٹیمیں لاہور میں بھی روپوش تھیں، ان کی آواز سننے والا بھی کوئی نہیں تھا اور وہ یہاں بھی چھپتے پھرتے تھے، ایک بار پہلے بھی عرض کر چکے تاہم آج جب ندیم نصرت کے اعلامیئے ، ڈاکٹر فاروق ستار کے جواب اور سندھ اسمبلی کی قرارداد پر نظر پڑی تو پھر نہ صرف یہ سب یاد آیا، بلکہ ایس ایس پی ملیر (معطل) راؤ انوار کی یہ بات بھی کھٹکنے لگی کہ جنوبی افریقہ سے نئی ٹیم کراچی میں وارد ہو چکی، جس کا مطلب یہ ہوا کہ حالات نے ایک مرتبہ پھر ویسی کروٹ لی ہے اور جہاں ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان آمنے سامنے آئے وہاں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ پھر سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ نہ شروع ہو جائے کہ ماضی میں بغاوت کرنے والوں کو سبق سکھایا جا چکا اور اب تو یہ بھی علم نہیں کہ جو بچ رہے تھے وہ کہاں گئے اور کہاں ہیں۔

جو واقعہ1992ء میں یہاں پیش آیا، اُسے ذرا زیادہ تفصیل سے بتا دیتے ہیں، کہ ہمیں جہانگیر بدر کا پیغام ملا کہ کچھ لوگ چند اخبار نویسوں سے ملنا چاہتے ہیں اور وہ ظاہراً نہیں مل سکتے،چنانچہ ہم، بدرالاسلام بٹ اور مرحوم محمود زمان تیار ہوئے تو ہمارے لئے ایک گاڑی ہمارے دوست نے بھجوائی، اس گاڑی میں ہم تینوں کو لبرٹی لے جایا گیا اور گوگو کے سامنے کھڑی کر دی گئی۔ پتہ چلا کہ وہ لوگ اندر والے بازار سے آئیں گے، پھر بڑے پُراسرار طریقے سے ایک صاحب بازار کی طرف سے آئے اور انہوں نے ہمارے میزبان سے بات کی۔انہوں نے بتایا کہ ملاقات کا مقام تبدیل ہو گیا ہے اور گاڑی واپس کر کے گلبرگ سی کی طرف چلے اور بالآخر جس کوٹھی میں داخل ہوئے وہ حافظ غلام محی الدین کی تھی، ہم اُتر کر انیکسی میں گئے تو حافظ غلام محی الدین بھی آ گئے اور بڑے پیار سے ملے کہ ہم ایک دوسرے کے جاننے والے اور پرانے محلے دار بھی ہیں، اُن دِنوں وہ پیپلزپارٹی میں تھے، انہی کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ ایم کیو ایم کے کچھ باغی ارکان ملنا چاہتے ہیں تھوڑی دیر بعد ایک اور گاڑی تین افراد کو لے کر آئی اور ان کو ہمارے پاس پہنچا کر ملا دیا گیا۔ یہ لوگ بدر اقبال کے ساتھی تھے، جب ان سے بدر اقبال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ جان بچاتے پھرتے ہیں۔ بہرحال ان میں سے ایک سیکٹر کمانڈر یونس نے گفتگو کی اور بتایا کہ الطاف حسین نے اختلاف کی بنا پر ان کو ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور وہ جان بچاتے پھر رہے ہیں۔

اس یونس خان نے مزید بتایا کہ الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی بنیاد ہی نفرت پر رکھی، خصوصی طور پر پنجابیوں کے خلاف تھے اور اس کے بعد پٹھانوں اور سندھیوں کی باری تھی۔ہمیں ان سب کے ساتھ لڑنے کی تربیت دی گئی اور مہاجرستان بنانے کے لئے جدوجہد کرنے کا عندیہ دیا گیا، انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے چند ماہ سے الطاف حسین آمر بن گئے اور وہ کسی کی اختلافی تجویز بھی نہیں سنتے۔ یہ یونس کا کہنا تھا کہ ہمیں آمنے سامنے کھڑا کیا اور اب خود مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ بنا کر پاکستان کا وزیراعظم بننے کے منصوبے بنانے لگے ہیں۔ اِس نوجوان کے مطابق بدر اقبال اور ان کے ساتھیوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے تفصیل جاننا چاہی تو ’’ختم کر دو‘‘ والا حکم دے دیا گیا، اور ہم بڑی مشکل سے جان بچا کر آئے ہیں، ان حضرات نے بہت ہی واضح طور پر انکشاف کیا تھا کہ الطاف حسین کی پارٹی میں ٹارگٹ کلرز موجود ہیں اور بہت اسلحہ ہے۔ یونس نے تو یہاں تک کہا کہ ایم کیو ایم کے مسلح لوگ ایک بٹالین تک کا مقابلہ کر سکتے ہیں،دوسرے معنوں میں اسلحہ اور تربیت کی بات درست تھی۔

یہ تفصل یاد آنے اور تحریرکرنے کا مقصد یہ تھا کہ ندیم نصرت کی طرف سے رابطہ کمیٹی اور ونگز توڑنے کی جو بات کی گئی وہ خالی از علت نہیں، اس سے یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ خدانخواستہ کراچی کے حالات پھر خراب کئے جائیں گے کہ ندیم نصرت نے متحدہ پاکستان کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر پھر سے منتخب ہو کر دکھائیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ وہ اب بھی کراچی اور حیدر آباد میں اپنے لوگ رکھتے ہیں اور ان کو یہ زعم بھی ہے کہ ووٹر الطاف حسین کے ساتھ ہے، جبکہ اسمبلی کی قرارداد کے بعد متحدہ پاکستان نے واضح لکیر کھینچ دی ہے اور اب منتخب لوگ تو متحدہ پاکستان کے ساتھ ہیں اور شاید ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن ان حضرات سے بھی واقف ہوں گے جو ان کیلئے مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔

نئی صورت حال میں انتظامیہ اور کراچی آپریشن کے ذمہ دار حضرات کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ اب زیادہ خبردار رہنے کی ضرورت ہو گی کہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، فوری طور پر تو اسمبلیوں میں موجود اراکین ہی سامنے ہیں اور متحدہ پاکستان کی رابطہ کمیٹی بھی موجود ہے یہ تو وقت کے ساتھ معلوم ہو گا کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ اب ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو زیادہ کھلنا ہو گا کہ وہ قرارداد کی حمایت کر چکے جو برداشت نہیں کی گئی۔ ہمیں آج اس معتوب سہ رکنی ’’باغی وفد‘‘ کی بہت سی باتیں یاد آ رہی ہیں، یہاں ختم کرتے ہیں کہ ان کے مطابق ایم کیو ایم کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل رہی جو اب ممکن نہیں کہ ’’را‘‘ سے فنڈز لینے اور پاکستان کے خلاف نعرے لگوانے کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے نصیر سلیمی صاحب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا متحدہ پاکستان کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مُک مُکا ہو گیا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، ہم بہرحال تشویش میں مبتلا ہیں کہ یہاں’’را‘‘ کام دکھا سکتی ہے۔

مزید : کالم