بزرگ پنشنرز کی ڈبل پینشن سے کٹوتی نہ کرنے کے حکم امتناعی میں توسیع

بزرگ پنشنرز کی ڈبل پینشن سے کٹوتی نہ کرنے کے حکم امتناعی میں توسیع

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے وزارت خزانہ پنجاب کوبزرگ پنشنرز کو فراہم کی جانے والی ڈبل پینشن سے کٹوتی نہ کرنے کے حکم امتناعی میں توسیع کردی ہے ۔عدالت نے 75سالہ ریٹائرڈ بزرگ سرکاری ملازمین کو عدالتی حکم کے مطابق دوہری پینشن کی ادائیگی یقینی بنانے کا بھی حکم دیاہے۔ جسٹس سید منصورعلی شاہ نے ڈبل پینشن سے کٹوتی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ بزرگ پنشنرز نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود وزارت خزانہ ڈبل پیشن کی ادائیگی کے بجائے بیس فیصد کٹوتی کررہی ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وزیر اعلی پنجاب کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فنڈز کی منظوری کا امکان ہے،وزیراعلیٰ سے منظوری کے بعد بزرگ پینشنرز کو ادائیگی شروع کر دی جائے گی جس پر فاضل جج نے ریمارکس دئیے کہ عدالت بزرگ پینشنرز کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کرے گی، عدالت نے مزیدریمارکس دیئے کہ محکمہ خزانہ ان بزرگ پنشنرز پر ترس کھائے اوران کے چہرے دیکھ کر فیصلہ کرے، یہ لوگ ہر تاریخ پر امید لے کر آتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ نے اپریل سے پنشنرز کیس کا فیصلہ دیا ہوا ہے لیکن ابھی تک محکمہ خزانہ نے پنشن کی ادائیگی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، عدالت نے مزید قرار دیا کہ اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ محکمہ خزانہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے یا نہیں ،اگر کوئی حکم امتناعی ہے تو دکھائیں ،ہائیکورٹ کی کارروائی سپریم کورٹ میں زیرسماعت کسی درخواست سے مشروط نہیں ، عدالت نے محکمہ خزانہ کو مزید حکم دیا کہ 10اکتوبر تک 12سالہ پنشن کیس میں تمام بزرگوں کی پنشن کی رقوم کا تعین کر کے رپورٹ پیش کی جائے، درخواست پر مزید سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

پنشن کیس

مزید : صفحہ آخر


loading...