سندھ میں 128 لائسنس یافتہ شراب خانے ہیں ، مکیش کمار

سندھ میں 128 لائسنس یافتہ شراب خانے ہیں ، مکیش کمار

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر ) وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ نے کہا ہے کہ صوبے میں 128 لائسنس یافتہ شراب خانے ہیں ۔ یہ لائسنس صرف غیر مسلم افراد کو جاری کیے جاتے ہیں ۔ وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالوں کے جوابات دے رہے تھے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جہاں اقلیتی آبادی زیادہ ہوتی ہے ، وہاں ووٹ لسٹ دیکھ کر شراب خانے کے لائسنس جاری کیے جاتے ہیں ۔ گذشتہ تین سال سے کوئی لائسنس جاری نہیں ہوا ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے کہا کہ ڈیفنس اور کلفٹن میں سیکڑوں لوگ شراب خانوں کے باہر کھڑے ہو کر شراب پیتے ہیں ۔ وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے کہا کہ اس بات کی کسی کو اجازت نہیں ہے ۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ پانچ سال قبل یہ فیصلہ ہوا تھا کہ نئے لائسنس جاری نہیں کیے جائیں گے ۔ مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ 2013 سے کوئی نیا لائسنس جاری نہیں ہوا ہے ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کے ضمنی سوال پر صوبائی وزیر نے بتایا کہ موٹر وہیکل ٹیکس کی مد میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے قبل 7 ارب روپے وصول ہوتے تھے ۔ رواں سال 52 ارب روپے کی وصولی کا ہدف ہے ۔ نصرت سحر عباسی اور مکیش کمار چاولہ کے درمیان ضمنی سوالوں پر کچھ نوک جھونک بھی ہوئی ۔ مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ میری وزارت سے نصرت سحر عباسی کو کیا تکلیف ہے ۔ نصرت سحر عباسی نے کہا کہ مجھے تکلیف کیوں ہو گی ۔ میں رکن اسمبلی ہوں ۔ مجھے جواب دیا جائے ۔ اسپیکر نے تکلیف کا لفظ کارروائی سے حذف کرا دیا ۔ نصرت سحر عباسی نے کہا کہ سندھ میں تبدیلی آئی ہے ۔ میں اسے تسلیم کرتی ہوں ۔ وزراء اور سرکاری ملازمین صبح جلدی دفتر آتے ہیں لیکن ہمارے سوالات کے جوابات بھی جلدی دیئے جائیں ۔ وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے کہا کہ 2009-10 میں مختلف ٹیکسوں کی مد میں محکمہ کو 17 ارب 13 کروڑ 99 لاکھ کی آمدنی ہوئی جبکہ 2012-13 میں 27 ارب روپے سے زائد کی آمدنی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ 2009 سے 2013 تک محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 598 کلو گرام ہیروئن ، 25982 کلو گرام چرس اور گانجا ، 93 کلو گرام افیون اور 6100کلو گرام ڈوڈی ضبط کی ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...