گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 31

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 31

  

ووٹر امیدواروں کی خوبیوں کا اندازہ کرنے کیا ہل نہیں تھے۔ وہ قبیلہ، ذات پات اور دوستی کے رشتوں سے متاثر ہوتے تھے یا پھر اس بات سے اثر قبول کرتے تھے کہ امیدوار اور اس کے رشتہ دار خود اس کے حق میں حکام پر کس قدر دباؤ ڈالنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

میرے چچا سردار خان، جو میرے پہلے انتخاب میں میری طرف سے کنویسنگ کررہے تھے۔ ایک کسان سے ووٹ مانگنے کے لئے گئے جو کھیت میں بیٹھا شلغم کھود رہا تھا۔ اس نے کہا ’’میں آپ کو ووٹ دوں گا لیکن سب سے پہلے یہ کریں کہ یہ شلغم اپنی کار میں ڈال کر میری جھونپڑی تک پہنچادیں اور دوسرے یہ کہ مہربانی کرکے میرے بچوں کو کار کی سیر کرادیں۔‘‘ کسان نے میرے بارے میں ایک بھی سوال نہیں کیا اور نہ درپیش مسائل کا تذکرہ کیا۔ ایک اور شخص نواحی گاؤں سے میرے والد کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ دو سال ہوئے میری گدھی کھوگئی تھی اور میرا شک ایک کمہار پر ہے۔ جو نور پور نون میں رہتا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ کمہار وہ گدھی واپس لوٹا دے یا پھر اس کی تلافی میرے والد کریں۔ بصورت دیگر وہ مجھے ووٹ نہیں دے گا۔ ووٹ کا حق، ملک و ملت کی خدمت کے لئے استعمال نہیں کیا جارہا تھا بلکہ ذاتی شکایات کے ازالہ اور ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمال ہورہا تھا۔ میرے ایک حریف امیدوار نے دوستوں کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ ’’میرے اور فیروز کے درمیان کشتی ہوجائے اور ہم میں سے جو جیتے اسے لیجسلیٹو کونسل کے لئے منتخب سمجھ لیا جائے۔‘‘ اس میں شک نہیں تھا کہ یہ بات وہ محض دل لگی سے کہہ رہا تھا لیکن یہ حقیقت مذکورہ فقرہ اس کی زبان سے ادا ہوا، بجائے خود خاصی اہم تھی۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 30  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

لیکن ان چھوٹے لوگوں کی زندگی میں پہلی بار تمام انسانوں کی برابری کا کسی قدر احساس پیدا ہوا تھا۔ یہاں جو واقعات بیان ہوئے ہیں، وہ شاید معمولی نظر آئیں لیکن وہ ایک عظیم تبدیلی کی علامت تھے۔ اس وقت تک چھوٹا آدمی ہمیشہ اپنے سے زیادہ خوشحال اور بااثر ہمسایہ کے پاس چل کر جاتا تھا لیکن اب اس نام نہاد بڑے آدمی کو نادار آدمی کے پاس اپنی غرض کے لئے جانا پڑا۔ اس سے چھوٹے آدمی میں ایک ایسی طاقت پیداہوگئی جو ماضی میں کئی صدیوں کے دوران میں بھی پیدا نہ ہوئی تھی۔

ہر شخص غریب آدمی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے پیش پیش تھا، اور انسانی سلوک، ہمدردی اور امداد کے ذریعہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوتا تھا لیکن اس وقت اچھے ووٹر بھی تھے۔ ایک صاحب تھے، رحمت خان بدرانہ، جو دریائے چناب کے کنارے بدر نامی گاؤں کی انتہائی بااثر شخصیات تھے۔ انہوں نے مجھے ووٹ دینے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے خیال میں مَیں مفید ثابت ہوسکتا تھا حالانکہ انہوں نے مجھے کبھی دیکھا بھی نہیں تھا۔ انہوں نے صرف میرے خاندان اور اس کی شہرت کے متعلق سن رکھاتھا۔ کچھ عرصے بعد میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ بولے ’’میں تو اس کا قائل ہوں کہ نیکی کر، دریا میں ڈال‘‘ یعنی نیکی کرو اور پھرا س کے بارے میں سب کچھ بھول جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے یہی کیا تھا۔ میری چالیس سالہ کی پبلک زندگی میں ایک بار بھی نہ تو انہوں نے ا ور نہ ان کے خاندنان کے کسی اور فرد نے مجھ سے کسی طرح کی رعایت طلب کی۔

1920 کے انتخابات میں اور اب بھی صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے، رائے دہی کا طریقہ انتظامیہ کے لئے ایک زبردست مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ 90 فیصد ووٹر اَن پڑھ تھے۔ انتظام یہ تھا کہ جہاں اس طرح کی صورت ہو، وہاں پریذائیڈنگ افسر بیلٹ پیپر پر نشان لگادیا کرے گا بعد میں سائمن وفد کے ایک رکن نے بتایا کہ اس طرح محض فرد واحد یعنی پریذائیڈنگ افسر نے ممبر کا انتخاب کیا اور اس نے بیلٹ پیپر پر جس طرح چاہا نشان لگادیا۔ ایک پولنگ بوتھ پر پریذائیڈنگ افسر کا معمول تھا کہ دروازے تک جاتا اور ووٹ رسے پوچھتا کہ تم کسے منتخب کرنا چاہتے ہو؟ اس کے بعد وہ بیلٹ پیپر لے کر بیلٹ باکس کی طرف جاتا اور راستے میں اس پر اپنی مرضی سے نشان لگادیا کرتا تھا۔ ظاہر ہے کہ وہ کسی خاص امیدوار کے لئے کام کررہا تھا۔

