سالانہ ترقیاتی بجٹ سے چلنے والے منصوبوں کوسی پیک کا نام دینے پر پابندی لگانے کی ہدایت

سالانہ ترقیاتی بجٹ سے چلنے والے منصوبوں کوسی پیک کا نام دینے پر پابندی لگانے ...
 سالانہ ترقیاتی بجٹ سے چلنے والے منصوبوں کوسی پیک کا نام دینے پر پابندی لگانے کی ہدایت

  



اسلام آباد(ڈی این ڈی ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے چیئرمین سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے ہدایت کی ہے کہ بلوچستان میں بیرونی امدادی اداروں اور سالانہ ترقیاتی بجٹ سے چلنے والے منصوبوں کو 46 ارب ڈالر کے منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کا نام دینے پر پابندی لگا ئی جائے۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئی کہی جس میں سینیٹرز کامل علی آغا، سجاد حسین طوری ، محمد علی خان سیف ، عثمان خان کاکٹر، لیاقت خان ترکئی، کلثوم پروین کے علاوہ چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی( این ایچ اے )شاہد اشرف تارڑ ، وزارت مواصلات اور موٹر وے پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے کہا کہ لورا لائی ،قلعہ سیف اللہ، ژوب، مغل کوٹ اور شاہراہ قراقرم جیسے پرانے منصوبوں کو پاک چین اقتصادی راہداری کے ساتھ جوڑ کر قوم کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر کہیں بھی کام شروع نہیں، وزیراعظم کے مغربی رو ٹ کو ترجیع بنیادوں پر پہلے مکمل کرنے پر عمل نہیں ہورہا ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح مغربی روٹ کے بارے میں وزارت این ایچ اے اور صوبوں کے چیف سیکرٹریز کمیٹی اجلاسوں میں مغربی روٹ کے بارے میں اصل حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے یا تو اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے یا نہ مکمل تفصیلات فراہم کرتے ہیں لگتا یہ ہے کہ حکومتی اور سرکاری رویے پر پاک چین اقتصادی راہداری کو کمیٹی اپنے ایجنڈے سے نکال دے۔

چیئر مین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے فنڈنگ لینے کیلئے وزیراعظم نے واضح ہدایت دی تھی، کمیٹی بار بار مغربی روٹ پر کام شروع نہ کرنے پر تحفظات اور خدشات کا اظہار کر رہی ہے لیکن کان نہیں دھرے جارہے اور پرانے فنڈ سے جاری منصوبوں کو سی پیک کے نام کی تختیاں لگانی بند کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے مغربی روٹ پر لینڈ ایکویشن ڈیزائن فیزبلیٹی اور محکموں کے درمیان خط وکتابت میں ڈیڑھ سال گزار دیا گیا ہے اور وزیراعظم کی ہدایات مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈی آئی خان سے ژوب اور ژوب سے سہراب کی الائنمنٹ ابھی تک کیوں فائنل نہیں کی گئی اور لینڈ ایکوزیشن بھی مکمل نہیں ،ڈی آئی خان کے علاقے یارک میں تمام اقدامات میں کیا جلدی تھی ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیف سیکرٹری صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی اجلاس میں عدم شرکت سے ثابت ہوتاہے کہ کمیٹی کو اصل حقیقت سے آگاہی نہ دینا مقصد ہے ۔انہوں نے کوئٹہ چمن روڈ کی شاہراہ کے ساتھ پانی کی نالیوں اور مختلف جگہوں پر مرمت کے کام کو موسم سرما سے پہلے مکمل کرنے کی ہدایت دی جس پر چیئرمین این ایچ اے نے یقین دہانی کرائی کہ نومبر کے آخر تک کام مکمل کرلیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تخت بھائی فلائی اوور کو دسمبر کے پہلے ہفتے میں کھول کر کمیٹی کو تحریری آگاہ کیا جائے جس پرچیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے یقین دہانی کرائی کہ 3 دسمبر تک فلائی اوور کھول دیا جائے گا۔چیئرمین کمیٹی نے ڈی جی ایف ڈبلیو او کی اجلاس میں عدم شرکت پر بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف ڈبلیو اوکے نمائندے سے اگلے اجلاس میں ایم ٹیگ/ ٹول ٹیکس کی چار ماہ کے اندر 70 روپے سے100 تک کس قانون اور اختیار کے تحت اضافے کی تفصیل بھی طلب کر لی۔

سینیٹر عثمان خان کاکٹر نے کہا کہ مغربی روٹ حکومت کی ترجیح نہیں ،چیئرمین این ایچ اے سچ کہہ دیں کہ کام نہیں کر رہے اس سال بجٹ میں ایک روپیہ نہیں رکھا گیا،ڈی آئی خان ژوب 80 ارب کا تخمینہ ہے، ڈی آئی خان کچلاک 70 ارب کا تخمینہ ہے ،سالانہ ایک ارب دیا جارہا ہے اس طرح یہ منصوبے 90 سال میں مکمل ہوجائیں گے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مشرقی روٹ 2018 میں بنانے کی ہر ممکن کوشش ہے مغربی روٹ ترجیح نہیں۔ چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے کہا کہ ڈی آئی خان سے کوئٹہ کے 533 کلومیٹر کم مدت منصوبے کو چین کے ساتھ شامل کروا لیا ہے، 30 ستمبر کو ڈیزائن آ جائے گااور سال کام بھی شروع ہو جائے گا۔فاٹا سیکرٹریٹ کی طرف سے آگاہ کیا گیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی سرکاری طور پر فاٹا سے منسلک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں اور فاٹا اور ڈی آئی خان کا ایف آر سی پیک کا حصہ نہیں ،صنعتی زون یا کوئی سٹرک بھی شامل نہیں۔ گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری نے آگاہ کیا کہ گلگت بلتستان کے علاقے کا بھی پاک چین اقتصادی راہداری سے تعلق نہیں ہے ۔چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے آگاہ کیا کہ شاہراہ قراقرم کا فیز ون خنجراب سے چین کی سرحد تک 3035 کلو میٹر اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، سی پیک میں شاہراہ قراقرم فیز II شامل تھا، کوٹ سے حویلیاں 120 کلومیٹر کا فیز II تین ماہ میں مکمل اور سکھر ملتان 394 کلو میٹر پر کام شروع ہے ۔

مزید : رئیل سٹیٹ