ریاست کی رٹ بحال،جغرافیائی حدود کے ہر انچ پر ہماری عملداری ہے،نوازشریف

ریاست کی رٹ بحال،جغرافیائی حدود کے ہر انچ پر ہماری عملداری ہے،نوازشریف
ریاست کی رٹ بحال،جغرافیائی حدود کے ہر انچ پر ہماری عملداری ہے،نوازشریف

  



نیویارک (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ20 کروڑ کی نوجوان اور فعال آبادی، صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب اور اس کے ساتھ ساتھ مستحکم معیشت اور سلامتی کی بہتر صورتحال کے تناظر میں پاکستان منافع بخش سرمایہ کاری اور تجارت کیلئے شاندار مواقع کی پیشکش کرتا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ کیلئے امریکی منڈیوں تک ترجیحی تجارتی رسائی دی جائے تاکہ پاکستان اور امریکا کے کاروباری افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کرنے کے شفاف مواقع حاصل ہو سکیں، دوطرفہ تجارت کے فروغ کیلئے اس طرح کا انتظام ضروری ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے ان خیالات کا اظہار امریکا پاکستان بزنس کونسل اور امریکی ایوان صنعت و تجارت کی جانب سے مشترکہ طور پر دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ا نہوں نے کہا کہ ہماری معاشی کامیابیاں خاص طور پر قابل تعریف ہیں کیونکہ یہ کامیابیاں ہم نے ایسے وقت میں حاصل کی ہیں جبکہ ہم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اہم آپریشنز میں مصروف ہیں، یہ آپریشنز ملک بھر میں دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے شروع کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہااللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم ریاست کی رٹ بحال کرنے کے قابل ہوئے ہیں اور اپنی جغرافیائی حدود کے ہر انچ پر ہماری عملداری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میںسلامتی کی بہتر صورتحال سے پہلے ہی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں نجی شعبہ پر پختہ یقین رکھتے ہوئے ان کی حکومت نے ایسی پالیسیاں تشکیل دی ہیں جن سے نجی، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پھلنے پھولنے کا موقع میسر آیا ہے اور انہیں بہترین ماحول فراہم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔وزیراعظم نے کشمیریوں کی ترجمانی کی،بھارت جتنا چاہے چیخ لے،تاریخی حقائق نہیں بدل سکتے، پاکستان

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری پالیسی 2013ءخطے میں آزادانہ سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتی ہے جس میں سو فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت دی گئی ہے اور کاروبار کرنے کیلئے طریقہ کار کو آسان اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کیا گیا ہے اور صنعت و تجارت کیلئے روابط پیدا کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی، تیل و گیس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، کنزیومر گڈز، مالیاتی خدمات اور سرمائے کی منڈیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع موجود ہیں۔وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ امریکی ایوان تجارت اور امریکا پاکستان بزنس کونسل دونوں ممالک کو اس سلسلے میں قریب لانے اور امریکی انتظامیہ اور کانگریس کو اس کی افادیت پر قائل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام اور کاروباری افراد کے مابین تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے یہ مددگار ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ مضبوط تجارتی اور اقتصادی تعلقات عوام کی سطح پر مستحکم اور طویل المدتی روابط کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہاامریکا پاکستان کا اہم اقتصادی اور تجارتی شراکت دار رہا ہے، یہ شراکت داری دونوں ممالک کے نجی کاروباری افراد کیلئے فائدہ مند ہے اور پاکستان کی ترقی کیلئے بھی ناگزیر ہے تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کا حجم عالمی رجحانات کے مطابق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا ادراک کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما اور میں نے اکتوبر 2013ءمیں ہونے والی ملاقات میں آئندہ پانچ سالوں کے دوران دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین گہرے تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے شرکاءسے کہا کہ بحیثیت کاروباری رہنما سرمایہ کار اور صنعت کار آپ کا کردار دونوں حکومتوں کو ان مواقع سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے قابل بنانے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جون 2013ءمیں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے معیشت کو صحیح سمت میں گامزن کرنا، توانائی بحران پر قابو پانا، دہشتگردی و انتہاءپسندی سے نمٹنا اور تعلیم میں سرمایہ کاری میری حکومت کی اہم ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں ہونے والی ترقی کی تفصیلات سے آپ کو آگاہ کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دلیرانہ اقتصادی اصلاحات کے نتیجہ میں ان کی حکومت نے تمام اہم اقتصادی اعشاریوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے اور بجٹ خسارے میں کمی آئی ہے۔ پاکستان میں کچھ اقتصادی اشاریوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت پاکستان میں افراط زر 3 فیصد سے نیچے آ چکا ہے جو کہ گزشتہ 47 سالوں میں سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے مئی 2016ءمیں اپنی مالیاتی پالیسی میں ڈسکاﺅنٹ ریٹ 5.75 فیصد تک کم کرنے کا اعلان کیا اور یہ بھی گزشتہ چار عشروں میں سب سے کم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مورگن سٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل کی جانب سے کراچی سٹاک ایکسچینج کو ابھرتی ہوئی مارکیٹ قرار دیا جانا ایک اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہو چکی ہے اور سال 2015-16ءمیں 4.71 فیصد گروتھ دیکھی گئی ہے جو کہ گزشتہ عشرے میں سب سے زیادہ ہے۔

بھارت کو سب سے بڑا دھچکا،ایک ایسے ملک کی فوج پاکستان پہنچ گئی کہ جان کر مودی کو راتوں کو نیند نہیں آئے گی،تفصیلات کیلئے کلک کریں

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تذویراتی نجی شعبہ کی شمولیت کے پروگرام کی کامیاب بحالی کا دوبارہ آغاز ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے تھری جی اور فور جی سپیکٹرم لائسنسوں کی کامیاب نیلامی کی، جس سے ملک میں مواصلات اور ڈیٹا ٹرانسفر کے وسیع تر مواقع میسر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام جلد مکمل کر لے گا، پاکستان کی تاریخ میں دوسری مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب تکمیل پاکستان کی بہتر معیشت اور حکومت کی طرف سے معاشی شعبہ میں کی گئی اصلاحات کی مضبوط عکاسی کرتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 12.5 فیصد پہنچ گئی ہے جبکہ موجودہ حکومت کو جب ورثہ میں تباہ شدہ معیشت ملی تو یہ شرح 9 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس شرح میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے جس کے حصول کیلئے ہم پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بہترین سٹاک مارکیٹس کے طورپر کام کر رہی ہے اور گزشتہ مالی سال کے اختتام پر یہ 37783 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ 40500 پوائنٹس پر کاروبار کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فوربز نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں عالمی سطح پر اقتصادی لحاظ سے ایک کامیاب مقام حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور ہم امریکا کے تذویراتی شراکت دار بننے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جم اونل آف گولڈ مین ساکس نے پاکستان کو 11 معیشتوں کے گروپ این الیون میں شامل کیا ہے جن کے بارے میں آئندہ عشرے کے دوران تیزی سے اقصادی اقتصادی ترقی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوم برگ نے پاکستان کو 2014ءمیں بہترین کارکردگی کی حامل 10منڈیوں میں تیسرے نمبر پر اور 2016ءمیں ممکنہ سرمایہ کاری کے بہترین ممالک میں 14ویں نمبر پر شمار کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی بہترین بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی اقتصادی ماہرین سمیت تمام نے پاکستان کی گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران معیشت کو بہتر بنانے کیلئے حاصل کی جانے والی کامیابیوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹینڈرڈ اینڈ پورر اور موڈیز دونوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم سے مثبت کر دیا ہے، اس کے علاوہ فچ نے بھی پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم شمار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک اور بڑا چیلنج جو پاکستان کو درپیش ہے وہ توانائی کی قلت ہے اور مجھے خوشی ہے کہ حکومت کی جانب سے اختیار کردہ جامع حکمت عملی کی بدولت توانائی کی ترسیل، کم از کم صنعتی شعبہ کیلئے، پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور اس میں مزید بہتری آئے گی۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...