وزیراعظم کا خطاب اور عصرِ حاضر میں پاک،بھارت جنگ کی آپشن!

وزیراعظم کا خطاب اور عصرِ حاضر میں پاک،بھارت جنگ کی آپشن!
وزیراعظم کا خطاب اور عصرِ حاضر میں پاک،بھارت جنگ کی آپشن!

  



پاک بھارت تعلقات کی موجودہ کشیدگی کے پس منظر میں وزیراعظم کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پرسوں شب والی تقریر ایک لینڈ مارک خطاب تھا۔۔۔ جس کسی گروپ نے بھی یہ تقریر لکھی اس کا ایک ایک لفظ سو سو بار سوچ کر ڈرافٹ کیا ہو گا لیکن وزیراعظم کی ڈلیوری کا لب و لہجہ، ان کا اندازِ تخاطب، ایک ایک لفظ کو صحیح مخرج سے ادا کرنا، دورانِ خطاب وقفے، کسی جگہ رکنا اور کسی ٹکڑے کو بیک بار پڑھ جانا اتنا واضح، صریح اور اثر انگیز تھا کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ان کے خطاب کا سارا فوکس مقبوضہ کشمیر پر رہا، بھارت کے مظالم پر رہا،کشمیریوں کی حالتِ زار پر رہا اور کشمیریوں کی کاز کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور عزمِ صمیم پر رہا۔ ان کے خطاب میں جِنگو ازم (Jingoism) کے مقابلے میں تدبر اور تفکّر چھلک چھلک پڑتا تھا۔ ان کا پیغام بڑا دو ٹوک، متوازن اور ایسے ملک کے شایانِ شان تھا جس کے پاس جوہری وار ہیڈز بھی ہیں اور ان کو نہ صرف دشمن ہمسائے پر بلکہ اردگرد کے طول طویل فاصلوں تک پھینکنے کے ذرائع بھی موجودہیں۔ ویسے بھارت کے جنگی بخار کا توڑ پاکستان کی طرف سے کئی بار پہلے بھی کیا جا چکا ہے اور اب بھی کیا جا رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ خود انڈین آرمی چیف نے اپنے سیاسی رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل جنگ نہیں۔

جنگ کا ذکر آیا ہے تو کس کو معلوم نہیں کہ دو نیو کلیئر حریفوں کے مابین جنگ کے دو مرحلے ہوتے ہیں؟ایک روایتی جنگ سے پہلے کا مرحلہ اور دوسرا روایتی جنگ کے بعد کا مرحلہ جو انتہائی ہنگامہ خیز اور تباہ کن ہو گا۔جب 28مئی1998ء کو چاغی کے پہاڑ جوہری تجربے کی حدت سے پگھل گئے تھے تو میدانِ جنگ میں لڑنے والی سپاہ پر اس کے اثرات کیا ہوں گے، اس کا فیصلہ کرنے کے لئے کسی میکارتھر کی روح کو طلب کرنا ضروری نہیں ہو گا۔

پاکستان نے اپنے کارڈز کھول کر سامنے رکھ دیئے ہیں اور ایک سرخ لائن بھی متعین کر دی ہے اور کہا ہے کہ آپ نے اگرچہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین کی تکمیل کے لئے اپنے ملٹری انفراسٹرکچر کا ایک بڑا حصہ بین الاقوامی سرحد اور نیز لائن آف کنٹرول سے قریب ترین مقامات پر تعمیر اور منتقل کر دیا ہے اور وہاں اپنے زمینی اور فضائی لشکروں کو بھی اکٹھا کر لیا ہے، لیکن اس کا تجربہ پہلے بھی 2000-01ء میں آپ نے کر لیا تھا جب آپ اپنی 90فیصد گراؤنڈ اور ائر فورسز کو سرحدوں پر لے آئے تھے، لیکن پھر کیا ہوا تھا؟۔۔۔ آج اُس ملٹری سٹینڈ آف کو ڈیڑھ عشرہ گزر چکا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب روایتی جنگ کا مرحلہ ختم ہو جاتا ہے یا جب دو نیو کلیئر حریفوں میں کسی ایک کا وار سٹیمنا 24گھنٹوں کا رہ جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ روایتی جنگ کے وار سٹیمنا (Stamina) کے دوران بھی اگرکسی ایسے ٹارگٹ پر حملہ ہو جائے جو انتہائی اہم اور حساس ہو تو پھر اس سٹیمنا کے خاتمے کا انتظار نہیں کیا جاتا،پھر دور اندیشی جواب دے جاتی ہے، اپنی موت اگر سامنے نظر آ رہی ہو تو دشمن کو مار کر مر جانے میں تامل نہیں ہوتا! اور جب یہ خیال دماغ میں آتا ہے تو بجلی سی کوند جاتی ہے اور باہمی خود کشی کا اقدام کوئی زیادہ دور نہیں رہ جاتا۔ لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بات کا احساس کسی کو بھی نہیں کہ یہ ایام جو گزر ہے ہیں کتنے ہولناک ہیں۔ میرا روئے سخن صرف پاکستانیوں کی طرف نہیں بلکہ برصغیر کے تمام باسیوں کی طرف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان(دسمبر1971ء کے بعد کا پاکستان) اور بھارت دونوں نے صد ہا برس سے کوئی جنگ نہیں دیکھی!۔۔۔ بظاہر میرا یہ فقرہ آپ کو شائد غلط یا بے جواز نظر آئے اِس لئے آیئے تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔

