کشیدگی کا نیا عہد

کشیدگی کا نیا عہد
کشیدگی کا نیا عہد

  



ٹرافی پر کندھے سے کندھا ملائے دو فوجی جوان نظر آ رہے تھے ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا ہندو۔ دونوں کے ہاتھ میں رائفلیں تھیں،جو انہوں نے اپنے کسی مشترکہ دشمن پر تانی ہوئی تھیں۔ ہندو بریگیڈیئر کرپا نے چاندی کی یہ بڑی یادگاری ٹرافی مسلمان بریگیڈیئر آغا رضا کو پیش کی تھی۔ دہلی کے امپیریل جم خانہ کلب میں ہونے والی اس تقریب میں ہندو فوجی اپنے مسلمان دوست فوجیوں کو بڑے جذباتی انداز میں رخصت کر رہے تھے۔وہ ایک دوسرے کو یقین دلا رہے تھے کہ ہم ہمیشہ بھائیوں کی طرح رہیں گے اور ہم کبھی ان شاندار دنوں کو فراموش نہیں کریں گے،جو ہم نے ایک ساتھ گزارے ہیں۔ چند روز قبل راولپنڈی میں سیکنڈ کیولری نے رخصت ہونے والے ہندو اور سکھ فوجیوں کے اعزاز میں ایک بڑا کھانا دیا تھا۔ہندو اور سکھ فوجی افسروں نے اشکبار آنکھوں سے بڑی جذباتی تقریریں کی تھیں۔ تقریب میں دوسری جنگ عظیم کی یادوں کو تازہ کیا جا رہا تھا۔ میزبان کرنل محمد ادریس نے اپنی تقریر میں کہا ’’ہم ہمیشہ بھائی رہیں گے کیونکہ ہم نے ایک ساتھ خون بہایاہے۔ کرنل ادریس اپنے ہندو اور سکھ فوجی دوستوں کی محبت میں اتنے جذباتی ہو گئے تھے کہ انہوں نے حکام بالا کے ان احکامات کو بھی نظرانداز کر دیا،جن میں ہدایت کی گئی تھی کہ بھارتی سپاہیوں سے ان کے ہتھیار لے کر انہیں رخصت کیا جائے۔ کرنل ادریس نے کہا ’’یہ سپاہی ہیں۔ یہ یہاں ہتھیاروں کے ساتھ آئے تھے اور یہ یہاں سے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ ہی رخصت ہوں گے‘‘۔ اگلے روز سیکنڈ کیولری کے یہ ہندو اور سکھ فوجی ٹرین سے روانہ ہوئے۔ راولپنڈی سے ایک گھنٹہ سفر کے بعد بلوائیوں نے اس پر حملہ کر دیا اور اگر ان سپاہیوں کے پاس ہتھیار نہ ہوتے تو ٹرین کا یہ سفر ایک بڑا سانحہ بن جاتا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کی جو نئی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے اس میں یہ واقعہ یاد آیا تو ذہن میں ان تمام سیاسی رہنماؤں کی تصویریں آئیں، جنہوں نے دونوں ملکوں کو ہمہ وقت جنگ کے لئے تیار رہنے کے مستقل خطرے میں مبتلا کر دیا ہے۔قائداعظمؒ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی بقیہ زندگی بمبئی میں اپنے گھر میں گزارنے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے۔ پاکستان نے دہلی میں جو اپنا پہلا سفیر مقرر کیا اس نے اس تقرری کو اس شرط پر قبول کیا کہ اس سے اس کی بھارتی شہریت متاثر نہیں ہو گی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔مسئلہ کشمیر دررحقیقت مہاراجہ ہری سنگھ نے پیدا کیا تھا۔ماؤنٹ بیٹن کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس گئے،تو انہوں نے کہا کہ نہرو اور پٹیل کو اس پر اعتراض نہیں ہے کہ آپ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیں اور قائداعظمؒ آپ کو خصوصی مراعات دینے کے لئے تیار ہیں۔ مہاراجہ کشمیر کا الحاق کسی کے ساتھ بھی کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔انہوں نے مختلف بہانوں سے ماؤنٹ بیٹن کو کچھ کہے بغیر واپس بھجوا دیا اور یوں مسئلہ کشمیر پیدا ہوا، جس نے دو ممالک کی فوجوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ دونوں ملک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں اور عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی کشیدگی کا نتیجہ خطرناک ایٹمی جنگ کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی کی جڑیں تقسیم ہند کے دور میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ راولپنڈی اور دہلی میں جب مسلمان اور غیر مسلم فوجی محبت اور دوستی کے عزم کے ساتھ رخصت ہو رہے تھے اس وقت تقسیم ہند میں خون کا ایک نیا دریا جاری کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائداعظم محمد علی جناحؒ اور لیاقت علی خان سے سیویج نامی افسر کی ملاقات کرائی۔ سیویج پنجاب سی آئی ڈی کے سربراہ تھے۔ سیویج نے اپنے گلے کو صاف کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل سی آئی ڈی کے ایک انٹروگیشن سنٹر میں کچھ ملزموں نے خوفناک انکشاف کئے تھے اور وہ ان کے متعلق مطلع کرنے کیلئے ذاتی طور پر وائسرائے کے پاس آیا تھا۔ سیویج نے سی آئی ڈی پنجاب کے سربراہ کے طور پر طویل عرصہ گزارا تھا۔ اس نے بتایا کہ سکھوں کے ایک انتہاپسند گروپوں کے ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس سے روابط ہیں۔ دونوں گروپوں نے اپنے وسائل کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے تخریب کاری کے خطرناک منصوبے بنائے ہیں۔ ماسٹر تارا سنگھ کی سربراہی میں انتہاپسند سکھ مہاجرین کی سپیشل پاکستانی ٹرینوں کو نشانہ بنائیں گے۔ سکھوں نے اس مقصد کے لئے وائرلیس کا ایک نظام بھی قائم کر لیا ہے،جو مہاجرین کی ٹرینوں کی روانگی کی خبر دے گا۔ اس کے بعد باقی کام مسلح سکھ جتھے کریں گے۔ منصوبے کے دوسرے حصے پر آر ایس ایس کے ہندو کارکن عملدرآمد کریں گے اور یہ 14 اگست کو اس جلوس کے راستے میں شامل ہو جائیں گے،جس میں سے قائداعظم محمد علی جناحؒ گزریں گے اور وہ انتہاپسند ہندو لپک کر بانی پاکستان کو قتل کر دیں۔ قائداعظمؒ کے قتل سے جو افراتفری پھیلے گی۔ آگ اور خون کے جو طوفان اُٹھیں گے اس میں پاکستان کے قیام کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ اسے برصغیر کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ تقسیم کے، جس منصوبے کو ہندو اور مسلمان قیادت نے میز پر بیٹھ کر تسلیم کر لیا تھا اسے سبوتاژ کرنے کے لئے انتہا پسند ہندوآخری حد تک جانے کے لئے تیار تھے۔

