پاکستانی عوام کو ایک سپر کلیدی رول ادا کرنا پڑے گا!

پاکستانی عوام کو ایک سپر کلیدی رول ادا کرنا پڑے گا!
 پاکستانی عوام کو ایک سپر کلیدی رول ادا کرنا پڑے گا!

  

گزشتہ کالم میں، عرض کیا تھا کہ 18ستمبر2017ء کو اسرائیل کے جنوبی صحرائی علاقہ میں بیرشیبا کے نزدیک امریکہ نے اپنا پہلا فوجی مستقر تعمیر کر لیا ہے۔ اس میں جو عسکری اثاثہ جات سٹیشن کئے جائیں گے ان میں ائر ڈیفنس سسٹم اور جدید ترین راڈاروں کا ایک وسیع سلسلہ شامل ہوگا۔

یہاں دو سوال کئے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ ایک تو یہ کہ کیا اسرائیل کا اپنا ائر ڈیفنس سسٹم ایسا موثر نہیں کہ کسی دشمنِ اسرائیل کے فضائی اور میزائلی حملوں کا جواب دے سکے۔۔۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ کون سا ایسا ملک ہے جس سے اسرائیل کی اس امریکی آؤٹ پوسٹ کو خطرہ ہے۔ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس ہرچند کہ ایسا فضائی دفاعی نظام موجود ہے جو اس کی سرزمین پر کسی فضائی حملے (میزائل اور طیارہ) کا جواب دے سکے۔ لیکن ٹرمپ نے اب ایران سے وہ نیوکلیئر ڈیل ختم کرنے کا ڈول ڈال دیا ہے جو ماضی ء قریب میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پایہ ء تکمیل کو پہنچایا گیا تھا اور جو دس سال کی مدت کے لئے موثر تھا۔ جواباً ایران نے بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ آنے والے دس برسوں میں یورینیم کی افزودگی کا وہ معیار حاصل کرنے سے باز رہے گا جسے کرٹیکل کہا جاتا ہے اور جس سے جوہری بم تیار کیا جاتا ہے۔لیکن امریکی انٹیلی جنس نے اب خبردار کیا ہے کہ ایران چوری چھپے یورینیم کی افزودگی پر عمل پیرا ہے اور دس سال کی معینہ مدت ختم ہونے کے صرف ایک برس کے اندر اندر اس کے پاس وہ اہلیت آ جائے گی کہ جس سے تقریباً 10،12 ایٹم بم بنائے جا سکتے ہیں۔ اس لئے اگر آج سے دس بارہ برس بعد بھی ایران نے اسرائیل پر حملہ کر دیا اور اس حملے میں جوہری وارہیڈز بھی استعمال کئے تو اس کا توڑ اسرائیل کے پاس نہیں ہوگا۔

