پنجاب بھر میں ناقص اور غیر معیاری سلنڈروں کی تیاری اور فروخت جاری، انتظامیہ خاموش

پنجاب بھر میں ناقص اور غیر معیاری سلنڈروں کی تیاری اور فروخت جاری، انتظامیہ ...

  



لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں ناقص اور غیر معیاری سلنڈروں کی تیاری اور فروخت کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا، اوگرا سے منظور شدہ صرف چند کارخانے جبکہ 485 غیر قانونی کارخانوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اوگرا کے سٹینڈرز کے مطابق گھریلو سلنڈر کا وزن 14 سے 15 کلو گرام اور قیمت 3 ہزار ہونی چاہیے جبکہ غیرقانونی کارخانوں میں تیار ہونے والے سلنڈروں میں گھریلو سلنڈر کا وزن 8 سے 9 کلو گرام اور قیمت 50 سے 60 فیصد کم ہوتی ہے جو کہ ہلکی کوالٹی اور ناقص ہونے کے باعث حادثات کو جنم دیتے ہیں جس کے باعث روزانہ دو سے تین قیمتی جانوں کا ضیاع اور لاہور سمیت پنجاب بھر میں سال 2016ء کے دوران اب تک 500 جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے چیئرمین اوگرا عظمیٰ عادل کو ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں معیاری اور غیر معیاری سلنڈروں کی تیاری ، فروخت اور اس سے پیش آنے والے حادثات کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اوگرا کی منظوری کے بغیر غیر قانونی کارخانوں میں غیر معیاری اور ناقص سلنڈروں کی تیاری کا دھندہ عروج پر ہے اور ناقص اور غیر قانونی سلنڈرروں سے مارکیٹیں بھر کر رہ گئی ہیں جس میں 485 سے زائد ایسے کارخانے ہیں جو کہ اوگرا سے منظور شدہ نہیں ہیں اور ان غیر قانونی کارخانوں میں زیادہ تر تعداد گوجرانوالہ میں بتائی گئی ہے اور ان کارخانوں میں سلنڈروں کی تیاری کے دوران ناقص میٹریل کا استعمال کیاجاتا ہے جو کہ تیار ہونے والے سلنڈر انتہائی ناقص اور غیرمعیاری ہوتے ہیں اور ان سلنڈروں کا جہاں وزن کم ہوتا ہے وہاں ان سلنڈروں کی قیمتوں میں 50 سے 60 فیصد کمی ہوتی ہے، جس میں گھریلو سلنڈر جس کا اوگرا کے معیار کے مطابق کم سے کم 14 سے 15 کلو گررام وزن اور اس کی قیمت کم سے کم 3 ہزار ہونی چاہیے۔ جبکہ کمرشل سلنڈر (خالی) کا وزن 42 سے 45.4 کلوگرام ہونا چاہیے ، جبکہ ان غیر قانونی کارخانوں میں جو سلنڈرز تیار کیے جاتے ہیں وہ ناقص اور غیرمعیاری ہیں اور ان سلنڈروں کا وزن اوگرا کے سٹینڈرز کی بجائے 5 سے 6 کلو گرام وزن کم ہوتا ہے اور اس کی قیمت 3 ہزار کی بجائے 14 سے سے 15 سو روپے ہوتی ہے جو کہ ناقص اور غیرمعیاری ہونے کے باعث پھٹ جاتے ہیں جس کے باعث حادثات نے جنم لے رکھا ہے اور اس میں ڈی سی اوز اور پولیس کی خاموشی کے باعث واقعات بڑھ کر رہ گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اوگرا کی چیئرمین نے رپورٹ پیش ہونے پر اوگرا سے منظور شدہ کمپنیوں کو پروڈکشن 50 سے 60 فیصد زیادہ کرنے کا حکم دیا ہے اور غیرقانونی کارخانوں کا نوٹس لیتے ہوئے ایک ماہ کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس حوالے سے اوگرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غیرمعیاری اور ناقص سلنڈروں کی تیاری والے کارخانوں کو سیل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بھی مدد حاصل کی جائے گی جبکہ چیئرمین ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن محمد عرفان کھوکھر کاکہنا ہے کہ معیاری اور سستے سلنڈروں کی تیاری کیلئے خام مال پر ڈیوٹی ختم کی جائے جبکہ غیر معیاری سلنڈروں کی تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی لگائی جائے وگرنہ حادثات نہیں رُک سکیں گے۔

مزید : صفحہ آخر