بے نظیر بھٹوشہید تاج محل میں سورہی ہیں

بے نظیر بھٹوشہید تاج محل میں سورہی ہیں
بے نظیر بھٹوشہید تاج محل میں سورہی ہیں

  



تحریر: ببرک کارمل جمالی

وہ عید کا دن تھا ۔دوستوں نے تجویز کیاکہ اس باراپنی اپنی عید کو خوب تر بنانے کیلئے کیوں نہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے مزار کا رخ کیا جائے اور یہ سفر بھی موٹر بائک پر ہونا چاہئے۔لہذا سب نے بائیکس نکالیں اور جعفرآباد سے گڑھی خدا بخش کا رخ کیا۔ فاصلہ تقریباً ایک سو چالیس کلومیٹر بنتا ہے۔راستے میں چائے وائے پی ،اسکا بھی اپنا ہی ذائقہ ہے۔سڑک کنارے ہوٹلوں کی کڑک چائے پینے والے بخوبی جانتے ہیں۔ چائے کے لئے ہم نے ’’اچابک ہوٹل‘‘ پہ چائے پی تو بدمزہ ہوگئے ۔یہ چائے کیا تھی گرم پانی کا قہوہ ہی سمجھ لیں۔ پیسے دیئے تو حیران رہ گئے۔ ہر روز جہاں ایک کپ بیس روپے میں پیتے تھے اب وہی کپ پچاس میں مل رہا تھا۔چائے پی کر آگے بڑھے تو بائیک کا پٹرول ختم ہوگیا ۔کسی طرح اسے الٹا کرکے پٹرول کے قطرے انجن تک پہنچائے اور پٹرول پمپ تک لے گئے ۔پیٹرول کی قیمت دیکھ کر بس دیکھتے ہی رہ گئے۔ چونسٹھ روپے کے بجائے ایک سو روپیہ لٹر ؟ حیرانی ہوئی کہ اپنے ہی ملک میں چائے اور پٹرول اتنا مہنگا بیچنے والوں کو کوئی کیوں نہیں پوچھتا۔۔۔

ہم نے زیادہ کڑھنے کی بجائے سفر جاری رکھااور’’رتو دیروں‘‘ پہنچ کر دوبارہ چائے پی۔یہاں بھی بیس کی چائے چالیس روپے فی کپ ملی ۔ ہم نے چائے پی اور محترمہ کے مزار کی طرف گامزن ہو گئے۔ اتنا رش جیسے ہم کراچی کے صدر بازار سے گزر رہے ہیں۔ آخر کار ہم محترمہ کے مزار پر پہنچ گئے ۔سنا تھا یہاں ایک بائک سٹینڈ بنایا گیا تھا لیکن اس روز بیس بائیک اسٹینڈ نظر آرہے تھے اور سب پر رش تھا۔ مزار کا احاطہ جیالوں سے بھرا ہوا تھا ۔سامنے تاج محل کی طرح سفید عمارت کا گنبد عالی شان تعمیر کا نمونہ بنا نظر آرہا تھا۔یہ بھی یادگارِ محبت ہے جہاں جمہوریت کی بیٹی سو رہی ہے۔اپنے باپ کے پہلو میں ۔۔۔منظر بہت خوبصورت تھا۔ایک کھلے میدان میں بے نظیر بھٹو شہید کا مزار انتہائی دلنشین احساس پیدا کرتا ہے۔

ہم نے سٹینڈ پر کھڑت جیالوں کو ایک بائیک کے پچاس روپے دیئے اور مزار کی طرف چل پڑھے ۔گیٹ نمبر چودہ صرف عوام کیلئے کھلا ہوتا ہے۔ اس گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ہم خوشگوار حیرت ہوئی۔ ہزاروں لوگ مزار کے سامنے میدان میں سیلفیاں لے رہے تھے۔ ہم نے بھی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سیلفی نکالنے کی کوشش کی مگر سورج کی کرنوں نے ہمیں جلا دیا۔ ہم بول پڑھے ’’سورج بابو تھوڑا ٹھنڈا ہو نا سیلفی لینی ہے‘‘ مگر کیا بتاؤں سورج نے اپنی تپش اور تیز کی تو ہم محترمہ کے مزار میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ جوتے اتارے اور ٹوکن لینا چاہا تو معلوم ہوا فی جوڑا بیس روپے ادا کرکے جوتے رکھوانے پڑتے ہیں ۔

