بینکنگ نظام سے ترسیلات کی منتقلی اولین قومی مفاد ہے :سعید احمد

بینکنگ نظام سے ترسیلات کی منتقلی اولین قومی مفاد ہے :سعید احمد

کراچی(اکنامک رپورٹر) ملک کے بینکاری سیکٹر میں سب سے بڑے بینک، نیشنل بینک آف پاکستان نے حال ہی میں ہنڈی۔حوالہ کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مہم پاکستان کو غیر قانونی ذرائع سے رقم کی منتقلی کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔اس مہم کا آغاز ایک مختصردستاویزی ڈرامے کی نمائش کی صورت میں کیا گیا جس میں بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں، اور بالخصوص متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں رہائش پذیر پاکستانیوں کودکھایا گیا ہے۔نیشنل بینک سمجھتا ہے کہ یہ طریقہ بینکاری کے قانونی ذرائع مثلاً نیشنل بینک آف پاکستان کی ’’فوری ریمیٹینس‘‘ کے ذریعے ترسیلات کے لیے عوامی شعورکو اجاگر کرنے میں مدد کرے گا ۔اس مہم کے آغاز کی تقریب میں اعلیٰ افسران کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر، جمیل احمداعزازی مہمان تھے جب کہ تقریب کی صدارت نیشنل بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سعید احمد نے کی۔ اس تقریب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے دیگر اعلی عہدادران میں سید سمر حسین ، ایگزیکٹوڈائریکٹر ڈیولپمینٹ فنانس گروپ ، عابد قمر ، ڈائریکٹر / چیف ترجمان ،معین الدین، ہیڈ پاکستان ترسیل نوٹیفیکیشن اور ارشد ستار ، منیجر سروس کوالٹی ، پاکستان ترسیل نوٹیفیکیشن شامل تھے ۔نیشنل بینک آف پاکستان کی اعلی قیادت میں ایس-ای-وی-پی، گروپ چیف ، ڈویژن ہیڈ ، مدثر خان، عامر ستار، سلطانہ ناہید ، طارق جمیل ، ارتزا قاضمی ، ریشا محی الدین ، جمال باقر ، شاہد اقبال ڈار، زاہد چودھری اور شاہد سعید شامل تھے۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بیک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا " بیرون ملک ورکرز کی ترسیلات ہمارے بیرونی اکاؤنٹ کی لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ یقیناًتوجہ مرکوز بات ہے کہ تمام شراکت داروں کی کوششوں سے ملکی ترسیلات میں مالی سا ل 18 20 کے پہلے دو ماہ میں 13.2% اضافہ ہوا جو مالی سا ل 2017 میں 3.1% کم ہوا تھا ۔ آئیندہ مہینوں میں اس ترقی کی رفتار کو فروغ دینے کے ساتھ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔"انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب ، متحدہ عرب اعمارات اوردیگر خلیجی ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کی جانب بات کی۔مزید بات کرتے ہوئے کہا " ہمارے بینکوں کو نہ صرف روایتی بلکہ غیر روایتی ترسیلات کے نئے راستے تلاش کرکے ان پر کام کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات کے اس نظام کو بہتر کر کے جدت لانے کی ضرورت ہے جس پرصارفین کی توجہ مرکوز ہوسکے۔انہوں نے مزید کہاکہ بینکوں کو ملک اور بیرون ملک موٗثر اور جارحانہ مارکیٹنگ حکمتے عملی مرتب کرنا ہوگی ۔ میں بینکوں کو پرنٹ ، سوشل اورالیکٹرونک میڈیا میں مارکیٹنگ وسائل کے استعمال کرنے کی حوصلہ افضائی کروں گا۔ جمیل احمد نے نیشنل بینک آف پاکستان کے اس قومی مفاد کے قدم کو سراہتے ہوئے مینجمینٹ کا شکریہ ادا کیا۔صدر اور سی ای او نیشنل بینک آف پاکستان سعید احمد نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا" پاکستا ن میں ترسیلات کے کاروبار میں سب سے بڑا چیلینج غیر قانونی ہنڈی/ حوالہ کا نظام ہے ۔ بہتر معالومات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے پاکستانی اس راستے کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ ملک کی معیشت کو بہت نقصان پہنچا رہا ہے ۔ اگر یہ ترسیلات بینکنگ چینل کے ذریعے سے کی جائیں تو ملک کی معیشت کو یقینی طور پر بہت فائدہ اور مالی استحکام ملے گا۔ انہوں نے دستاویزات کی اہمیت پر بات کرتے ہوے سورہ بقرہ کی آیت 282 کا حوالہ بھی دیا ۔ اور کہا ہنڈی/حوالہ کا کاروبار مذہبی اعتبار سے بھی قابل قبول نہیں ہے۔مزید بات کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ اس ڈوکیو-ڈرامہ کا مقصد نیشنل بینک آف پاکستان کے ترسیلات کے کاروبار کو فروغ دینا نہیں بلکہ ان ترسیلات کو قانونی طریقے سے ملک میں لانا ہے۔ بینکوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سہولیات کو صارفین کے لیے مزید بہتر کریں اور جدت کے ساتھ ڈیجیٹل بینکنگ نظام پر زور دیں ۔ لوگوں کو آگاہ کیا جائے کہ قانونی اور روایتی طریقہ اپنا کر ترسیلات کو بینکنگ چینل کے ذریعے بھیجیں۔نیشنل بینک آف پاکستان نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے " Payment Services and Digital Banking " کے نا م سے ایک نیا گروپ تشکیل دیا ہے نیشنل بینک نے حال ہی میں Xpress Money کے ساتھ ایک پروموشنل مہم چلائی تھی۔ اس مہم کے دوران Xpress Money کے ذریعے دنیا بھر سے رقم بھیجنے اور نیشنل بینک کی 1450 سے زائد شاخوں کے ذریعے وصول کرنے والے سو سے زائد کسٹمرز کو سینکڑوں اور ہزاروں روپے مالیت کے انعامات دئیے ہیں۔ Money Xpress پروموشنل مہم کے دوران خوش قسمت ونر کو اس تقریب میں مدعو کیا تاکہ وہ اپنی انعامی رقم250,000/- نیشنل بینک کے صدر سے وصول کریں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر