اداروں کی عظمت اور شان افراد قوت کی صلاحیتوں اور محنت کی مرہون منت ہے، ناصر درانی

اداروں کی عظمت اور شان افراد قوت کی صلاحیتوں اور محنت کی مرہون منت ہے، ناصر ...

  



پشاور( کرائمز رپورٹر )انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ناصر خان دُرانی نے آ ج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ ایک تقریب میں صوابی پولیس کے انوسٹی گیشن آفیسر کو بہترین پیشہ ورانہ تفتیش پر نقد انعام اور توصیفی اسناد سے نوازا۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کالو خان کی حدود میں چندملزمان نے رات کی تاریکی میں ایک گھر میں گھس کر باپ اور بیٹے کو بے دردی سے قتل کردیا۔ اس کیس کی تفتیش تھانہ کالوخان کے اس وقت کے انوسٹی گیشن آفیسر سب انسپکٹر سید جمیل خان کو سونپی گئی جنہوں نے دن رات سخت محنت کرکے سائنسی خطوط پر کڑی سے کڑی ملاکر تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام متعلقہ اور دستیاب ضروری اور اہم شواہد اکٹھاکئے۔ انہوں نے مقدمے کے تمام شواہد اور حقائق کو نہایت مہارت کے ساتھ ریکارڈ پرلایا جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور متعلقہ عدالت سے پانچوں ملزمان کو سزا دینے میں کامیاب ہوئے۔ انکی بہترین پیشہ ورانہ مہارت اور مثالی تجربے سے پانچوں ملزموں کو دودوبارسزائے موت اور ہر ایک ملزم کو دس دس لاکھ روپئے کی جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ یہاں یہ امرقابل ذکر رہے کہ سب انسپکٹر سید جمیل خان تفتیش کے شعبہ میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ اُن کا شمار خیبر پختونخوا پولیس کے ماہر اور تجربہ کار تفتیشی افسروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے پچھلے تین سالوں کے دوران 90 مختلف نوعیت کے مقدمات یعنی قتل ، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کیسز کی تفتیش کی جن میں تمام کے تمام ملزمان کو سزائیں ہو ئیں۔ جن میں 26 افراد کو سزائے موت کی سزائیں شامل ہیں۔ جبکہ بعض ملزمان کو 25 سال سے لیکر 82 سال کی قید کی سزائیں بھی ہوئیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر سید جمیل خان کی تفتیشی گُر اور مہارت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں پولیس فورس کا قیمتی اثاثہ قرار دیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ اداروں کی عظمت اور شان ان کے افرادی قوت کی صلاحیتوں اور محنت شاقہ کی مرہون منت ہوتی ہے۔ اور سید جمیل خان کی پیشہ ورانہ لگن، مہارت، تجربے اور کوششوں کو فورس کے جوانوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔ اس موقع پر آئی جی پی نے تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر سید جمیل خان کو 10 ہزار روپے نقد انعام اور توصیفی اسناد سے نوازا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر