پاک بھارت جنگ کا خطرہ ،عالمی دنیا مسئلے کی طرف متوجہ ہو، سراج الحق

پاک بھارت جنگ کا خطرہ ،عالمی دنیا مسئلے کی طرف متوجہ ہو، سراج الحق
پاک بھارت جنگ کا خطرہ ،عالمی دنیا مسئلے کی طرف متوجہ ہو، سراج الحق

  



اسلام آباد(صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ نوازشریف نے اقوام متحدہ میں کشمیری ایشو کو زندہ کردیا ہے، ان کے اس اقدام کو سراہتے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ جب کشمیری تحریک آزادی کیلئے کٹنا مرنا شروع کردیں تو پاکستان بھی کچھ دنوں کیلئے جاگے اور پھر سوجائے اس کیلئے مسلسل جدوجہدکی ضرورت ہے۔ اس کیلئے کل جماعتی کانفرنس ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس بلانے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے پر مجبور ہوجائے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں امیر جماعت اسلامی نے کہا مقبوضہ کشمیر میں آج کرفیو کا 78واں دن ہے۔ جس علاقے میں کرفیو کو اتنے دن گزر جائیں وہاں پانی ،خوراک ،بچوں کے دودھ سکول اور کالجز کا کیا حال ہوگا۔بھارتی قوم نے پورے معاشرے کو جیل میں بند کررکھا ہے۔ چند دنوں میں بھارتی افواج نے ساڑھے تین ہزار سے زائد سیاسی ورکروں کو جیل میں ڈال دیا ہے اور ساڑھے دس ہزار سے زائد لوگوں کو زخمی کیا گیا ہے۔

بھارت نے براہمداغ بگٹی کی سیاسی پناہ کی درخواست کی تصدیق کردی،پاکستان نے کیا ردعمل دیا؟جاننے کیلئے کلک کریں

ہر روز پچاس سے ساٹھ لوگ آنکھوں کی بینائی سے محروم ہورہے ہیں۔ اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر کی ساری قیادت جیلوں میںہے۔ ظالمانہ ایکٹ کا مسلسل نفاذ ہورہا ہے۔ کشمیریوں پر بے انتہاءظلم ہورہا ہے۔ نوازشریف نے اقوام متحدہ میں کشمیری ایشو کو زندہ کردیا ہے۔ حکومت کے ہر مثبت اقدام کو سراہیں گے تاہم کراچی میں ''را''کی مداخلت بلوچستان میں مداخلت اور کلبھوشن کا ذکر نہیں کیا۔ جبکہ امریکی صدر کی تقریر ادھوری ہے۔ اس نے کشمیر کا ذکر شاید بھارت کی ناراضگی کی وجہ سے نہیں کیا۔ ہم چائنہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلے پر کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ممالک میں اس پر محدود جنگ کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیئے عالمی دنیا کو اس مسئلے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ایک تقریر کی ہے لیکن یہ صرف ایک تقریر کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس لیئے بے شمار اقدامات ہونے چاہئیں بین الاقوامی طور پر لابنگ ہونی چاہیے۔

مزید : اسلام آباد


loading...