جاپان پر پھینکے گئے امریکی ایٹم بم کی وہ تصاویر منظر عام پر آگئیں جسے دیکھ کر کسی کا بھی دل دہل جائے

جاپان پر پھینکے گئے امریکی ایٹم بم کی وہ تصاویر منظر عام پر آگئیں جسے دیکھ کر ...
جاپان پر پھینکے گئے امریکی ایٹم بم کی وہ تصاویر منظر عام پر آگئیں جسے دیکھ کر کسی کا بھی دل دہل جائے

  



واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکہ کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان پر کئے جانے والے ایٹمی حملے کی داستانیں آج تک دنیا میں بیان کی جا رہی ہیں مگر اس داستان کا ایک خوفناک ترین باب امریکہ نے آج تک چھپا رکھا تھا، جو اب 70 سال بعد پہلی بار دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ تاریخ کا یہ دردناک باب ان تصاویر پر مشتمل ہے جو جاپان کے شہر ناگاساکی پر اگست 1945ءمیں کئے جانے والے ایٹمی حملے کے اگلے روز بنائی گئیں۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ تصاویر ایک جاپانی فوٹوگرافر یوسوکے یاماہاتا نے بنائیں جو ایٹمی حملے کے اگلے روز ناگاساکی میں پہنچے تھے۔ یوسوکے یاماہاتا نے شہر کی لرزہ خیز بربادی کی متعدد تصاویر بنائیں لیکن یہ تصاویر امریکی فوج نے اپنے قبضے میں لے لیں اور 70 سال تک کسی کو ان کی ہوا بھی نہ لگنے دی۔ یہ تصاویر امریکی جرنیل ڈگلس میک آرتھر کے خصوصی حکم پر جاپانی فوٹوگرافر سے چھینی گئی تھیں تاکہ امریکہ کے ظلم پر پردہ ڈالا جاسکے۔ اتفاق سے یاماہاتا ان تصاویر کے نیگیٹو چھپانے میں کامیاب ہوگیا اور بعد ازاں انہی نیگٹوز سے اس نے دوبارہ تصاویر بنا لیں، اور تباہی و بربادی کی 24 بھیانک تصاویر پر مشتمل یہ البم اب پہلی بار دنیا کے سامنے آگیا ہے۔

برطانیہ نئی مصیبت میں پھنس گیا،اپنے ہی فوجیوں نے حکومت پر ’حملے‘کامنصوبہ بنالیا، سنسنی خیز انکشاف منظر عام پر

یاماہاتانے 1962میں ان تصاویر کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا ”میں نے ایک پہاڑی پر چڑھ کر شہر پر نظر ڈالی تو میرا دل صدمے سے پھٹ گیا۔ ہر طرف ملبے کا ڈھیر تھا اور پورا شہر جل چکا تھا۔ دور دور تک صرف جلتی ہوئی آگ ہی نظر آرہی تھی۔“ یاماہاتا کی تصاویر جاپان پر ٹوٹنے والی قیامت کی دل ہلادینے والی منظر کشی کرتی ہیں۔ ان تصاویر میں حملے کا نشانہ بننے والے جاپانی بچوں کے ڈھانچے نظر آتے ہیں جن کے اوپر سے گوشت پگھل چکا ہے۔ کچھ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی کھوپڑیاں بکھری پڑی ہیں جبکہ ان کے اندر سے گوشت اور دماغ پگھل کر باہر بہہ چکا ہے۔

یاماہاتا کا کہنا تھا کہ شہر کے دور دراز علاقوں میں، جو حملے کی اصل جگہ سے طویل مسافت پر واقع تھے، وہاں بھی لوگوں کی آنکھوں کا یہ حال تھا کہ گویا انہیں کھوپڑی سے باہر نکال دیا گیا ہو، ان کی آنکھوں کی بیرونی جلد مرغی کی چربی کی طرح زرد نظر آتی تھی۔ بینائی سے محروم ہوجانے والے یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھ آگے کی طرف پھیلا کر راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے نظر آتے تھے۔ تصاویر میں ناگاساکی شہر کی بربادی واضح نظر آتی ہے۔ میلوں دور تک صرف ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں جبکہ شہر کا آسمان گہرے دھویں کی تہہ میں لپٹا نظر آتا ہے۔

ناگاساکی پر 9اگست کو ایٹمی حملہ کیا گیا جبکہ اس سے محض تین دن پہلے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا تھا۔ جاپان پر امریکہ کے اس بھیانک حملے میں تقریباً ایک لاکھ 20ہزار افراد لقمہ اجمل بن گئے جبکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے ہنستے بستے شہر لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئے۔

ناگاساکی کی تباہی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے والے یاما ہاتا 1966ءمیں کینسر کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ ایٹمی حملے کے ایک دن بعد ناگاساکی میں گئے تھے مگر فضا میں موجود تابکار شعاعوں کے باعث انہیں کینسر کا مرض لاحق ہوگیا، جو بالآخر ان کی موت کا سبب بنا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس