تختِ لاہور کا قصور نہیں۔۔۔کُج ساڈے لوگ وی ظالم سَن!

تختِ لاہور کا قصور نہیں۔۔۔کُج ساڈے لوگ وی ظالم سَن!

وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی سوچتے ہوں گے کہ جنوبی پنجاب کے عوامی نمائندے آخر کس مٹی سے بنے ہوئے ہیں، ساری دنیا کو معلوم ہے کہ جنوبی پنجاب ایک پسماندہ خطہ ہے، مگر یہاں کے منتخب نمائندے کچھ مانگتے ہی نہیں، بلکہ اُن کے سامنے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کہ آپ نے ہمیں جتنا کچھ دیا ہے، اتنی تو ہماری اوقات بھی نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف دو روز پہلے مظفر گڑھ تا ڈیرہ غازی خان سڑک کو دورویہ کرنے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے مظفر گڑھ آئے۔ چلیں ساڑھے چارسال کی مدت گزر جانے کے بعد انہیں اس کا خیال تو آیا، حالانکہ جب سردار فاروق لغاری صدر پاکستان تھے، اس وقت بھی یہ مطالبہ کیا جاتا تھا کہ اس سڑک کو دورویہ کیا جائے، کیونکہ اس پر کراچی کوئٹہ، سمیت ملک کے دیگر حصوں کو جانے والی ٹریفک کا بہت رش رہتا ہے۔ یہ سڑک ہمیشہ ہی شکست وریخت کا شکار رہی اور لیپا پوتی کے ذریعے ہی کام چلایا جاتا رہا۔ اب وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے شاید جنوبی پنجاب میں انتخابی چھکا لگانے کے لئے اس منصوبے کا افتتاح کردیا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ منصوبہ اس حکومت کے دور میں مکمل نہیں ہوسکے گا، کیونکہ بجٹ میں اس کے لئے فنڈز نہیں رکھے گئے اور جو فنڈز فراہم کئے جائیں گے، ان سے چند میل ہی سڑک تعمیر ہوگی، جبکہ اس کی کل لمبائی تقریباً 55کلو میٹر ہے۔

خیر جب کوئی منصوبہ شروع ہوجاتا ہے تو مکمل بھی ہو ہی جاتا ہے، اس لئے ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق اس منصوبے کی بھی تعریف کی جانی چاہئے، مگر یہاں اس تقریب میں مظفر گڑھ کے عوامی نمائندوں نے جس طرح اپنے خطے کی محرومیوں کا ذکر کرنے کی بجائے، وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے، اس نے اس حقیقت کا بھانڈہ پھوڑ دیا کہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا اصل سبب درحقیقت یہی لوگ ہیں۔مظفر گڑھ کے ایم این اے ملک سلطان محمود ہنجرا نے مظفر گڑھ کی نمائندگی کرتے ہوئے جو تقریر کی، اس پر ضلع کے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقے سرپیٹ کررہ گئے ہیں، انہوں نے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں کہہ دیا کہ اس علاقے میں کوئی احساس محرومی نہیں اور آپ نے اسے ضرورت سے بڑھ کر وسائل دیئے ہیں۔ یہاں کے ارکان اسمبلی جھوٹ بولتے ہیں، عوام میں آپ کے خلاف کوئی نفرت موجود نہیں، بلکہ وہ خوش ہیں کہ آپ نے ہمیشہ اُن کا خیال رکھا ہے۔ بس یہی وہ موقع تھا، جب وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے چہرے پر حیرت کے تاثرات نمایاں ہوئے۔ وہ توکچھ اور ارادہ لے کر آئے تھے۔ وہ تو بہت کچھ دینے کا اعلان کرنا چاہتے تھے، مگر یہاں تو یہ کہا جارہا تھا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہئے، آپ نے پہلے ہی جنوبی پنجاب کو بہت کچھ دیا ہے۔

