بنگلہ دیشی انڈرویئر نے برطانوی جوڑے میں دوریاں پیدا کردیں، آخر ایسا کیا ہے؟جان کر آپ بھی ہنسنے لگیں گے

بنگلہ دیشی انڈرویئر نے برطانوی جوڑے میں دوریاں پیدا کردیں، آخر ایسا کیا ...
بنگلہ دیشی انڈرویئر نے برطانوی جوڑے میں دوریاں پیدا کردیں، آخر ایسا کیا ہے؟جان کر آپ بھی ہنسنے لگیں گے

  



لندن (نیوز ڈیسک) بنگلہ دیش سے درآمد کئے گئے ایک انڈرویئر نے ایک برطانوی میاں بیوی میں جھگڑا کروا دیا کیونکہ اس پر لکھی تحریر کے باعث خاتون کو شک پڑ گیا کہ اس کا خاوند کسی اور خاتون کے ساتھ خفیہ معاشقہ چلارہا تھا۔

اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق ایبی بومین نامی 28 سالہ خاتون نے ملبوسات بنانے والی مشہور کمپنی پرائمارک کی ڈونکاسٹر برانچ سے اپنے خاوند 25 سالہ پال بومین کے لئے انڈرویئر خریدا تھا۔ کچھ دن بعد جب ایبی نے اس انڈرویئر کو دھو کر تار پر ڈالا تو اس پر سنہری رنگ کی ایک تحریر لکھی نظر آئی، جو بظاہر کسی خفیہ پیغام جیسی لگ رہی تھی۔ ایبی کا کہنا ہے یہ تحریر سنہری رنگ کے پکے مارکرسے لکھی گئی تھی اور وہ اسے دیکھ کر بہت حیران ہوئیں۔ انہوں نے اس تحریر کے بارے میں خاوند سے پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کر دیا، جس پر ایبی کا شک مزید گہرا ہو گیا۔ انہوں نے اپنے طور پر تحقیق کا آغاز کر دیا اور جب انڈروئیر پر لکھے الفاظ کو گوگل میں لکھا تو پتہ چلا کہ ان میں بنگلہ دیش کا ایک ایڈریس بھی شامل تھا۔

ایبی نے ایک بار پھر اپنے خاوند سے جواب طلبی کی کہ اس کے انڈرویئر پر یہ تحریر کس نے لکھی تھی۔ جب خاوند نے اپنی معصومیت پر اصرار جا ری رکھا تو انہوں نے انڈروئیر درآمد کرنے والی کمپنی پرائمارک سے رابطہ کرلیا اور انہیں بھی اس معاملے کے متعلق بتایا۔ کمپنی نے انڈرویئر پر لکھی تحریر کا سراغ لگانے کے لئے ایبی کو ایک لفافہ بھیج دیا اور گزارش کی کہ وہ انڈرویئر کو اس میں ڈال کر کمپنی کو بھیج دیں۔ دونوں جانب اس عجیب و غریب معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں، تاہم پال کا کہنا ہے کہ وہ مشکوک تحریر کی وجہ سے بیٹھے بٹھائے مجرم بن گیا ہے۔

پرائمارک کمپنی کے ایک نمائندہ کا کہنا تھا کہ غالباً بنگلہ دیشی مینوفیکچرر نے کپڑے کا ایسا ٹکڑا انڈرویئر کی تیاری کے لئے استعمال کرلیا تھا کہ جس پر مختلف اقسام کے کپڑوں کی نشاندہی کے لئے پکے مارکر سے کچھ علامات لکھی ہوتی ہیں۔ ایبی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں بھی متفکر ہیں کہ شاید یہ تحریر کسی بنگلہ دیشی فیکٹری میں کام کرنے والے ایسے ملازم نے لکھی ہے جو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم اور ناانصافی پر آواز اٹھانا چاہتا تھا مگر کوئی اور موقع نہ پاکر انڈرویئر پر ہی اپنا پیغام لکھ بھیجا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...