افضل احسن رندھاوا کا انتقال

افضل احسن رندھاوا کا انتقال

پنجابی کے نامور ادیب، شاعر اور مترجم افضل احسن رندھاوا طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے ہیں۔ جدید نثری اور شعری ادب میں بلاشبہ وہ اپنی ایک الگ شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی۔ عالمی ادب سے متعلق چند کتابوں کا انہوں نے پنجابی میں ترجمہ بھی کیا۔ وہ پنجاب کی سیاست، معیشت، ثقافت، ادب اور سماج کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پنجابی زبان اپنے ہی گھر میں ایک اجنبی سی زبان بن کر کیوں رہ گئی ہے اور عہد جدید کے تعلیمی نظام میں کیوں نظر انداز کی گئی ہے، لیکن پنجابی شاونزم کا شکار نہیں ہوئے۔ انہوں نے جو کچھ سوچا اس کا اظہار اپنی تخلیقات کے ذریعے کیا۔ شور انگیزی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ ادب میں ادبی اقدار کو پوری طرح ملحوظ رکھنے کے قائل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشرقی پنجاب بھارت میں بھی یکساں مقبولیت رکھتے تھے۔ ان کا تمام ادبی سرمایہ گورمکھی میں نہ صرف منتقل ہوچکا ہے بلکہ ان پر ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر کئی تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں افضل حسن رندھاوا پیپلز پارٹی کی طرف سے ایم این اے بھی منتخب ہوئے تھے، لیکن ان کی اصل پہچان ایک صاحب طرز ادیب اور شاعر کی قائم ہوئی۔

مزید : اداریہ