سینیٹ ، انتخابی اصلاحات بل کی 38ووٹوں سے منظوری ، نواز شریف کے پارٹی سربراہ بننے کی راہ ہموار

سینیٹ ، انتخابی اصلاحات بل کی 38ووٹوں سے منظوری ، نواز شریف کے پارٹی سربراہ ...

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک 228صباح نیوز)سینیٹ نے ترامیم کے ساتھ ’’انتخا بی اصلاحات بل2017‘‘کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت آرٹیکل 62،63 کے تحت کوئی بھی نااہل یا سزایافتہ شخص بھی پارٹی صدر بن سکے گا ۔ ان آرٹیکلزکا اطلاق پارٹی سربراہ پر نہیں ہوگا۔ اس بل کی منظوری سے نواز شریف کے پھر پارٹی سربراہ بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے ۔یہ شق ختم کرنے سے متعلق اپوزیشن لیڈر چو دھری اعتزاز احسن کی ترمیم کو ایک ووٹ کی برتری سے مسترد کردیاگیا۔ ایم این اے نہ ہونے کی صورت میں پارٹی سربراہ نہ بننے کی اعتراز احسن کی ترمیم مسترد کردی گئی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے شق 203 میں ترمیم اعتزاز احسن نے پیش کی یہ وہ شق تھی کہ جو ایم این اے نہیں بن سکتا وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت پارٹی ایکٹ آرڈر تبدیل کررہی ہے جو غلط ہے۔ایم کیوایم اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے حکومت کی حمایت کردی ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک موقع پر پیپلز پارٹی کے تین ارکان نے بھی حکومت کا ساتھ دیا ۔بل کی قومی اسمبلی سے منظوری اور صدارتی توثیق پر یہ نافآؒ ؑ العمل ہوجائے گا دینی جماعتوں کی خواتین کے دس فیصد پارٹی ٹکٹوں کی شق کو حذف کرنے ،کاغذات نامزدگی میں حلفیہ اقرار نامے کو برقرار رکھنے کی ترامیم بھی مسترد کردی گئیں ۔ ملکی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ میں ترمیم پر ترمیم کی منظوری دی گئی اور حکومت نے چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جس پر چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے اجلاس کی صدارت کرنے سے انکار کردیا اور اپنی رولنگ کو حکومت کی جانب سے چیلنج کر نے کامعاملہ ایوان کے سپرد کردیا ،ایوان نے کثرت رائے سے چییرمین کے فیصلے کی مخالفت کردی پاکستان تحریک انصاف نے رضا رضا ربانی کا ساتھ دیتے ہوئے چیئرمین کے اجلاس سے چلے جانے پر کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ۔پیپلز پارٹی کے تین ارکان نے بھی حکومت کا ساتھ دیا ۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین میاں رضاربانی کی صدارت میں ہوا وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے انتخابات بل 2017 ء قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے والی ترامیم کے ساتھ پیش کیا ۔ گزشتہ روز بھی 6ترامیم ایوان بالا میں پیش کی گئیں ۔ سینیٹر اعظم سواتی کی کاغذات نامزدگی کے ساتھ حسابات واثاثوں کے سالانہ گوشوارے منسلک کرنے کی ترمیم پررائے شماری کرائی گئی حکومت نے ترمیم کی مخالفت کی رائے شماری کے نتیجہ میں 38ووٹوں کے ساتھ ترمیم منظور کرلی گئی ۔ مخالفت میں 37ووٹ آئے ۔ سینیٹر سراج الحق اور سینیٹر حافظ حمداللہ کی خواتین کیلئے دس فیصد پارٹی ٹکٹ مختص کرنے کی شک میں ردوبدل کی ترمیم کو بھی کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔ دینی جماعتوں کو اس معاملے میں کسی اور جماعت کی حمایت حاصل نہیں ہوئی ۔ سینیٹر حافظ حمداللہ نے کاغذات نامزدگی کے حلفیہ اقرار نامے کی ترمیم پیش کی یہ ترمیم بھی کثرت رائے سے مسترد کردی گئی اسی طرح کاغذات نامزدگی میں ایک اور حلف سے متعلق بھی حافظ حمداللہ کی ترمیم کو مستردکردیا گیا ۔ سالانہ گوشواروں اور اثاثوں کے متعلق تحریک انصاف کے رکن اعظم سواتی کی منظور ہونے والی ترمیم پر وزیر قانون وانصاف زاہد حامد نے فوری طور پر ترمیم پیش کرنے کی چیئرمین سینیٹ سے اجازت مانگی چیئرمین سینیٹ نے اجازت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ابھی دو منٹ قبل تو یہ ترمیم منظور ہوئی ہے دو منٹ میں ارکان کا ذہن کیسے تبدیل ہوسکتا ہے ۔ وزیر قانون نے ترمیم پر ترمیم پر اصرار جاری رکھا ۔ چیئرمین سینیٹ نے اپنی رولنگ واپس لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ انہیں قواعدوضوابط کے تحت رولنگ جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جسے وہ واپس نہیں لے سکتے ۔ وزیر قانون نے کہا کہ اعظم سواتی کی ترمیم پر اپنا موقف پیش نہیں کرسکے تھے ۔ اس درخواست کے باوجود چیئرمین نے ان کی بات سننے سے انکا رکردیا ۔ وزیر کا اصرار بڑھا تو چیئرمین سینیٹ نے اس معاملے پر ایوان کی رائے لی 47ارکان نے وزیر قانون کی حمایت کردی ان میں پاکستان پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک ، شیری رحمان اور روبینہ خالد بھی شامل ہیں ۔ 31ارکان نے چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کی حمایت کی ۔ چیئرمین سینیٹ نے اپنے فیصلے کے حق میں کثرت رائے نہ ملنے پر اخلاقی طور پر اجلاس کی صدارت چھوڑ دی اور اجلاس کی کارروائی کو معطل کردیا ۔ کارروائی 15منٹ تک رکی رہی ۔ چیئرمین سینیٹ اجلاس کی صدارت کیلئے آمادہ نہ ہوئے ڈپٹی چیئرمین مولاناعبدالغفور حیدری کی صدارت میں اجلاس کی مزید کارروائی کو آگے بڑھایا گیا ۔تحریک انصاف کے اعظم سواتی نے کہا کہ اس اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ چیئرمین کی رولنگ کو حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے ۔چیئرمین کو کیوں رولنگ واپس لینے پر مجبور کیا گیا رولنگ کا احترام ہونا چاہیے تھا اس معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے مزید کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ۔عائشہ رضا نے سینیٹر اعظم سواتی کی منطورمتذکرہ ترمیم میں ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ نماز جمعہ کے وقفہ کے بعد اجلاس سینیٹر مظفرحسین شاہ کی صدارت میں ہوا اپوزیشن لیڈر چو دھری اعتزاز احسن نے نااہل اور سزا یافتہ شخص پر کسی جماعت کا صدر بننے کی پابندی برقرار رکھنے کی ترمیم پیش کی ،حکومت نے ترمیم کی مخالفت کی ۔ وزیرقانون و انصاف زاہد حامد نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے ذیلی کمیٹی میں اس ترمیم کی حمایت کی تھی اور اب اس میں اپوزیشن لیڈر ترمیم لے آئے ہیں ۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت نے خاموشی سے یہ ترمیم منظور کرائی ہے۔جب ہم آگاہ ہوئے ہیں تو ہم ترمیم لے آئے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں کہ سزایافتہ شخص کسی جماعت کا صدر بن سکے ۔ سینیٹر مظفرحسین سید نے اپوزیشن لیڈر کی ترمیم پر رائے شماری کرائی ترمیم کو 38ارکان نے مسترد کردیا 37ارکان نے ترمیم کی حمایت کی۔ایم کیوایم اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)کے ارکان میاں عتیق ،طاہر حسین مشہدی،جہانزیب جمال دینی ودیگر نے اس معاملے میں حکومت کا ساتھ دیا اور سزا یافتہ شخص کوبھی پارٹی صدر بنانے کی اجازت دینے کی شق 203کو ایک ووٹ کی برتری سے منظور کرلیا گیا ۔ بل مجموعی طور پر 241شقوں پر مشتمل ہے ۔سینیٹ سے ترامیم کے بعد اب یہ بل دوبارہ قومی اسمبلی بھجوایا جائے گا۔ قومی اسمبلی سے منظوری اور صدارتی توثیق کے بعد یہ بل لاگو ہوجائے گا ۔بل کے تحت الیکشن کمیشن انتخابات سے چھ ماہ قبل لائحہ عمل مرتب کرے گا، ہر مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی، ایک سے دوسرے پولنگ سٹیشن کا فاصلہ ایک کلومیٹر سے کم ہو گا، قومی اسمبلی امیدوار کیلئے اخراجات کی حد 40لاکھ،صوبائی کیلئے 20 لاکھ اور سینیٹ کیلئے 15 لاکھ ہو گی، نئے قانون کے مطابق کاغذات نامزدگی کو سادہ بنایا گیا ہے، انتخابی تنازعات نمٹانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی، نگران حکومت روزانہ کے امور سر انجام دے گی،غیر متنازعہ معاملات تک محدود رہے گی، نگران حکومت بڑی پالیسیوں سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکے گی، خواتین کی انتخابی عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت کیلئے اقدامات تجویزکئے گئے ، قومی اور صوبائی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین کو دینا ہوں گے۔ بل کے نافذ العمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کو مکمل مالی و انتظامی خود مختاری حاصل ہو جائے گی، الیکشن کمیشن انتخابات سے 6 ماہ قبل اپنا لائحہ عمل تیار کرے گا، ہر مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی، ایک پولنگ سٹیشن سے دوسرے پولنگ سٹیشن کا فاصلہ ایک کلو میٹر سے کم ہو گا، انتخابی اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی گئی ہے، قومی اسمبلی میں اس نئے قانون کی 155شقیں یکجا کر کے اتفاق رائے سے منظور کرلی گئی ہیں باقی شقیں بعض ترامیم کے ساتھ منظور کی گئیں، نئے قانون کے مطابق نامزدگی فارم کو سادہ بنا دیاگیا ہے، ایک رکن کی جانب سے دولت گوشوارہ جمع کرانے کیلئے وہی فارم ہو گا جیسا کہ انکم آرڈیننس 2001کے تحت جمع کرایا جاتا ہے، انتخابی تنازعات نمٹانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو گی، ہر ضلع کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے تشکیل کردہ حلقہ بندی کمیٹی کی جانب سے مقامی حکومت کی حلقہ بندیاں کی جائیں گی، نگران حکومت کے فرائض کو روزانہ کے معمولات کو غیر متنازعہ معاملات تک محدود کر دیا گیا ہے، ماسوائے ضروری معاملات کے یہ بڑے پالیسی فیصلے نہیں کرے گی، تمام سیاسی جماعتیں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی عمومی نشستوں پر 5فیصد ٹکٹ خواتین کو دینے کی پابند ہوں گی، خواتین کو انتخابی عمل میں زیادہ سے زیادہ شریک کرنے کیلئے آگاہی مہم چلائی جائے گی، اگر کسی حلقے میں کل ڈالے گئے ووٹوں کا 10فیصد سے کم خواتین کے ووٹ پول ہوئے تو وہاں تحقیقات کرائی جائے گی کہ یہاں کوئی معاہدہ تو نہیں کیا گیا یا ۔خواتین پر ووٹ ڈالنے کی پابندی توعائد نہیں کی گئی، اگر ایسا کچھ ثابت ہوا تو متعلقہ پولنگ سٹیشنز یا پورے حلقے کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا جائے گا، سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کیلئے لازم ہو گا کہ اس کے ارکان کی تعداد 2ہزار ہو جبکہ رجسٹریشن فیس ایک لاکھ روپے ہو گی،کسی بھی سیاسی جماعت کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈز لینے پر پابندی ہو گی، ایک لاکھ سے زائد چندہ دینے والے افراد کی فہرست کمیشن کو مہیا کی جائے گی، کوئی بھی سیاسی جماعت جس کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ اس نے غیر ملکی امداد حاصل کی ہے یا وہ بیرونی فنڈز سے تشکیل دی گئی ہے یا وہ پاکستان کی خود مختاری یا سالمیت کے خلاف کام کر رہی ہے یا دہشت گردی میں ملوث ہے تو اس کے بارے میں حکومت سرکاری جریدے میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اس کو تحلیل کرنے کا اعلامیہ جاری کرے گی، حکومت پندرہ دن کے اندر یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھجوائے گی، ہر مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی، ایک صوبے میں ایک حلقے سے دوسرے حلقے میں ووٹوں کا تناسب دس فیصد سے زائد نہیں ہو گا، امیدواروں کو ووٹروں کی تصاویر پر مشتمل انتخابی فہرستیں فراہم کی جائیں گی،کمیشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت سے سیاسی جماعتوں، امیدواروں، پولنگ ایجنٹوں، سکیورٹی عملہ، میڈیا اور مبصرین کیلئے ضابطہ اخلاق مرتب کرے گا، پولنگ سٹیشنوں پر حملہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، ہتھیاروں کی نمائش، انتخابی عمل میں خلل ڈالنے پر پریذائیڈنگ افسر یا پولنگ عملے کے اغواء کی کوشش یا بیلٹ باکس کے بیلٹ پیپرز چھیننے کی کوشش پر پریذائیڈنگ افسر، ریٹرننگ افسر کو واقعہ کی تحریری رپورٹ کرے گا اور مبینہ قصور وار کے خلاف مقدمہ کے اندراج کیلئے ضلعی پولیس کے سربراہ کے سپرد معاملہ کیا جائے گا، اگر کسی حلقے میں دو امیدواروں کے درمیان ووٹ برابر ہوں تو انہیں آدھی آدھی مدت کیلئے منتخب تصور کیا جائے گا، پہلی مدت کیلئے قرعہ اندازی سے فیصلہ کیا جائے گا، الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف 30یوم میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی جبکہ مقامی حکومت کے انتخابات پر ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی جا سکے گی، انتخابات کے نتائج کے اجرا کے 30دن کے اندرکامیاب امیدوار کے علاوہ تمام امیدواروں کی جانب سے انتخابی اخراجات کا گوشوارہ جمع کرانا لازمی ہو گا، نامزدگی کے بعد اگر کوئی امیدوار وفات پا جاتا ہے تو اس حلقے میں انتخاب ملتوی کر دیاجائے گا، ہر حلقے سے خواتین اور مردوں کے ڈالے گئے ووٹوں کے تناسب کے الگ الگ گوشوارے بھی مرتب کئے جائیں گے، اگر کسی حلقے میں بڑے پیمانے پر شکایات ہوں تو مجاز افسر پولنگ روک سکے گا، حساس پولنگ سٹیشنوں کے اوپر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کے اجراء کے ساتھ ہی اس شخص کا ووٹر فہرست میں نام بھی درج ہو جائے گا، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز ہوں گے، رائے دہی کے عمل 8گھنٹے تک ہوں گے، کمیشن انتخابی فہرستوں میں غیر مسلموں، معذور اشخاص کی رجسٹریشن کیلئے خصوصی اقدامات کریگا، ووٹ ایک ہی جگہ پر درج ہو گا، کمیشن ہر سال کے اختتام کے 90 ایام کے اندر اپنی سالانہ سرگرمیوں کی رپورٹ شائع کرے گا، وفاقی حکومت اورصوبائی حکومتوں کو اس کی کاپی ارسال کی جائے گی، وفاقی و صوبائی حکومتیں یہ رپورٹ دو ماہ کے اندر اپنے متعلقہ ایوانوں میں پیش کریں گی، عام انتخابات کم سے کم6ماہ قبل حلقہ بندیاں،انتخابی فہرستوں پر نظرثانی، سیاسی جماعتوں کے اندراج، نشانات متعین کرنے ، انتخابی عملہ کے تقرر، پولنگ اسٹیشنوں کی عملے کی فہرست، انتخابی نتائج کیلئے شفاف نتیجے کے لئے انصرام کے نظام کے قیام، کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کے تعارف، انتخابی مبصرین کیلئے ضابطہ اخلاق متعارف کرایا جائے گا ۔

سینیٹ ۔ بل منظور

مزید : صفحہ اول