قارئین کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ کوئی بھی قوم اپنے وہ سٹرٹیجک عسکری راز کسی دوسری قوم پر افشاء نہیں کرتی جن پر اس کی بقا اور واحد اجارہ داری ہو۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے سب سے قابلِ اعتماد اتحادی (اسرائیل) کو بھی وہ ہتھیار اور ان کی ٹیکنالوجی (فی الحال) نہیں دے سکتا جو جدید ترین اور قابلِ اعتماد ترین ہیں۔ مثلاً امریکہ کا تھاڈ (THAAD) میزائل شکن سسٹم ایسا ائر ڈیفنس سسٹم ہے جو اپنی نوعیت میں یکتا و یگانہ ہے اور جس کی اب تک نہ کسی دوسری قوم نے نقل کی ہے نہ اس کا کوئی جواب (کاؤنٹر) ایجاد کیا ہے۔ اس سسٹم کی بدولت حملہ آور میزائل کو میلوں دور سے نہ صرف ٹریک کیا جا سکتا ہے بلکہ ٹریک کرکے ایسے میزائل فائر کئے جا سکتے ہیں جو فضا ہی میں حملہ آور میزائل کو گرا سکتے ہیں۔ اس سسٹم کا بارہا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے اور اسے قابلِ اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ یہی سسٹم امریکہ نے جنوبی کوریا میں شمالی کوریا کے خلاف بھی نصب کر رکھا ہے اور اس کا ذکر بھی میں نے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔اس کالم میں، میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اسرائیل میں اس امریکی مستقر (Base)کے مضمرات و اثرات پاکستان کے لئے خطرہ ہیں۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مستقبل میں کون جانے پاکستان اور ایران مل کر اسرائیل پر جوہری حملہ کر دیں!۔۔۔ بادی النظر میں یہ سنریو (Scenerio) اگرچہ ناقابلِ عمل اور دور کی کوڑی معلوم ہوتا ہے لیکن جنگوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کے بظاہر ناممکن اتحاد قائم ہوتے رہے ہیں اور اس طرح کی ’’انہونیاں‘‘ روبہ عمل آتی رہی ہیں۔۔۔ مثلاً کیا یہ غلط ہے کہ 15 اگست 1945ء کو جب جاپان نے باضابطہ بحرالکاہل کے خطہ ء جنگ میں اتحادیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور جنگ عظیم دوم کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا تو اگلے روز 16 اگست 1945ء کو اسی جنگ کا ایک سب سے اہم اتحادی (سوویٹ یونین) اس کولیشن سے باہر نکل کر اپنے سابق اتحادی دوستوں کا سب سے بڑا دشمن بن گیا تھا؟۔۔۔ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔۔۔ چنانچہ آج اگر ایران اور پاکستان کی کولیشن مشکل نظر آتی ہے تو مستقبل میں مفادات کی یکجائی کی وجہ سے یہ مشکل آسان بھی ہو سکتی ہے۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں ایران اور پاکستان کے نہ صرف سٹرٹیجک دشمن ہیں بلکہ اب ٹیکٹیکل سطح کے دشمن بھی بنتے جا رہے ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق اسرائیلی سرزمین پر یہ امریکی اڈہ (Base) اس حوالے سے مستقبل میں پاکستان کے خلاف بھی وہی کچھ کر سکتا ہے جو وہ ایران کے ساتھ کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ اڈہ پاکستان کے ممکنہ میزائیلی حملوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

میرے اس خدشے کو ایک اور خبر سے بھی تقویت ملتی ہے جو یہ ہے کہ امریکہ، ہمارے ہمسائے میں نہ صرف یہ کہ اپنی فورسز کی تعداد 10800سے بڑھا کر 15000کر چکا ہے بلکہ اس نے کابل میں اپنے سفارت خانے اور دیگر تنصیبات کو محفوظ بنانے کے لئے اپنے گرین زون کو وسعت دینے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔طالبان کے حملوں کے خوف سے اب تک یہ ہوتا رہا ہے کہ اگر کوئی امریکی سفارت کار کابل کے ہوائی اڈے سے اپنے سفارت خانے میں بھی آتا جاتا تھا تو اس کو امریکی چنوک (ہیلی کاپٹر) کے ذریعے سفارت خانے میں پہنچایا جاتا تھا۔(آج کل بھی ایسا ہی ہو رہا ہے) بذریعہ سڑک آنے سے جو خطرہ ہے اس کے مظاہر ماضی میں طالبان نے کئی بار امریکیوں کو ’’پیش‘‘ کئے ہیں حالانکہ یہ فاصلہ صرف 120گز ہے!