انگریزوں کی آمد سے بات شروع کریں تو انہوں نے ہندوستان میں جتنی بھی جنگیں لڑیں وہ جزوی اور محدود پیمانوں کی تھیں۔ سراج الدولہ سے جنگ، مرہٹوں سے جنگ، سلطان ٹیپو سے جنگ، 1857ء کی جنگ (جسے ہم پہلی جنگِ آزادی کہتے ہیں) سکھوں سے جنگ وغیرہ، تمام کی تمام زمان و مکان (Time and Space) کے تناظر میں جزوی اور محدود تھیں۔ برما کا میدانِ جنگ ہندوستان کا نزدیک ترین میدانِ جنگ تھا۔ کو ہیما اور امپھال کی طرح کی خوں آشام لڑائیاں ہم نے صرف تاریخوں میں پڑھی ہیں، ان کو اپنے علاقوں (1947ء سے پہلے کے ہندوستان میں) میں اپنے ہم وطنوں پر گزرتے نہیں دیکھا۔ پھر 1947-48ء کی جنگِ کشمیر جو صرف کشمیر تک محدود رہی اور جموں تک بھی نہ آ سکی۔ 1665ء کی جنگ جو پاکستان اور بھارت دونوں نے سرحدی علاقوں میں لڑی۔ اس جنگ کی لڑائیوں کا کوئی بڑا اثر بھارت یا پاکستان کے شہری علاقوں پر نہیں پڑا۔ واہگہ، سیالکوٹ، سلیمانکی اور کھوکھرا پار وغیرہ کے علاقوں میں صرف محاذوں پر لڑائیاں ہوئیں اور شہر اور قصبے محفوظ رہے۔1971ء کی جنگ یکطرفہ تھی۔ یہ صرف مشرقی پاکستان میں لڑی گئی اور اسے بنگلہ دیش بنا کر ختم ہو گئی، مغربی پاکستان اور بھارت کے شہری علاقوں میں اس کا کچھ زیادہ اثر (Impact) نہ ہوا اور اُس وقت کا مغربی پاکستان اور آج کا پاکستان فضائی، زمینی اور بحری لڑائیوں کی ہولناکیوں سے محفوظ رہا۔ چھوٹی موٹی ’’ٹخ ٹوں‘‘ کو تو جنگ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔1999ء کی کارگل جھڑپ (یا لڑائی) بھی لائن آف کنٹرول تک محدود رہی۔۔۔ القصہ برصغیر کے باسیوں نے گزشتہ چار پانچ سو برسوں میں کسی بڑی جنگ کا سامنا نہیں کیا۔ دُنیا کی دونوں عظیم جنگوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو پورے یورپ، بحر اوقیانوس، بحرالکاہل،شمالی افریقہ، برما، روس اور جاپان وغیرہ کے باشندوں نے ان جنگوں کی بربادیوں کو اپنے سینوں پر جھیلا۔ لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد کوریا، ویت نام،عرب اسرائیل، فاک لینڈ، افغانستان، عراق و ایران وغیرہ کی جنگوں میں بھی برصغیر کا کچھ نہ بگڑا۔

مَیں نے جنگوں کی یہ رام کہانی قارئین کو یہ بتانے کے لئے سنائی ہے کہ نہ ہم پاکستانیوں کو اور نہ ہی بھارتیوں کو خبر ہے کہ جنگ کی تباہ کاریاں اور بربادیاں کیا ہوتی ہیں۔۔۔۔ چنانچہ اگر مَیں یہ دعویٰ کروں کہ برصغیر ہندو پاک کے رہنے والوں نے جنگ کا کوئی حقیقی منظر دیکھا ہی نہیں تو کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔ بارود کی دریافت کے بعد کی جنگیں تو مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ میدانِ جنگ کی لرزہ خیزی میں اضافہ کرتی چلی گئیں۔ لیکن ان کا انجام ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر جوہری حملوں پر ہوا جن کو ہم نے صرف تاریخوں میں پڑھا یا شائد فلموں میں دیکھا ہے، اپنے معاشروں پر وارد ہوتے نہیں دیکھا۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ دُنیا میں ایک نیام نظامِ عالم تخلیق ہونے جا رہا ہے۔ دُنیا بھر کی اقوام کی تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چین کا نام بھی کسی بڑی عالمی جنگی قوت کے طور پر سامنے آیا ہو!۔۔۔ سن تزو اور سن یا ت سن دو ایسے جرنیل ہیں جن کی جنگیں سینکڑوں ہزاروں برس پہلے کی جنگیں تھیں۔ قدیم یا زمانۂ وسطیٰ کے چینی تہذیب و تمدن پر جنگی اثرات کا کوئی خاص پر تو نظر نہیںآتا۔ لیکن گزشتہ70 برسوں میں چین نے اپنے گزشتہ ادوار میں جنگ و جدل کے تمام شعبوں میں گمنام رہنے کے بعد یکایک ایسا پینترا بدلا ہے کہ دُنیا کی تمام معروف جنگی طاقتوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں!

آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ سی پیک (CPEC)، نئے نظامِ عالم کے پلازے کی پہلی اینٹ ہے۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے خوف آتا ہے کہ یہ21ویں صدی ہمارے کرۂ ارض کی کہیں آخری صدی نہ ہو۔ ہمارے نظام شمسی میں جو دس گیارہ سیارے ہیں وہ بالکل بے آباد، زندگی سے خالی، سنسان اور بنجر ہیں۔ شائد اربوں سال پہلے وہ بھی ہماری زمین کی طرح چند سو یا چند ہزار برسوں تک زندگی سے ہمہماتے رہے ہوں اور پھر ان کے باسیوں نے بھی کوئی جوہری قوت کی طرح کی کوئی تباہ کن قوت دریافت کر لی ہو اور آخر نوبت باہمی خود کشی تک آ گئی ہو۔۔۔۔ ہمارے کرۂ ارض نے اگر ایسی خود کشی کی تو یہ بارہواں سیارہ ہو گا جو بے آباد، بے جان اور ویران ہو جائے گا۔۔۔۔ خدا نہ کرے ایسا ہو۔۔۔۔ لیکن آثار یہی ہیں کہ آخر ایسا ہی ہو گا، درمیان میں چند عشرے حائل ہوں تو ہوں، انجام وہی ہو گا جو بظاہر باقی چھوٹے بڑے سیاروں کا ہوا ہے۔۔۔ اور پھر قرآن حکیم بھی تو اس انجام پر شاہد عادل ہے!

آج ذرا دُنیا کے ان خطوں پر نگاہ دوڑائیں جن پر جنگ کی پرچھائیں پڑتی صاف نظر آ رہی ہیں۔ شام، عراق، کریملن، فلسطین، ساؤتھ چائنا سمندر(Sea) اورکشمیر وہ پانچ مقامات ہیں جو جنگ کے دہانے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان میں شام، ساؤتھ چائنا سمندر اور کشمیر کا تنازع ایسے جوہری بارود خانے ہیں جن پر اگر غلطی سے بھی کوئی چنگاری گر گئی تو تیسری عالمی جنگ جو آخری جنگ ہو گی نوشت�ۂ دیوار بن جائے گی۔۔۔ درج بالا تینوں بارود خانوں میں کشمیر کا بارود خانہ سب سے زیادہ حساس ہے۔ اس کی وجوہات کا علم ہم سب کو ہے۔ جو عالمی طاقتیں اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ کشمیر سے بہت دور بیٹھی ہوئی ہیں اِس لئے وہ بچ جائیں گی تو یہ ان کی سب سے بڑی اور بھیانک بھول ہو گی۔

آپ نے خبروں میں پڑھا ہو گا کہ پاکستان نے گلگت بلتستان کی فضائی حدود میں تمام سویلین پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ شیخوپورہ اور کالا شاہ کاکو کے درمیان موٹروے کے درمیان آمدورفت کی دوطرفہ تین تین سڑکوں کو الگ کرنے والی دیواروں کو ہٹا دیا گیا ہے تاکہ بوقت ضرورت اِس موٹروے کو اضافی رن ویز (Runways) کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ پاکستان آرمی نے بھارت کی طرف سے سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیوں کا توڑ کرنے کے لئے اُن علاقوں میں دفاعی انتظامات مکمل کر لئے ہیں، جن پر ان سٹرائیکوں کا خطرہ ہے۔ پوشیدگی اور اخفاء کی وجہ سے شائد اس کی تفصیل میڈیا پر نہیں دی جا رہی۔ بظاہر سارا پاکستان حسبِ معمول چل رہا ہے، کوئی ایسے آثار نظر نہیں آ رہے کہ جنگی جنون کی فضا پیدا کر کے بھارت کی جوابی نقالی کی جائے۔ لیکن حفظ ما تقدم تو شرط اول ہے۔۔۔۔ ہمارے وزیراعظم نے تو سارے مسائل و معاملات پر بھارت کو دوطرفہ مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ اب دیکھتے ہیں میڈم سشما سوراج ان کے جواب میں آج کیا فرماتی ہیں اگر اُڑی میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور خوراک کے ڈبوں پر Made in Pakistan لکھا ہوا دکھا کر ہی عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنا ہے تو ’’بھگوان‘‘ کے لئے ایسا کر کے اپنی مزید جگ ہنسائی کا سامان نہ کریں۔ لوگ پہلے ہی پیلٹ اور مرچی گنوں کے آپریشنوں کے آئنوں میں آپ کا چہرہ دیکھ چکے ہیں!

مزید : کالم


loading...