بھارتی فوج دماغ سے محروم, فضائیہ کا دفاعی نظام ابتر، صرف 60 فیصد طیارے ہی اڑنے کے قابل ہیں، بڑا مسئلہ کرپشن ہے: دی اکانومسٹ

بھارتی فوج دماغ سے محروم, فضائیہ کا دفاعی نظام ابتر، صرف 60 فیصد طیارے ہی ...

  



نئی دہلی (ویب ڈیسک )اڑی حملے کے بعد بھارت پاکستان کیخلاف جنگ جیسا ماحول بنانے پر تلا بیٹھا ہے ، اسکے حکمران ہوں یا دوسرے انتہا پسند ہندو رہنما ، سب پاکستان پر حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب اسکی فوج کی جنگی صلاحیت کے حوالے سے بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔معروف برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت نے اپنی معیشت کو تو ضرور مضبوط کیا لیکن حیران کن طور پر اس نے اپنی فوج کی استعداد بڑھانے کیلئے زیادہ سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔ بھارت کی فوج کاغذی طور پر تو بہت مضبوط لگتی ہے لیکن عملاً صورتحال اسکے برعکس ہے۔

چین کے بعد عددی لحاظ سے اسکی فوج تقریباً 26لاکھ اہلکاروں کیساتھ دنیامیں دوسرے نمبر پر ہے۔اسکے پاس90سے 110تک ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔2015میں اسکا دفاعی بجٹ 51ارب ڈالر سے زیادہ تھا جو اسکی جی ڈی پی کا 2.3فیصد بنتا ہے ، 2010میں یہ اسلحہ خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا جس میں روسی جنگی جہاز، اسرائیلی میزائل ، امریکی ٹرانسپورٹ جہاز اور فرانسیسی آبدوزیں شامل ہیں۔بھارت کی مقامی اسلحہ ساز کمپنیوں کا کاروبار بھی خوب چمک رہا ہے جو اپنا اسلحہ، جیٹ فائٹر طیارے ، میزائل وغیرہ بھارتی فوج کو فروخت کرتی ہیں ، بھارتی شہر کوچی کے شپ یارڈ میں 40ہزار ٹن وزنی طیارہ بردار بحری بیڑا بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔

معروف دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے بتایا بھارتی فوج کے زیادہ تر ہتھیار پرانے ہوچکے ہیں یا انکی مناسب دیکھ بھال ہی نہیں کی جارہی۔ہماری فضائیہ کا دفاعی نظام بہت ہی بری حالت میں ہے ، زیادہ تر طیارے 1970سے چلتے آرہے ہیں اور فضائیہ کی تنظیم نو کیلئے دس سال کا عرصہ درکار ہے۔کاغذوں میں بھارتی فضائیہ دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جس کے پاس دو ہزار طیاروں پر مشتمل فضائی بیڑا ہے لیکن 2014میں دفاعی جریدے آئی ایچ ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے صرف 60فیصد طیارے ہی اڑنے کے قابل ہیں۔

بھارت کی ایک سرکاری ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحریہ کا فخر سمجھے جانیوالے 45مگ 29طیاروں کی آپریشنل صلاحیت 16سے 38فیصد کے درمیان ہے۔ان طیاروں کو سمندر سے اڑان بھرنے کے قابل بنانے کیلئے ہی کوچی میں طیارہ بردار بحری جہاز بنایا جارہا ہے جو پچھلے 15برس سے زیر تکمیل ہے اور منصوبے کے مطابق اسے 2010میں بھارتی بحریہ کا حصہ بن جانا چاہیے تھا۔حکومتی آڈیٹرز کے مطابق اس بحری جہاز میں آج تک 1150تبدیلیاں کی جا چکی ہیں جس کی وجہ سے یہ 2023پہلے آپریشنل ہوہی نہیں سکتا۔ماہرین کے مطابق بھارتی فوج کیلئے یہ تاخیر کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ فوج 1982سے سٹینڈرڈ اسالٹ رائفل حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن مختلف تاخیری حربوں کی وجہ سے اسے آج تک یہ رائفل مل نہیں سکی ، حکام کی جانب سے کبھی کہا جاتا ہے ایسی رائفل(بندوق )مقامی سطح پر تیار کی جائے گی اور کبھی کہا جاتا ہے باہر سے منگوائی جائیگی۔

حتیٰ کہ بھارتی فضائیہ کو پرانے ماڈل کے روسی ساختہ بعض فائٹر جہازوں کو تبدیل کرانے کیلئے 16سال کا عرصہ لگا ، مختلف وجوہات کی بنا پریہ کام بھی روایتی سرخ فیتے کی نذرہوتا رہا۔ چار سال پہلے بھارت نے فرانس سے جدید ترین 126رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا لیکن ابھی گزشتہ دنوں ہی فرانس نے اسے محض 36رافیل طیارے دینے کی حامی بھری ہے۔

بھارتی فوج کو آئے روز کسی نہ کسی سکینڈل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس کا ایک بڑا مسئلہ کرپشن بھی ہے ، دنیا نے یہ تماشا بھی دیکھا کہ بھارتی جنرل پروموشن ، تنخواہوں و مراعات اور وزن گھٹانے جیسے معاملات پر ایک دوسرے کو عدالتوں میں گھسیٹتے رہے۔رواں سال جولائی میں ایک فوجی ٹرانسپورٹ جہاز خلیج بنگال میں گرگیا ، اس میں سوار 29لوگ ہلاک ہوئے لیکن آج تک اس جہاز کا پتہ نہیں چل سکا۔ یہاں تک کہ اگست میں ایک آسٹریلوی اخبار نے بھارت کی نئی فرانسیسی آبدوز کی تمام تکنیکی تفصیلات شائع کردیں ، یہ سب کرپشن کا ہی شاخسانہ ہے۔اجے شکلا نے مزید بتایا بھارت کی بری ، بحری اور فضائی افواج میں آپسی روابط اور تنظیمی ڈھانچے کا شدید ترین فقدان ہے ، تینوں افواج علیحد ہ علیحدہ یونٹس کے طور پر کام کرتی ہیں، انکے اہلکار ایک دوسرے سے تعاون نہیں کرتے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ وزارت دفاع میں کوئی بڑا افسر فوج سے تعلق نہیں رکھتا ، سب کے سب سویلین ہیں ، جن کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں ، وزارت دفاع میں سیاسی بھرتیوں کی بھی بھرمار ہے ، سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونیوالے افسروں کا مقصد ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے ، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں فوج کے پاس ضروری ہتھیار ہیں کہ نہیں۔تجزیہ کار ابھیجیت آئیر مترا نے کہا ایسے لوگ اس جنرل فزیشن کی طرح ہیں جسے زبردستی سرجری پر لگادیا گیا ہو۔انہوں نے کہا بھارتی فوج کا حال اس جانور جیسا ہے جس کے جسم پر چربی تو بہت ہے لیکن اسکے پاس دماغ نام کی کوئی چیز نہیں۔

مزید : بین الاقوامی