پاکستان امریکہ ’’ انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہو گئے

پاکستان امریکہ ’’ انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہو گئے

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی تجزیہ) وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نیویارک کا چار روزہ دورہ مکمل کرکے لندن پہنچ گئے ہیں، اگرچہ یہ ان کا امریکہ کا سرکاری دورہ نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں سیشن میں شرکت کرنا تھا لیکن وہ ایک ایسے وقت میں پہلی مرتبہ اکیلے آئے جہاں اجلاس کے میزبان ملک امریکہ کیساتھ نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد تعلقات میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہوچکی تھی۔ وزیراعظم عباسی کو سابق وزیراعظم کے نااہل ہونے کے بعد بڑے ’’ڈپلومیٹک چیلنج‘‘ کا سامنا تھا ،یوں تو امریکہ کا مطالبہ پرانا تھا لیکن اس جامع پالیسی کے اعلان میں ٹرمپ نے اتنے سخت انداز میں پاکستان سے پہلے کبھی بات نہیں کی تھی، اس نئی حکمت عملی میں پاکستان کیلئے جو دوسرا نیا تکلیف دہ معاملہ شامل تھا وہ اس کے دیرینہ حریف بھارت کو افغانستان میں زیادہ موثر کردار دینا تھا۔ اس دفعہ بھی پاکستان کا ردعمل سخت تھا جتنا سلالہ چیک پوسٹ پر حملوں کے بعد سامنے آیا، حکومت اس حد تک جانا چاہتی تھی یا نہیں امریکہ کے شدید مخالف ’’عقاب‘‘ میدان عمل میں آگئے اور دباؤ اتنا بڑھایا کہ امریکہ کی پاکستان اور افغانستان کے بارے میں خصوصی مندوب ایلس ویلز کو پاکستان کے طے شدہ دورے سے روک دیا گیا اور پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو واشنگٹن کا دورہ منسوخ کرنا پڑاجبکہ دہشتگر دوں کیخلاف پاکستانی فوج کے بڑے آپریشنز سے زخم خوردہ دہشت گردوں کے خفیہ ہمدرد گروہوں کو جو رائے عامہ کو متاثر کرنیوالی تنظیموں کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں ایک مرتبہ پھر امریکہ کیخلاف جذبات کا مظاہرہ کرنے کا موقع مل گیا جو امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرکے ’’طبل جنگ‘‘ بجانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ظاہر ہے پاکستان کی حکومت نے اس حد تک تو نہیں جانا تھا لیکن اس نے امریکہ کیساتھ تمام معاملات کو نچلی سطح پر ڈال دیا، یہ تھا وہ پس منظر جس میں وزیراعظم عباسی نیویارک آئے لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کے دورے سے دونوں ممالک کو ایک سا فائدہ ہوا، دونوں ممالک کے رہنماؤں کو ٹوٹے تعلق کو جوڑنے کا عمل شروع کرنے اور اپنی ’’خود داری‘‘ برقرار رکھنے کیلئے اقوام متحدہ کا ’’غیر جانبدار پلیٹ فارم‘‘ میسر آگیا۔ جذباتی نعرے لگانا بہت آسان لیکن ڈپلومیسی کی دنیا میں سفارتی تعلقات توڑنا تو بہت بڑی بات ہے معمول کے رابطے ختم کرنا بھی آسان کام نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان دونوں کا بھرم قائم رہا۔ ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے بعد وزیراعظم عباسی کے نیویارک دورے سے دونوں ممالک کو اپنی اپنی ضرورتوں کے تحت ’’باہمی سہولت کی شادی‘‘ کی توثیق کرنے کا موقع مل گیا۔ اب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ سب اچھا ہوگیا ہے۔ تھوڑی سی افہام و تفہیم پیدا ہوئی ہے لیکن ابھی عدم اعتماد اور شک و شبہات کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں ممالک تصادم کی بجائے ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم عباسی کا یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی سکیورٹی حلقوں کیلئے بہت دلچسپی اور اطمینان کا باعث ہے کہ پاکستان کو ’’اپنے اندر کی صفائی‘‘ بھی کرنی ہوگی جس سے یہ مطلب لیا جارہا ہے کہ اگر دہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں میں کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں جو دانستہ نہیں تھیں اگر اتنے بڑے ’’سوراخ دار‘‘ سرحدی پہاڑی علاقے میں کہیں چھوٹی موٹی دہشت گردوں کی ’’پاکٹ‘‘ پاکستان کی طرف موجود ہے تو ضروری نہیں ان کی موجودگی میں حکومت کا کوئی ہاتھ ہو ،البتہ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صفائی کا ایک ایسا عمل شروع کیا جائے گا جس سے ان خفیہ پناہ گاہوں کے سوفیصد خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم کونظرانداز کرکے جنوبی ایشیا کے ایک نسبتاً ’’غیراہم‘‘ بنگلہ دیشی لیڈر سے الگ ملاقات کرکے پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ ابھی باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں کچھ وقت لگے گا لیکن انہوں نے اتنا فاصلہ بھی پیدا نہیں کیا۔ اگر وہ بہت زیادہ ناراض ہوتے تو صدر ٹرمپ نیویارک کے ایک ہوٹل میں عالمی لیڈروں کیلئے اپنے استقبالیہ میں وزیراعظم عباسی کو نہ بلاتے۔ وہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان سرسری سا ٹکراؤ ہوا جس کا اگلے روز وزیراعظم نے ایک تقریب میں ذکر کرتے ہوئے بڑے فخر سے بتایا کہ افغانستان کے حوالے سے مختصر سی بات چیت میں صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں بہت مثبت انداز اپنایا۔ سیاسی مبصرین اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں برف پگھل گئی ہے تو بالکل درست ہے۔ مسٹر پنس وائٹ ہاؤس کے اندر موجود پاکستان کے مخالف ’’عقابوں‘‘ میں شمار ہوتے ہیں اور پاکستان کیساتھ زیادہ سخت رویہ اختیار کرنے کے حامی ہیں لیکن وزیر اعظم عباسی سے ملاقات کے بعد ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پاکستان کے بارے میں سوچ یقیناًبہتر ہوئی ہوگی۔اسی طرح نیویارک میں امریکی انتظامیہ کے تیور بہتر دکھائی دیئے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے حوالے سے پاکستان کا الگ سے کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ جب دہشت گردوں کیخلاف جنگ کا حوالہ آیا تو انہوں نے پورے مشرق وسطیٰ کاذکر کیا،جسے سیاسی مبصرین نے پاکستان کے بارے میں ایک مثبت اشارہ قرار دیا ہے ۔وزیر اعظم نے تھنک ٹینکس اور میڈیا کے تمام چبھتے ہوئے سوالات کا تحمل سے جواب دیتے ہوئے ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی۔اسی طرح وزیر اعظم کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو روکنے اور بھارتی کارروائیوں کو مانیٹر کرنے کیلئے مندوب مقرر ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی فتح شمار ہوگی۔مختصر یہ کہ وزیراعظم عباسی کا نیویارک کا دورہ انتہائی کامیاب قرار دیا جا سکتاہے ،کیونکہ انہوں نے نیویارک میں اپنی چار روزہ موجودگی سے امریکہ کیساتھ تعلقات کو کشیدگی سے نکال کر معمول کی راہ پر ڈالا اور عالمی برادری کو دیگر معاملات کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف سے مؤثر طریقے سے آگاہ کیا۔

مزید : صفحہ آخر