بھٹو مزار کمیٹی کی جانب سے محترمہ بے نظیر بھٹواور ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کی بالائی منزل پر دونوں رہ نماؤں کے علامتی مزار تعمیر کردیے گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق 27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی کے موقع پر ان مزارات پر سب سے پہلے ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو فاتحہ خوانی کریں گے جس کے بعد بالائی منزل عام لوگوں کے لیے کھول دی جائے گی۔ مزارات کے چاروں طرف سنگ مر مر کی خوبصورت جالیاں لگائی گئی ہیں۔ دیواروں پر اور مرکزی گنبد کے اندرونی حصے میں انتہائی خوبصورت نقش و نگاربنائے گئے ہیں جنھیں مزید دلکش بنانے کے لیے ملٹی کلر بلب لگائے گئے ہیں۔ بالائی منزل میں چاروں طرف اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور قرانی آیات بھی کنندہ کی گئی ہیں۔ اس منصوبے کا آغاز خود محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی کیا تھا اور ابتدائی طور پرصرف ذوالفقار علی بھٹو کا علامتی مزار بنانے کا منصوبہ تھا ۔یہاں ہر روز عید کا سما ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے 4اپریل 1979ء کے عدالتی قتل کے بعد 18جولائی 1985ء کو شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت بھٹو خاندان کے لئے دوسرا بہت بڑا سانحہ تھا کیونکہ شاہنواز اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو اور ہمشیرہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بہت قریب تھے۔ بیگم بھٹو اپنے خاندان کے ہمراہ تعطیلات منانے کے لئے جنوبی فرانس میں تھیں‘ مرتضیٰ بھٹو‘ ان کی بیوی فوزیہ اور بیٹی فاطمہ‘ شاہنواز بھٹو اپنی بیوی ریحانہ اور بیٹی سسی کے ساتھ اپنی ہمشیرہ بے نظیربھٹو کے منتظر تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شیڈول کے مطابق 11جولائی کو جانے والی تھیں لیکن لندن میں بعض اہم مصروفیات اور ملاقاتوں کی وجہ سے وہ نہ جاسکیں اور 16جولائی کو لندن سے ساؤتھ آف فرانس گئیں۔ انہوں نے اپنے بھائیوں اور ان کے بچوں کے ہمراہ دو دن خوشی سے گزارے لیکن بدقسمتی ان کے تعاقب میں تھی اور رات دیر گئے شاہنواز ان کو شب بخیر کہہ کر اپنے فلیٹ میںآگئے۔ جہاں 18جولائی کو وہ پراسرار طور پر مردہ پائے گئے اور ان کی بیوی اس وقت وہاں موجود تھی جسے پولیس نے فرانسیسی قانون کے مطابق زیرحراست لے لیا کہ اس نے ایک دم توڑتے ہوئے شخص کی مدد نہ کی۔

ادھر فیملی ممبران کو یہ یقین تھا کہ شاہنواز کی موت کی ذمہ دار ان کی بیوی ریحانہ ہے۔ چنانچہ مرتضیٰ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی افغان بیوی فوزیہ کو طلاق دیدی کہ ان کے بھائی کی موت میں فوزیہ کی بہن ریحانہ کا ہاتھ ہے۔ اس طرح فیملی ہالیڈے ایک عظیم المیے میں بدل گئی۔ اگلے دن جب شاہنواز کی موت کی خبر عام ہوئی تو دنیا بھر سے اظہار افسوس کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن یہ رسائی ممکن نہ تھی۔ تعزیت کرنے والے بہت سے لوگ وہاں جانا چاہتے تھے چنانچہ بی بی ایک دن کے دورے پر لندن آئیں تاکہ پارٹی لیڈر ان سے تعزیت کرسکیں۔ سارا دن اہم رہنماؤں کے علاوہ عام کارکنوں سے صبح گیارہ سے لیکر شام تک تعزیتی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اگلی صبح وہ پھر واپس فرانس چلی گئیں۔ اس کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ چار ہفتوں تک پولیس تحقیقات کرتی رہی اور شاہ نواز کی میت اس کی تحویل میں رہی اور یہ چار ہفتے بھٹو خاندان کے لئے موت سے زیادہ اذیت کے لمحات تھے۔

بالآخر فرنچ حکام نے 20اگست 1985ء کو میت ریلیز کی اور بی بی 22اگست کو اپنے بھائی کو واپس لاڑکانہ لائیں۔ المرتضیٰ میں غسل دیا گیا اور جنازہ کے بعد آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں سپردخاک کردیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ایک ایسا نام ہے جو بول کر یا سن کر مسرت اور دکھ جیسے دونوں جذبات کیفیت پر طاری ہو جاتے ہیں۔ مسرت اور خوشی اس لیے کہ سن کر فخر محسوس ہوتا ہے اس بیٹی پر جس نے اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار کے ایوانوں سے لیکر جیل کی کالی کوٹھری تک جاتے دیکھا اور پھر راولپنڈی میں شہادت کے بعد وہ بھی اپنے والد کے پہلو میں آسودہ خاک ہوگئیں۔ان کے مزار پر آنے والوں کو سیلفیاں بنوانے والے کے علاوہ جہوریت سے محبت کا جذبہ بھی حاصل ہوتا ہے۔محترمہ کا مزارتاج محل سے کم نہیں ہے۔ جیالوں کے علاوہ سیاحوں کے لئے بھی اسکو زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ یہاں پارک اور میوزیم کی خاص طور پر کمی محسوس کی جاتی ہے۔

مزید : بلاگ


loading...