سلطان محمود ہنجرا کے بعد صوبائی وزیر ہارون سلطان بخاری آئے تو اُن کی زبان بھی وزیر اعلیٰ کی تعریف و توصیف سے خشک نہیں ہوپارہی تھی۔ وزیر اعلیٰ کو یہ احساس دلانے کی بجائے کہ جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبے نہ دینے کے باعث یہاں مسلم لیگ (ن)کا گراف گررہا ہے، آپ صاف پانی، صحت،سڑکوں اور تعلیمی شعبے کے منصوبے منظور کریں، تاکہ یہاں روزگار بھی ملے اور ترقی بھی ہو، لیکن نہیں صاحب وہ ایسے مطالبات کے لئے وزیر اعلیٰ کے سامنے زبان کیسے کھول سکتے تھے۔ وہ شہباز شریف کے وژن اورسیاسی بصیرت کی تعریف ہی کرتے چلے گئے۔ پھر یہاں کے نمائندوں کو یہ عقل نہیں کہ صوبے یامرکز کا حاکم یہاں کبھی کبھار آتا ہے۔ اس کی موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے تمام محرومیاں اس کے سامنے رکھ دینی چاہئیں، مگر اس کی بجائے یہ لوگ خوشامد اور چاپلوسی کی حد کردیتے ہیں۔۔۔مثلاً سلطان محمود ہنجرا اپنے خطاب میں یہی کہتے رہے کہ میں نے نواز شریف سے لندن بات کی ہے اور انہیں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لئے شہباز شریف بہترین ثابت ہوں گے۔ انہیں یہ بھی باور کرایا ہے کہ صرف شہباز شریف ہی مسلم لیگ (ن) کو متحد رکھ سکتے ہیں۔ اب کوئی اس بندے سے پوچھے کہ کیا نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت کا فیصلہ اس سے پوچھ کر کرنا ہے؟ کیا انہیں پتہ نہیں کہ کیا فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ؟ اسے اپنے علاقے کی بات کرنی چاہئے، علاقے کے مسائل وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھ کر ریلیف مانگنا چاہئے، لیکن اس کی بجائے وہ شہباز شریف کو سامنے دیکھ کر خوشامد کی آخری حدود کو پار کرتا چلاگیا۔ صرف اسی پربس نہیں کی، بلکہ یہ تک کہہ دیا کہ جنوبی پنجاب کی محرومی صرف ایک پروپیگنڈہ ہے، آپ نے اس خطے کو بہت کچھ دیا ہے۔

یہ تو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی مہربانی ہے کہ انہوں نے سلطان محمود ہنجرا کی باتوں میں آئے بغیر یہ تسلیم کیا کہ جنوبی پنجاب میں ترقی کی ضرورت ہے اور پنجاب حکومت اس پر پوری توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کئی منصوبوں کا بھی اعلان کیا اور ڈیرہ غازی خان کارڈیالوجی اور کڈنی سنٹر کے فوری قیام کی منظوری بھی دی۔ سرائیگی خطے کے عوام کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھا گیا ہے، یہاں سے تقریباً ہر بڑے عہدے پر لوگوں کو بٹھایا گیا۔ صدارت، وزارتِ عظمیٰ،گورنری سپیکر، وزراء، مشیر اور ارکان اسمبلی کی فوج ظفر موج، مگر مجال ہے جو انہوں نے اس کے لئے کچھ کیا ہو۔ سب اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں، مفادات اُٹھاتے ہیں، اس خطے کی ترقی نہیں چاہتے، کیونکہ اس کی محرومی ان کی سیاست کو جلا بخشتی ہے اور وہ تختِ لاہور کو برابھلا کہہ کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرلیتے ہیں۔ یہاں کے ارکان اسمبلی جب بھی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ سے ملتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں چند درخواستیں ہوتی ہیں۔ یہ درخواستیں اجتماعی مفاد کے لئے نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا تعلق ذاتی مفاد سے ہوتا ہے۔ یہی ایم این اے سلطان محمود ہنجرا جو وزیر اعلیٰ کے سامنے سب اچھا کی رپورٹ دے رہے تھے، ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جب بھی حلقے کے لوگ ان سے کسی ترقیاتی کام کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ’’پنجاب حکومت فنڈر نئیں دیندی‘‘ کا جملہ بول کر انہیں ٹرخادیتے ہیں۔.

اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام اپنے اصل دشمنوں کو پہچانیں۔ یہ لوگ تختِ لاہور کو برا بھلا کہہ کر انہیں بے وقوف بناتے ہیں، ان کی کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ جنوبی پنجاب میں ترقی ہو، کیونکہ ترقی ان کی سیاسی بساط لپیٹ سکتی ہے۔ یہ ہمیشہ احساسِ محرومی کا رونا روتے رہیں گے، لیکن اسے ختم کرنے کے لئے کبھی عملی قدم نہیں اُٹھائیں۔ ان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم سے اپنا مفاد مانگیں یا اپنے حلقے کے عوام کا؟۔۔۔ یہ ہمیشہ اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ سلطان محمود ہنجرا نے مظفر گڑھ میں جو کچھ کہا ہے، یہی اصل ہے۔ یہ لوگوں کو جھوٹا قرار دے کر اپنے آقاکو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان سے یہ نہیں ہوتا کہ بھرے جلسے میں عوام کی محرومیوں کا اظہار کریں اور وزیر اعلیٰ کے سامنے مطالبات رکھیں۔ ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنوں میں ایسے کرداروں کی بھرمار ملے گی، جو صحیح معنوں میں جنوبی پنجاب کے لئے کیدو کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سارا قصور تختِ لاہور کا نہیں، اصل قصور وار یہاں کے عوامی نمائندے ہیں، جو حاکم کے سامنے اپنے خطے کی آواز بننے کی بجائے، اس کا مزید گلا دبانے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک عوام ان کا احتساب نہیں کریں گے، جنوبی پنجاب میں محرومیاں سایہ فگن رہیں گی۔

مزید : کالم