پانچ ہزار سال پرانے انسان کی سی ٹی سکین، ایسی خوفناک چیزوں کا انکشاف کہ سائنسدانوں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے

پانچ ہزار سال پرانے انسان کی سی ٹی سکین، ایسی خوفناک چیزوں کا انکشاف کہ ...
پانچ ہزار سال پرانے انسان کی سی ٹی سکین، ایسی خوفناک چیزوں کا انکشاف کہ سائنسدانوں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے

  



روم (نیوز ڈیسک) آسٹریا کی سرحد پر واقع گلیشیئر سے ملنے والی 5300 سال پرانی انسانی لاش پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے بالآخر دنیا کو اس کی آواز سنا کر حیران کر دیا ہے۔ قدیم دور کے اس انسان کی لاش برف میں دبی ہوئی ملی تھی اور ہزاروں سال گزرنے کے باوجود اس کی حالت حیران کن حد تک بہتر تھی۔ سائنسدانوںنے اسے اوٹزی کا نام دیا اور اس پر تحقیق اور تجربات کا آغاز کردیا تاکہ آ ج سے ہزاروں سال قبل کے انسان کی زندگی، صحت، بیماریوں اور موت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔

فرعون کی بیوی کہاں دفن ہے؟ آثار قدیمہ کے ماہر نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا

اطالوی سائنسدانوں نے اوٹزی کے منہ، حلق اور نرخرے پر ایک طویل تحقیق کے بعد اس کی مصنوعی نقل تیار کرلی ہے اور اب اس کے ذریعے وہ آوازیں پیدا کی جارہی ہیں جو آج سے ہزاروں سال قبل یہ شخص اپنی زندگی کے دوران پیدا کرتا رہا ہوگا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق بولزانو شہر کے سان ماریزیو ہسپتال کے سائنسدان رولانڈو فسٹوس کا کہنا تھا ”ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے ہم نے اوٹزی کی حقیقی آواز کی تخلیق نو کی ہے کیونکہ اس کی ممی سے کچھ اہم ترین معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں، لیکن سی ٹی سکین کے زریعے اس کے ووکل ٹریکٹ اور ووکل کارڈز کی پیمائشیں لی گئیں اور اس کے آواز پیدا کرنے والے اعضاءکے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد ہم نے تقریباً اس کی حقیقی آواز جیسی آواز تیار کرلی ہے۔“

سائنسدانوںکا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے بعد ہمیں علم ہوسکے گا کہ پانچ ہزار سال قبل کے انسان کی زبان کیسی تھی اور وہ کس طرح کے الفاظ ادا کرتا تھا۔ ماہرین لسانیات کا کہنا تھا کہ اوٹزی کے مصنوعی اعضاءکے زریعے الفاظ کا خاطر خواہ ذخیرہ دستیاب ہوگیا تو اسے علم لسانیات کی تاریخ کا اہم باب شمار کیا جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...