پاکستانی اور بھارتی فوجوں نے تقسیم کے وقت عہد کیا تھا کہ وہ ہمیشہ بھائیوں کی طرح رہیں گے، مگر وہ گھناؤنی سازشوں کے نتیجے میں ایک دوسرے سے لڑنے پر مجبور ہو گئے۔ کشمیر کو جنت کی وادی کہا جاتا ہے، مگر یہاں انسان بدترین جہنم کا تجربہ کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے قتل کی پاکستان نے بھی مذمت کی ہے مگر بھارتی میڈیا اور کچھ انتہاپسند ہندو دانشور پاکستان پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔معاملات کو خطرات کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کو جس طرح دہشت گردی کے خطرات سے نکالا ہے ان کی بصیرت و جرأت پاکستان کی تاریخ کا روشن باب رہے گی۔

آج ہندو انتہاپسند تنظیم وشوا ہندو پریشد بھارتی فوج کو پاکستانی حدود میں داخل ہو کر کارروائیاں کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ آر ایس ایس پاکستان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔بھارت کے پاس کشمیر پر قبضے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کرنے کے لئے مہاراجہ سے ایک دستاویز پر دستخط کرائے تھے۔ پروفیسر ایسٹر لیمب نے اس سلسلے میں ثابت کیا ہے کہ مہاراجہ کی وہ دستاویز موجود ہی نہیں ہے اور بھارت نے آج تک کسی عالمی فورم پر ان دستاویزات کو نہیں دکھایا۔ کشمیر کے عوام بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ 73 دن گزرجانے کے باوجود بھی کشمیر میں کرفیو ہے۔ کشمیریوں کی ہڑتال اور مظاہرے جاری ہیں۔ بھارتی فوج پیلٹ فائرنگ کر رہی ہے۔ ہر روز کشمیری شہید اور زخمی ہو رہے ہیں، مگر کسی طرح اپنا موقف تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مسئلہ کشمیر آج دوبارہ اقوام متحدہ میں زیربحث ہے۔ کشمیری پاکستان کے الحاق کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، مگر نریندرر مودی معاملات میں بہتری لانے کی بجائے خرابی کا ہر ہتھکنڈا استعمال کرنے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔ برصغیر میں کشیدگی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا نظر آ رہا ہے۔

مزید : کالم


loading...