’’جنگ‘‘ سے پہلے سوچ لو!

’’جنگ‘‘ سے پہلے سوچ لو!
’’جنگ‘‘ سے پہلے سوچ لو!

  



ڈاکٹررشید گِل( کینیڈا)

ہیرو شیما اور ناگا ساکی جنگ کرنے والے ایٹمی ملکوں کے لئے ایک عبرتناک مثال ہے۔ہمارا میڈیا کیوں چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے شہروں میں یہ المناک تاریخ دہرائی جائے۔ٹھیک ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہونے کے امکان کو رَ د نہیں کیا جا سکتا لیکن مجھے یقین ہے یہ جنگ نہیں ہوگی نہ میں اسکے لئے دعا کرتا ہوں کہ جنگ ہو۔ اِس خوش فہمی کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیاں جنگ چھڑنے سے ا یٹمی جنگ شروع ہو جانے کا خطرہ ہے ۔ ا س لئے دُنیا کی بڑی طا قتیں اور اقوام متحدہ جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لئے ضرور ایسا لائحہِ عمل تیار کریں گیں جس سے فریقین کو جنگ سے سے روکا جا سکے۔ اخبارات میں ممکنہ جنگ کی خبریں جس تواتر اور انداز سے چھپ رہی ہیں اُس سے صورتِ حل کی سنگینی بلا شبہ قابِل توجہ ہے۔ لیکن ہم سجھتے ہین کہ کہ اِس نازک مقام یا موڑ پر میڈیا اور حکومتی افسروں کو ایسے غیر ضروری بیانات داغنے سے اجتناب کرنا چاہیے بلکہ جنگ سے ہونے والے نُقصانات سے عوام کو آگاہ کرنا چاہئے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔ لیکن ہماری مُشکل یہ ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹانے کے لئے جنگ کے امکان کو استعمال کرتی ہیں۔ مسئلہ کشمیر دونوں ہی ممالک کے لئے انتہائی حساس ہے۔ دونو ں ممالک کی حکومتوں نے اپنے مُفادات کی خاطر اِسکو حد درجہ تک سیاسی بنا دیا ہے۔ ۔ ہمیں ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہئے جو امن پسند ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک بغیر جانی اور مالی نقصان کے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مذاکرات سے معاملات کو طے کر لیں۔ لیکن افسوس کہ مُفاد پرست اشخاص اپنے لالچ کی خاطر دونوں حکومتوں کے اعلیٰ افسروں کو جنگ پر آمادہ کرتے رہتے ہیں بلکہ مُختلف ممالک بھی جنگ کو بند کروانے کی بجائے جنگ کے امکانات کو بڑھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ اُن کو اپنا اسلحہ بیچنے کے لئے خریدار ممالک کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ علاوہ ازیں،اُنکو دُنیا میں اپنی چوہدراہٹ کو بڑھاوا دینے لئے حلیف ممالک کی ضرورت رہتی ہے جو بڑے ممالک کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ اسلحہ بیچ کر نہ صرف منہ مانگی قیمت وصول کی جاتی ہے۔ا سلحہ ادھار پر دیکر چھوٹے ممالک کو ذہنی طور پر غلام بھی بنا لیا جاتا ہے۔ با الفاظ دیگر، بڑے ممالک چھوٹے ممالک کو اپنا حلیف بنانے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں جذباتی فیصلے نہیں بلکہ ایسے فیصلے کرنے ہونگے جو ہماری ضرورت کے مُطابق ہوں۔ ہمیں دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔ ہم دوسروں کی جنگ لڑ کر پہلے ہی نا قابلِ تلافی نقصان اُ ٹھا چُکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظا لم کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔لیکن ہمیں حیرت ہے کہ دُنیا کے عوام اِن مظالم کو ایک تماشائی کی طرح دیکھنے میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ کوئی بھی مُلک بھارت کی مذمت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ آخر کیوں؟ کیا کشمیر میں بسنے والے لوگ گوشت پوشت کے انسان نہیں؟ کیا حقِ خود اراد یت حاصل کرنا جُرم ہے؟ کیا آزادی حاصل کرنا گُناہ کبیرہ ہے؟ آزادی کی جنگ کو دہشت گردی قرار دینا انسانیت اور انصاف کے خلاف کھُلی جارحیت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو روکنے کے لئے تما م بڑی طاقتوں کو آ گے آنا چاہیے تا کہ کشمیر کے مسئلہ کو مُستقل بنیادوں پر حل کرکے دُنیا کو ایٹمی جنگ کے نُْقصانات سے بچایا جا سکے۔ لیکن افسوس کہ بڑی طاقتیں زبانی جمع خرچ کرنے میں مصروف ہیں۔ وُہ صرف اخبارات میں بیانات دیکر دُنیا میں امن قائم کر نے کا ڈرامہ رچا تی ہیں۔ عملی طور پر وُہ کچھ ایسا نہیں کرنا چاہتں جس سے اُنکے مالی اور سیاسی مُفادات پر ضرب پڑتی ہو۔ اگر دُنیا کی بڑی طاقتیں چاہیں تو ۲۴ گھنٹوں میں فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اُ نکے مقاصد امن قائم کرنے سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ جنگ کو بڑھاوا دینے سے ہوتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان جیسے مما لک بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا ہیں۔ جب تک بڑی طاقتیں نہیں چا ہیں گی کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل بدستورقا ئم رہیں گے۔ انسانیت کا خون بہتا رہے گا۔ امن اور سکون کا قتل ہوتا رہے گا۔

