فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 220

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 220
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 220

  

اسد جعفری کو بھی اسی طرح کالج کے مناظر میں پیش کر دیا۔ اقبال یوسف اور ایس سلیمان بھی کلاس فیلوز میں شامل تھے۔

اے شاہ شکار پوری برّصغیر کے بہت نامور کامیڈین تھے۔ مصنّف‘ فلم ساز اور ہدایت کار بھی تھے۔ اگلے دن سٹوڈیو کے لان ہی میں کالج کے مناظر کی فلم بندی ہونے والی تھی۔ یکایک ہمیں شکار پوری نظر آگئے۔ ہم نے ادب سے سلام کیا۔ وہ احوال دریافت کرنے والے بہت شفیق اور مہربان بزرگ تھے۔ بھاری جسم‘ چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ اور انتہائی بھولا پن۔

طارق صاحب کو ہمیشہ وقت پر ہی سوجھتی تھی۔ ہمیں ایک طرف لے جا کر کہنے لگے ’’آفاقی صاحب وہ پروفیسر کا کریکٹر ہے نا۔ اس کیلئے آپ نے کسے سوچا ہے‘‘

ہم نے کہا ’’طارق صاحب وہ تو ایک ہی سین کا کردار ہے۔ کوئی بھی نیا لڑکا کر لے گا۔‘‘

ان کی آنکھوں میں شرارت بھری چمک اُبھری ’’آفاقی صاحب مزہ آ جائے اگر اے شاہ کو راضی کرلیں۔‘‘

ہم نے ایک لمحہ سوچا پھر اے شاہ صاحب کے پاس حاضر ہوگئے۔

’’ہماری فلم میں تبرّک کے طور پر ایک سین کر دیجئے‘‘ ہم نے تمہید باندھی تھی۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 219  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’صرف ایک سین؟‘‘

ہم نے کہا ’’تبرّک جو ہوا‘‘

وہ ہنسنے لگے ۔ہنستے تھے تو ان کا پیٹ بھی ہنسنے لگتا تھا۔ کہنے لگے ’’آپ نے اتنی سادگی اور اپنائیت سے کہا ہے کہ انکار ممکن نہیں۔‘‘

ہماری خوشی کا ٹھکانا نہیں رہا۔

’’کل دن کو یہیں شوٹنگ ہے آپ کالج کے پروفیسر ہیں اور اس سین میں صرف چند مکالمے ہیں اور بہت سے ایکسپریشنز‘‘

’’بہتر ہے حاضر ہو جاؤ گا‘‘ انہوں نے بزرگانہ وقار سے کہا۔ کیسے کیسے لوگ تھے غالب کا شعر ہر بار یاد آ جاتا ہے۔

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

یہ چھوٹا سا دلچسپ سین بھی ’’کنیز‘‘ کو سجانے کا سبب بن گیا۔ مگر طارق صاحب کی فرمائش تھیں کہ بڑھتی ہی جا رہی تھیں۔

ایک سین میں کسی خاتون کی ضرورت تھی۔ ہم سے بولے ’’آفاقی صاحب ایک بات مانیں گے؟‘‘

ہم سمجھ گئے کہ کوئی اور فرمائش کریں گے۔

کہنے لگے ’’اس سین کے لئے نبیلہ نہیں مل سکتی؟‘‘

نبیلہ اس وقت تک صرف ایس ایم یوسف صاحب کی فلموں میں کام کرنے کی پابند تھیں ۔وہ بالکل نئی نئی فلمی دنیا میں آئی تھیں۔ ہم سے دو چار بار آمنا سامنا تو ہوا تھا اور انہوں نے خوش اخلاقی سے بات بھی کر لی تھی مگر اس سے زیادہ تعلقات نہ تھے۔ اب سوچتے ہیں تو خود پر حیرت بھی ہوتی ہے۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب مشکل سے مشکل اور بڑے سے بڑا کام بھی آسان لگتا تھا۔

طارق صاحب کے منہ سے بات نکلی اور ہم فکر میں پڑ گئے۔ انہیں بھی ہماری اس کمزوری کا علم تھا کہ ان کا صرف ایک بار کہہ دینا ہی کافی ہے۔ وہ بات ہمارے ذہن میں اٹک کر رہ جائے گی۔ جان نہ پہچان مگر اس شام ہم سمن آباد میں نبیلہ کے گھر پہنچ گئے۔ ملازم کو بتایا کہ میڈم سے کہو آفاقی صاحب آئے ہیں۔

اس نے اندر پیغام پہنچایا اور پھر ہمیں ڈرائنگ روم میں لے جا کر بٹھا دیا ’’سر جی ۔۔۔ چائے لاؤں یا ٹھنڈا؟‘‘

