پنجاب اسمبلی، اپوزیشن کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر واک آؤٹ

پنجاب اسمبلی، اپوزیشن کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر واک آؤٹ

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کردیا اور اس ایشو پر ایوان میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن سپیکر نے انہیں اجازت نہ دی جس پر آصف محمود اور عار ف عباسی نے اس معاملے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی اپنے مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ اور23منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال خاں کی صدارت میں شروع ہوا اوراجلاس کے آغاز میں صرف10ممبران ایوان میں موجود تھے ۔اجلاس میں محکمہ سپیشلائز ہیلتھ کیئر اور میڈیکل ایجوکیشن کے بارے میں سوالات کے جوابات دیئے گئے۔حکومتی رکن نگہت شیخ کے محکمہ داخلہ سے متعلق بدھ کے روز موخر کئے گئے سوال کا پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل نے ایوان میں جواب دیا تاہم خاتون محرک اس سے مطمئن نہ ہوئیں اور انہوں نے پارلیمانی سیکرٹری کے جواب کو چیلنج کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔نگہت شیخ کا دوسرا سوال آیا تو انہوں نے کہا کہ جب سوال کا جواب ہی نہیں آنا تو کیا فائدہ اور اس کے ساتھ ہی وہ احتجاجاً واک آؤٹ کر گئیں۔ارشد ملک کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت نے ایوان کو بتایا کہ بڑے شہروں کی طرف لوگوں کے رجحان کو کم کرنے کے لئے حکومت اسی سال پنجاب بھر کے تمام ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور گائناکالوجسٹ کی تمام خالی آسامیاں پر کر لے گی ۔ وقفہ سوالات کے بعد پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی آصف محمود نے نکتہ اعتراض پرمطالبہ کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے اور اس پر مجھے آؤٹ آف ٹرن قرارداد بھی ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس پر سپیکر نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر بحث ہے اس لئے اس پر یہاں بات نہیں ہو سکتی۔آصف محمود نے جاحانہ ررویہ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر اس ایوان میں یہ رپورٹ پیش نہیں ہو سکتی اور ہمیں قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہیں مل سکتی پھر ہم کہاں جائیں؟ ۔عارف عباسی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ یہاں نہ کسی کوسوال اور نہ ہی کسی کو تحریک التوائے کار کا جواب ملتا ہے ایک سال سے میری ایک تحریک التواء کار جمع ہے جس کاابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہمیں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ پر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس پر سپیکر نے دوبارہ کہا کہ معاملہ عدالت میں اس پر یہاں بات نہیں ہو سکتی اس موقع پر دونوں ممبران احتجاجاًایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔بعد ازاں سپیکر نے سرکاری کارروائی شروع کی ہی تھی کہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ضیاء کی خاتون رکن ناہید نعیم نے کورم کی نشاندہی کردی سپیکر نے کورم کی نشاندہی پر گنتی کروائی لیکن کورم پورا نہ تھا جس پر سپیکر نے گورنر پنجاب کا تحریری حکم نامہ پڑھ کر سنایا اور اسمبلی کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ۔

مزید : صفحہ آخر