یاد رکھیں ، اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان مون کی حمائت ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ ہم اُنکی عزت کرتے ہیں۔ اُنکے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ ہمین یقین ہے کہ وُہ بھاتی مظالم کو بند کروانے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کروانے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں گے۔ لیکن حقیقت کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ امریکہ اور روس کی دلچسپی کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ امریکہ اور روُس بھارت کو ایک بڑی منڈی تسلیم کرتے ہیں لہذا وُہ بھارت کو کسی طرح نار اض نہیں کرنا چاہتے۔ پاکستان کے پاس روس اور امریکہ کو دینے کے لئے کُچھ نہیں بچا ہے۔ ا مریکہ نے بڑی ہوشیاری سے ہمیں افغانستان میں استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرلئے۔ اَب صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں موجود ہے اور ہم افغان بھائیوں کی مدد کرنے کے با وجود اُنکے دُشمن بن چُکے ہیں۔ علاوہ ازیں، بوجوہ روس کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں رہ سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کا محور سوچی سمجھی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اِس کا انحصار وقتی ضرورتوں پر ہے۔ جو کہ قوم اور مُلک کے لئے مُہلک ہے۔ ہمیں ایک جامعہ اور مستقل خاجہ پالیسی کی ضرورت ہے جس سے ہمارے اپنے مُلک کی ترقی ہو۔ اور یہ ترقی مُستقل بنیادوں پر ہو۔

وزیر اعظم پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں خطاب بلاشُبہ اچھا اور جاندار تھا۔ ہم اُنکو جاندار موقف اپنانے پر مُبارک باد پیش کرتے ہیں۔ مُلک کے سابقہ وزیر خارجہ جناب محمود قریشی صاحب کو بھی داد دینا چاہتے ہیں جنہوں نے وزیر اعظم کے حالیہ خطاب کی تعریف کی ہے۔ وزیر اعظم کے خطاب نے کشمیری رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے دِل جیت لئے ہیں۔ اِس حققیت سے قطعِ نظر کہ کشمیر کا مسئل حل ہوتا ہے یا نہیں، اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو زور دار انداز میں پیش کیا ہے اور بھارتی مظالم کے خلاف اثبات اور شواہد بھی پیش کئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بھارت کو نواز شریف کا حا لیہ خطاب پسند نہیں آیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مودی اور نواز شریف کے درمیاں سب کُچھ ایک منصوبے کا حِصہ ہے بلکہ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ مودی حکومت نواز شریف کو اقتدار میں رکھنے کے لئے جنگ کر نے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔ پانامہ لیکس سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے جنگ کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ کُچھ حلقوں کے مُطابق فوج نے سخت موقف اپنانے کے لئے نواز شریف کو مجبور کیا ہے ورنہ وُہ مودی حکومت سے تعلقات کو بگاڑنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہیں۔ نواز شریف پر بھارت نواز ہونے کے الزامات کافی عرصہ سے لگ رہے ہیں۔ نواز شریف کی فیکٹری سے بھارتی جاسوں کا پکڑے جانا اور پاکستان حکومت کی خاموشی ضرور اذہان میں شکوک پید ا کرتے ہیں۔ تاہم ، نواز شریف کا حالیہ خطاب اِس قابل ہے کہ اُسکی تعریف کی جائے اور تمام قسم کی سیا سی رقابت سے بالا تر ہو کر اچھے اقدام کی تعریف کی جائے۔ بھارت میں کُچھ عناصر نے نواز شریف کے سر کی قیمت بھی لگا رکھی ہے۔ جو کہ ایک غلط اور منفی سوچ ہے۔نواز شریف نے کشمیر عوام کے جذبات کی عکاسی کرکے پاکستان کے کروڑوں عوم کی ترجمانی کی ہے۔ لیکن کُچھ حلقے اِس کو پبلیسٹی کا ہتھکنڈہ قرار دیتے ہیں۔ جنگ اور محبت میں سب کُچھ ممکن ہے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ذاتی مُفادت پر مُلکی مُفادات کو ہمشیہ تر جیح دی جا ئے۔

آجکل میڈیا کا زمانہ ہے۔ اِسکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ دور میں میدان میں جنگ جیتنے سے بھی زیادہ اخبارات میں جنگ جیتنے کی ضرورت ہے۔ عوام کے قومی اور مِلی جذبات کو ابھارنے کے لئے اور افواج کو مورال سپوٹ فراہم کرنے لئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ تا ہم میڈیا پر لازم ہے کہ وُہ حقائق پر مبنی خبریں شاءئع کرے اور سنسنی خیز خبریں چھاپنے سے گریز کرے۔ میڈیا کی طاقت کو جنگ روکنے اور مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کے لئے بھی استعال کیا جا سکتا ہے۔ عوام کو اِس بات پر بھی آمادہ کیا جا سکتا ہے کہ مسا ئل کو جنگ کئے بغیر بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ افواج کی کثیر نفری کو کم بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسلحہ کی خریدای پر خرچ کی جانے والی خطیر ر قوم کو عوام کی بہبودی اور بہتری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں سر حدوں پر جنگ کرنے کی بجائے مُفلسی، نا خواندگی، دہشت گردی جیسی عصیبتوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہونے کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت دونوں مُلکوں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ دونوں مُلکوں کے دانشوروں کو استحکام اور امن قائم کرنے کے لئے عوام اور حکومتوں کو تیار کرنا چاہیے۔ ہم سَب کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی جیسے انجام سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔

*( کینیڈا میں برسوں سے مقیم ڈاکٹر رشیدگِل ایک درد مند اور صاحب ادراک قلم کار بھی ہیں۔میڈیکل سائنس سے وابستہ ہیں۔ انکے سیاسی کالم کینیڈا سے شائع ہونے والے اخبارات میں مقبول عام ہیں)

مزید : بلاگ


loading...