سعودیہ کا یوم الوطنی اور حج2016ء

سعودیہ کا یوم الوطنی اور حج2016ء
سعودیہ کا یوم الوطنی اور حج2016ء

  



سعودی عوام آج اپنے قیام کی84ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔سعودی عوام کے مطابق آج 23 ستمبر 2016ء یوم الوطنی ہے۔ 1932ء کو قائم ہونے والی عظیم اسلامی ریاست اپنے84ویں یوم آزادی کے موقع پر سخت آزمائش کا شکار ہے، طاغوتی قوتیں جو1400سال پہلے سے حرمین شرمین کی دشمن چلی آ رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں اُن کی طرف سے سعودی سلطنت کو تنہا کرنے اور معاشی بدحالی کا شکار کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ پاک سعودی لازوال دوستی بھی نئے سرے سے باہمی رشتوں میں استوار ہو رہی ہے۔ اہلِ پاکستان کے دِل اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ دھڑک رہے ہیں، اُمت مسلمہ کو سعودی عرب کی صورت میں انمول تحفہ دینے والے شاہ عبدالعزیز کی اُمت مسلم کی رہنمائی اور مشکل وقت میں مدد کی خوبصورت روایت کو اُن کے جانشین احسن انداز میں پورا کر رہے ہیں۔شاہ فیصل مرحوم، شاہ فہد مرحوم، شاہ عبداللہ مرحوم ، شاہ سلمان نے اپنے والدِ گرامی کی حرمین شرمین کی خوبصورت توسیع اور حفاظت کے لئے شروع کی گئی سنہری روایات کو جس انداز میں آگے بڑھایا ہے، وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہیں، بلکہ موجودہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ولی عہد، وزیر دفاع شہزادہ محمد بن نائف اور نائب ولی عہد و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان مبارک باد کے مستحق ہیں، جنہوں نے ہرد شمن دین کی طرف سے عالم اسلام کو بدنام کرنے اور عدم تحفظ کا شکار کرنے کی ساری سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔ مملکت سعودیہ کی پاکستان سے دوستی اور اسلامی بھائی چارہ نئی منازل طے کر رہا ہے۔ اہلِ پاکستان کے دِل حرمین شریفین کے اور اس کے باسیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو، اہلِ سعودی عرب اور سعودی عوام نے پاکستان کو کبھی مشکل میں تنہا نہیں چھوڑا، کوئی آفت ہو، زلزلہ ہو، معاشی مشکلات ہوں ہمیشہ ساتھ نبھایا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے سعودی حکمرانوں کے ساتھ گہرے مراسم کا فائدہ بھی اہلِ پاکستان کو ہی ملا ہے۔ آج جب سعودیہ کا قومی دن ہے مَیں مدینہ منورہ میں ہوں۔ سعودی عوام سعودی اداروں کی طرف سے خوبصورت روایات دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی قومی تہوار آتے ہیں ، ان پر کیا ہوتا ہے اور سعودیہ کے قومی تہوار پر کیا ہو رہا ہے، اس کا تذکرہ آخر میں کریں گے۔ پہلے خادم حرمین شریفین کی طرف سے حج سیزن 2016ء کا ذکر ہو جائے جو اُمت مسلمہ کے لئے ایک بڑی آزمائش سے کم نہیں تھا۔ حج سیزن کو متاثر کرنے کی سازشیں، دھمکیاں گزشتہ کئی ماہ سے آ رہی تھیں اور یہ دھمکیاں محض دھمکیاں نہیں تھیں، بلکہ سعودی دشمنان پہلے بھی کامیاب وار کر چکے ہیں،جسے سعودی اداروں نے بڑی دانشمندی کے ساتھ ناکام بنایا ہے۔ حج 2016ء کو خصوصی ٹارگٹ کیا جا رہا تھا، اس کو کسی صورت پُرامن نہیں رہنے دیا جائے گا اور یہ دھمکیاں خفیہ نہیں تھیں، بلکہ دھڑلے کے ساتھ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر دی جا رہی تھیں۔ حج2016ء جو18لاکھ سے زائد افراد نے کیا اور جس اندازمیں سعودی اداروں نے انتظام کیا وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ولی عہد و وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف کا کہنا ہے حج2016ء سیزن بڑے چیلنج سے کم نہ تھا، سیکیورٹی اداروں کا امتحان تھا، اللہ کے فضل سے ہمارے سیکیورٹی ادارے توقعات پر پورے اُترے، ہم علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر سخت حالات سے نبرد آزما تھے، مگر حج سیکیورٹی اداروں نے انتہائی مہارت سے ہر مشکل کو آسان بنا دیا۔ولی عہد کی باتیں صرف بیان نہیں ہیں، مَیں بقلم خود اس کی تصدیق کرتا ہوں۔ گزشتہ دس سال میں جتنا آسان حج یہ تھا ، اس سے پہلے کبھی نہیں تھا، کنکریاں مارنے کے لئے کی گئی منصوبہ بندی کی جتنی داد دی جائے کم ہے۔جب ہم 10،11اور12ذوالحج کو کنکریاں مارنے گئے تو سعودی اداروں کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی۔وہیل چیئر والے مریضوں اور بزرگ خواتین نے بھی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر کنکریاں ماریں، افواہیں سرگرم رہیں، مگر سعودی سیکیورٹی اداروں نے تمام مشکلات کو آسان بنا کر ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ مشکل حالات میں دُنیا بھر سے آئے ہوئے 18لاکھ 62ہزارسے زائد افراد کے لئے مناسک حج کی احسن انداز میں تکمیل معمولی بات نہیں ہے۔ مبارک باد کے ساتھ ساتھ خادم حرمین شریفین اور ان کی ٹیم کے لئے دُعاؤں کی بھی ضرورت ہے، اللہ دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنائے۔ آخر میں پاکستانی قومی تہواروں اور سعودیہ کے مبارک قومی دن پر ہونے والی سرگرمیوں کا ذکر ہو جائے، راوی میں خود ہوں، پاکستان میں سعودیہ جیسی روایات کے آغاز کی ضرورت ہے۔ پاکستانی عوام کو ان روایات سے روشناس میڈیا کرا سکتا ہے۔وہ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا یا پرنٹ میڈیا اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ہمارے قومی تہوار وہ عید ہو یا شبِ برأت یا یوم آزادی پاکستانی جھنڈے فروخت کرنے والا بھی چُھری پکڑ لیتا ہے،رمضان کی بابرکت رحمتوں کو سمیٹنے کی بجائے یہ روزے کو پورے سال کی کمائی سے مشروط کرتا ہے۔ سعودی عرب میں مَیں نے پاکستانی معاشرے سے برعکس دیکھا سعودیہ کے قومی دن کے موقع پر مکہ مدینہ کے ہوٹلوں نے 1000ریال والا کمرہ300ریال میں کر دیا ہے، دکانداروں نے فرضی نہیں عملی اور رعایتی سیلز لگا رکھی ہیں۔ مبارک دن میں ہر فرد ایثار اور قربانی کی مثال نظر آ رہا ہے، دعوتوں میں ایک دوسرے کو شریک کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، مہمان نوازی کی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں، سعودیہ کو قومی دن مبارک ہو، اللہ تعالیٰ حرمین شرمین کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے اور سعودی روایات پاکستان میں بھی آ جائیں! آمین

مزید : کالم


loading...