40سالوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار ورکرز کو بیرون ملک بجھوایا ،ایم ڈی او ای سی

40سالوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار ورکرز کو بیرون ملک بجھوایا ،ایم ڈی او ای سی

  



اسلام آباد(ڈی این ڈی )منیجنگ ڈائریکٹر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (او ای سی) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کو آگا ہ کیا ہے کہ او ای سی کا مقصد پاکستانی ورکرز کو بیرون ممالک بہتر کام کے مواقع میں مدددینا ہے اور اس کے قیام سے اب تک 40 سالوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار ورکرز کو بیرون ملک بجھوایا جا چکا ہے۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز چیئرمین کمیٹی سینیٹر باز محمد خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا جس میں سینیٹرز سید الحسن مندوخیل ، مس نجمہ حمید، لیفٹنٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ، رحمان ملک،حاجی سیف اللہ خان بنگش، نگہت مرزا، اور شاہی سید کے علاوہ وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز پیرسید صدرالدین شاہ راشدی ، ایم ڈی اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن ، سیکرٹری لیبر کے پی کے ، سیکرٹری ورکر ویلفیئر فنڈ ، سیکرٹری ورکر ویلفیئر بلوچستان کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں اوور سیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن اور بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مختص اور استعمال بجٹ کے علاوہ ادارے کی کارکردگی میں بہتری کیلئے قانون سازی کی تجاویز ، ورکز ویلفیئر بورڈ شہباز عظمت خیل بنوں خیبر پختونخوا اور ژوب بلوچستان میں سکولوں کی تعمیر کے معاملات کے علاوہ ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی تقرریوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔اجلا س کے دوران ایم ڈی او ای سی نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپویشن 1976 میں قائم ہوئی اور اب تک 40 سالوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار ورکرز کو بیرون ملک بجھوایاجا چکا ہے ،ادارے کے چار علاقائی دفاتر ہیں اور اس کا مقصد پاکستانی ورکرز کو بیرون ممالک بہتر کام کے مواقع میں مدددینا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بیرون ممالک جانے والے لوگوں کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کے پیش نظر حکومت نے اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن قائم کی ،یہ ادارہ حکومت سے کوئی بجٹ نہیں لیتا، اپنی آمدن کے حساب سے اخراجات کرتا ہے، آمدن کے ذرائع میں او ای سی سروسز چارجز ، ٹریول ایجنسیوں کی آمدن ، سرمایہ کاری کا منافع ، کورین زبان میں ٹریننگ اور درخواستوں کی فیس وغیرہ شامل ہیں۔ ایم ڈی او ای سی نے کہا کہ کوریا میں ایک لاکھ ورکرز کام کر رہے ہیں جس پر سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ادارہ ورکر سے 40 ہزار اور 65 ہزار کے حساب سے چارج کرتا ہے جو کہ امیگریشن قوانین 1979 کے خلاف ہے، اس کا تفصیلی جائزہ لے کر آئندہ اجلاس قانونی حیثیت بارے آگاہ کیا جائے اور سکل ورکرز کی تعداد بڑھانے کیلئے حکومت زیادہ سے زیادہ اقدامات اٹھائے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں تاکہ زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے ۔ وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز پیرسید صدرالدین شاہ راشدی نے کہا کہ یہ صوبوں کا معاملہ ہے ہم صرف گائیڈ لائن فراہم کر سکتے ہیں ۔سینیٹر لیفینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہاکہ کارپوریشن ورکرز سے جتنی فیس وصول کرتی ہے اس کے بہتر نتائج سامنے آنے چاہیے اور پورے ملک سے سکل ورکرز کو تلاش کیا جائے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...