اس گرین زون کا ایریا جو اس وقت 0.71 مربع کلومیٹر ہے وہ آنے والے دس برسوں میں بڑھا کر 1.86مربع کلومیٹر کر دیا جائے گا(یعنی دگنے سے بھی زیادہ) اس حفاظتی حصار میں کابل سٹی کمپاؤنڈ یعنی امریکہ کی سپیشل آپریشنز فورسز کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہوگا۔ اس حصار کے گردا گرد پولیس، پیرا ملٹری فورسز اور پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے لگائے گئے چیک پوائنٹ ہوں گے۔ یعنی اگر کوئی شخص یا گاڑی اس امریکی گرین زون میں آئے گی تو پہلے اس کو تین چیک پوسٹوں سے کلیئر ہونا پڑے گا (یعنی پہلے پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیاں، پھر پیرا ملٹری فورسز یعنی نیم مسلح افواج اور پھر پولیس) اس کے بعد گرین زون میں کنکریٹ دیواروں کا ایک سلسلہ تعمیر ہے جس کو عبور کرکے ہی اس حصار کے اندر داخل ہوا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں شہر کے ہر چوک پر ملٹری پولیس (MP) کے اضافی دستے تعینات کئے جائیں گے۔ یہ تمام انتظامی اور تعمیراتی کام آنے والے دو برسوں میں مکمل کر لئے جائیں گے۔ ان کے لئے امریکی انجینئرنگ کور کے ایک بریگیڈیئر کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جا چکی ہے جس نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ بیرونی حصار کو رفتہ رفتہ (اسی مدت کے دوران) اتنا وسیع کر دیا جائے گاکہ اس کے اندر امریکہ اور ناٹو ممالک کے تمام سفارت خانے آ جائیں گے۔ اور قارئین کرام! حیران کر دینے والی بات یہ بھی ہے کہ اس وسیع و عریض حصار کے گرد ایک رِنگ روڈ بھی تعمیر کی جائے گی جس کا صرف ایک داخلہ (Enterance) اور ایک خارجہ (Exit) آپریشنل ہوگا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ کابل میں کسی بھی بازار، محلے اور گلی میں جانے والی کسی بھی گاڑی کو اسی داخلے اور اسی خارجے سے گزرنا پڑے گا۔

اگر آپ نے دوسری جنگ عظیم میں فرانسیسی میجنو لائن اور جرمن سِگفرائڈ لائن کی تفصیلات پڑھی ہوں یا اسرائیل کی بارلیو لائن کا نام سنا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ حصنِ حصیں (حفاظتی دیواریں) اور ان میں نصب اسلحہ جات کی ہما ہمی کا کیا عالم تھا۔ لیکن قارئین کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ یہ تینوں دفاعی حصار انہی انسانوں نے توڑ دیئے تھے جنہوں نے ان کو تعمیر کیا تھا۔ ذرا مزید چند صدیاں پیچھے چلے جائیں تو دیوارِ چین کا ذکر پڑھ لیں اور اس کا حشر بھی جان لیں۔

سابق صدر امریکہ اوباما نے دسمبر 2014ء میں افغانستان سے تمام امریکی ٹروپس واپس بلانے کا پروگرام بنا لیا تھا جس کو ٹرمپ نے آکر الٹ دیا ہے اور آنے والے کم از کم دس برسوں تک (یعنی 2024ء تک) امریکن افواج کو افغانستان میں ٹھہرانے کا پروگرام بنایا ہے۔ یہ طویل قیام آخر کس کے خلاف ہے؟ افغانستان کے مشرق میں اگر پاکستان ہے تو اس کے مغرب اور جنوب مغرب میں ایران ہے۔دیکھا جائے تو افغانستان گویا درمیان میں سینڈوچ ہو کے رہ جاتا ہے۔ امریکہ اور اس کے دوسرے اتحادی افغانستان کو پاکستان اور ایران کے درمیان ایک بفر سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس دوران افغان فضائیہ کو اتنا مضبوط کر دیا جائے کہ وہ (2024ء کے بعد) امریکی فضائیہ کا خلا پُر کر سکے۔ لیکن کیا یہ سب کچھ ممکن ہوگا؟۔۔۔ کیا سی پیک کو روکا جا سکے گا؟۔۔۔ کیا بلوچستان کے خلاف سازشوں کا دائرہ وسیع کرکے دنیا کو مزید گمراہ کیا جا سکے گا؟۔۔۔ کیا پاکستان کو ایک روغ (Rogue) ریاست ڈکلیئر کرنے کا منصوبہ پروان چڑھ سکے گا؟۔۔۔ یہ سارے چیلنج پاکستان کو درپیش ہوں گے اور ان سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی مسلح افواج کو ایک کلیدی رول ادا کرنا پڑے گا لیکن ان سے بھی بڑھ کر پاکستانی عوام کو ایک ’’سُپر کلیدی‘‘ رول ادا کرنا ہوگا جس کی مزید تشریح کی کوئی ضرورت نہیں۔آپ سب کچھ جانتے ہیں

مزید : کالم