ہم نے کہا ’’بس بیگم صاحبہ کو بلاؤ۔‘‘

چند لمحے بعد نبیلہ مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں مگر ٹھٹک کر رہ گئیں۔ چہرے کی مسکراہٹ بھی منجمد ہو کر رہ گئی۔ ہم احتراماً کھڑے ہوگئے‘‘ اسلام علیکم‘‘

’’وعلیکم السلام‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ پھر بولیں ’’معاف کیجئے گا۔ سلام تو مجھے کرنا چاہیے تھا مگر میں کچھ گھبرا گئی۔‘‘

’’ڈر تو نہیں گئیں۔؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

وہ ہنسنے لگیں ’’آپ کا تو مجھے خیال ہی نہیں تھا۔ میں سمجھی ساقی صاحب آئے ہیں۔ آپ کہاں اور ہم کہاں؟‘‘

باتیں بنانا انہیں خوب آتی تھیں حالانکہ فلمی صنعت میں نووارد تھیں مگر مزاج میں بناوٹ یا تکلف نام کو نہیں تھا۔

انہوں نے ملازم کو چائے لانے کے لئے کہا پھر ہماری طرف متوجہ ہوگئیں۔ ہم نے مناسب اور مختصر لفظوں میں انہیں صورت حاصل سے آگاہ کیا۔ سین کی نوعیت بیان کی اور درخواست کی کہ وہ یہ مختصر سا کام کر دیں۔

وہ سوچ میں پڑ گئیں۔ پھر بولیں ’’آفاقی صاحب آپ شاید جانتے ہوں گے کہ مجھے یوسف صاحب نے سائن کر رکھا ہے اور ان کی اجازت کے بغیر میں کسی اور فلم میں کام نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مجھے چانس دیا ہے وہ یہ بات نہیں مانیں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’مگر یہ تو صرف ایک سین میں مہمان اداکارہ کا کام ہے۔‘‘

کہنے لگیں ’’یہ تو اور بھی قابل اعتراض بات ہے کہ ان کی نئی دریافت کسی فلم میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرے۔‘‘

ہم چپ رہ گئے۔ کیا جواب دیتے۔ ان کی بات نہایت معقول تھی۔

وہ کہنے لگیں ’’آپ یوسف صاحب سے خود بات کر لیجئے۔ آپ کو وہ انکار نہیں کریں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’یہ کام آپ خود ہی کیوں نہیں کر لیتیں‘‘

’’میری تو وہ ہرگز نہیں مانیں گے بلکہ ناراض ہو جائیں گے۔‘‘

چائے آگئی اور انہوں نے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔

طارق صاحب کے منہ سے بات نکلی اور ہم فکر میں پڑ گئے۔ انہیں بھی ہماری اس کمزوری کا علم تھا کہ ان کا صرف ایک بار کہہ دینا ہی کافی ہے۔ وہ بات ہمارے ذہن میں اٹک کر رہ جائے گی۔ جان نہ پہچان مگر اس شام ہم سمن آباد میں نبیلہ کے گھر پہنچ گئے۔ ملازم کو بتایا کہ میڈم سے کہو آفاقی صاحب آئے ہیں۔

اس نے اندر پیغام پہنچایا اور پھر ہمیں ڈرائنگ روم میں لے جا کر بٹھا دیا ’’سر جی ۔۔۔ چائے لاؤں یا ٹھنڈا؟‘‘

ہم نے کہا ’’بس بیگم صاحبہ کو بلاؤ۔‘‘

چند لمحے بعد نبیلہ مسکراتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں مگر ٹھٹک کر رہ گئیں۔ چہرے کی مسکراہٹ بھی منجمد ہو کر رہ گئی۔ ہم احتراماً کھڑے ہوگئے‘‘ اسلام علیکم‘‘

’’وعلیکم السلام‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ پھر بولیں ’’معاف کیجئے گا۔ سلام تو مجھے کرنا چاہیے تھا مگر میں کچھ گھبرا گئی۔‘‘

’’ڈر تو نہیں گئیں۔؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

وہ ہنسنے لگیں ’’آپ کا تو مجھے خیال ہی نہیں تھا۔ میں سمجھی ساقی صاحب آئے ہیں۔ آپ کہاں اور ہم کہاں؟‘‘

باتیں بنانا انہیں خوب آتی تھیں حالانکہ فلمی صنعت میں نووارد تھیں مگر مزاج میں بناوٹ یا تکلّف نام کو نہیں تھا۔

انہوں نے ملازم کو چائے لانے کے لئے کہا پھر ہماری طرف متوجہ ہوگئیں۔ ہم نے مناسب اور مختصر لفظوں میں انہیں صورت حاصل سے آگاہ کیا۔ سین کی نوعیت بیان کی اور درخواست کی کہ وہ یہ مختصر سا کام کر دیں۔

وہ سوچ میں پڑ گئیں۔ پھر بولیں ’’آفاقی صاحب آپ شاید جانتے ہوں گے کہ مجھے یوسف صاحب نے سائن کر رکھا ہے اور ان کی اجازت کے بغیر میں کسی اور فلم میں کام نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مجھے چانس دیا ہے وہ یہ بات نہیں مانیں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’مگر یہ تو صرف ایک سین میں مہمان اداکارہ کا کام ہے۔‘‘

کہنے لگیں ’’یہ تو اور بھی قابل اعتراض بات ہے کہ ان کی نئی دریافت کسی فلم میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرے۔‘‘

ہم چپ رہ گئے۔ کیا جواب دیتے۔ ان کی بات نہایت معقول تھی۔

وہ کہنے لگیں ’’آپ یوسف صاحب سے خود بات کر لیجئے۔ آپ کو وہ انکار نہیں کریں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’یہ کام آپ خود ہی کیوں نہیں کر لیتیں‘‘

’’میری تو وہ ہرگز نہیں مانیں گے بلکہ ناراض ہو جائیں گے۔‘‘

چائے آگئی اور انہوں نے اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔ فلمی صنعت کے بارے میں اپنے تاثرات اور تجربات بیان کئے۔ نبیلہ نے بعد میں کئی اردو اور پنجابی فلموں میں ممتاز کردار کئے۔ وہ بھرپور جسم کی ایک پُرکشش اداکارہ تھیں۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں بھرے بھرے ہونٹ‘ دلکش نقوش‘ مکالموں کی ادائیگی بھی بہت اچھّی طرح کرتی تھیں۔ ہم نے رُخصت کی اجازت چاہی۔

’’آپ شاید ناراض ہوگئے؟‘‘ انہوں نے ہمیں رخصت کرتے ہوئے کہا۔

’’نہیں تو‘‘

’’تو پھر یوسف صاحب سے بات کریں گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

ہم نے کہا ’’بات کھونے سے کیا فائدہ۔ آپ کا خیال ٹھیک ہی ہے وہ اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

مگر ہم باہر نکلنے لگے تو انہوں نے کہا ’’اچھا ایسا کیجئے۔ آپ کل صبح مجھے فون کر سکتے ہیں؟‘‘

’’کیوں نہیں۔۔۔ ‘‘ہم نے ان کا فون نمبر نوٹ کیا اور آگئے۔ سوچا کہ محض ہمارا دل رکھنے کے لئے انہوں نے اخلاقاً ٹرخا دیا ہے۔

دوسرے دن ہم نے انہیں فون کیا ’’آفاقی صاحب آپ ٹھیک ہی کہہ رہے تھے۔ ‘‘ان کی کھنکتی ہوئی آواز سنائی دی۔

’’یوسف صاحب نے منع کر دیا نا؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’یوسف صاحب نے اجازت دے دی ہے‘‘ انہوں نے اطلاع دی اور ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔

اس شام ہم نے طارق صاحب سے کہا ’’طارق صاحب آپ نے کہا تھا نا نبیلہ سے بات کرنے کیلئے؟‘‘ وہ اس وقت تاش کی بازی میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے ’’آفاقی صاحب میں نے رحیم سے کہہ دیا ہے وہ کوئی بندوبست کر دے گا۔‘‘

ہم نے کہا ’’ہم نے نبیلہ سے بات کی تھی۔‘‘

انہوں نے بے خیالی میں کہا ’’میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا۔ یوسف صاحب اسے پرمیشن نہیں دیں گے۔‘‘

ہم نے کہا ’’مگر انہوں نے پرمیشن دے دی ہے۔‘‘

طارق صاحب نے حیران ہو کر ہمیں دیکھا ’’کیا اس سین کے لئے نبیلہ مل جائے گی؟‘‘

’’بالکل مل جائے گی۔ مگرشوٹنگ شام کو رکھنی پڑے گی۔‘‘ وہ خوش ہوگئے

’’ شوٹنگ کا کیا ہے۔ کسی وقت بھی رکھ لیں گے ایک ہی توسین ہے۔‘‘

نبیلہ نے اپنا وعدہ نبھا دیا۔ ان کا یہ ایک سین ’’کنیز‘‘ میں موجود ہے۔ شوٹنگ کیلئے ہمارے کہنے پر وہ ایک قیمتی ساڑھی پہن کر آئی تھیں۔ جب ہم نے ٹیلی فون پر انہیں بتایا کہ فلم میں وہ ایک خوشحال خاتون ہیں۔ کوئی سا بھی لباس استعمال کر سکتی ہیں تو انہوں نے پوچھا ’’ساڑھی چل جائے گی نا؟‘‘

ہم نے جواب دیا ’’بالکل چل جائے گی مگر ذرا خوبصورت ہو۔‘‘

ریسور میں ان کی ہنستی ہوئی آواز سنائی دی’’ میں جوبھی ساڑھی پہنوں گی وہ خودبخود خوبصورت ہو جائے گی۔‘‘

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کللک کریں)

مزید : فلمی الف لیلیٰ