امیدواروں کے درمیان اپنی پسند کے پریذائیڈنگ افسروں کے تقرر پر زبردست کھینچا تانی ہوتی تھی اور اس مسئلہ پر الیکشن کمشنروں کے ہاں درخواستوں کا تانتا بندھ جاتا تھا۔ بعض ضلع ہیڈکوارٹر میں پولیس کی تحویل میں رکھے ہوئے بیلٹ باکس کھول لئے جاتے، مہریں توڑ دی جاتیں اور گنتی سے پہلے جعلی بیلٹ پیپر ان میں شامل کردئیے جاتے تھے۔ آج کل ووٹوں کی گنتی شام تک موقع پر ہی کرلی جاتی ہے اور ہر امیدوار اس مصمون کا سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے کہ اتنے ووٹ اس کے حق میں ڈالے گئے ہیں۔ اس تبدیلی کے لئے خود مجھے ذاتی طور پر بہت کچھ کرنا پڑا تھا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی کی اکثریت ناخواندہ ہو اور ووٹر بیلٹ پیپر پر حسب منشا نشان لگانے سے معذور ہوں، وہاں رائے شماری خفیہ نہیں رہ سکتی۔ 99.9 فیصد ووٹر اپنے امیدوار کے ساتھ پولنگ بوتھ پر آتے ہیں چنانچہ ہر شخص کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ صرف اعشاریہ ایک فیصد ووٹر ہی جو خواندہ ہوتے ہیں اپنے انتخابات میں رازداری سے کام لیتے ہیں اور وہ بھی اس لئے کہ یا تو انہیں رقم درکار ہوتی ہے اور وہ اس طرح اپنا ووٹ فروخت کرسکتے ہیں یا اپنے انتخاب کو سرکاری دباؤ کے باعث خفیہ رکھتے ہیں۔ یا یہ کہ انہیں شرپسندوں اور غنڈوں کا ڈر ہوتا ہے۔ پریذائیڈنگ افسر کو یہ اجاذت دینا کہ وہ ووٹنگ پیپر پر نشان امیدواروں کے نمائندوں کو دکھائے بغیر لگالیا کرے اور اس طرح محض ایک شخص کے ووٹ کی رازداری کی خاطر پورے انتخابات کو خطرہ میں ڈال دینا نا سمجھی کی بات ہے۔

ایک امیدوار نے مجھے بتایا کہ اس نے ایک ایسی برقع پوش عورت کو پکڑا جس نے اس کے خلاف 96 مرتبہ ووٹ ڈالنے کا اعتراف کیا۔ ( ایران میں ستمبر 1963ء میں جو انتخابات ہوئے تھے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے بیلٹ پیپر پر اپنے کسی دوست سے پہلے ہی نشان لگواکرلایا تھا۔ اب خواہ کوء ی کتنا ہی اعتراض کرے لیکن یہ ہے بڑا نادر خیال۔)

بہت سے ووٹر خاص طور پر میونسپلٹی کے انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنے کی بجائے فروخت کرنے کے لئے پولنگ بوتھ سے باہر لے آتے تھے۔ بعدازاں اس طرح سے خریدے ہوئے متعدد بیلٹ کسی ایک ووٹر کو دے دئیے جاتے جو انہیں ڈبے میں اکٹھے ڈال آتا تھا۔ ووٹوں کی یہ خرید و فروخت صرف اس طرح ختم کی جاسکتی ہے کہ پریذائیڈنگ افسر بیلٹ پیپر پر نشان امیدوار کے ایجنٹوں کے روبرو لگائے اور اسے بیلٹ باکس میں اپنے ہاتھ سے ڈالے۔ جمہوریت کو آزمائش و غلطی کے ایک مسلسل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ نو آزاد نو آبادیات میں کوئی جمہوری طرز کی حکومت، غلطیوں کے امکان سے پاک اور پہلے سے ڈھلی ڈھلائی قائم نہیں کی جاسکتی۔

1920ء کے انتخابات میرے ووٹروں کو پولنگ سٹیشن پہنچنے کے لئے پیدل یا گھوڑوں پر کوئی 18 میل کا فاصلہ طے کرنا پڑا۔ حکومت نے ووٹروں کے لئے خوراک یا آمدورفت کے بندوبست کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔ افسر شاہی رائے عامہ سے مشورہ کئے بغیر اس طرح کے قانون نافذ کرتی ہے۔ ہوا یہ کہ عملاً ہر ووٹر کوکھانا کھلایا گیا اور اسے سفر کی سہولت مہیا کی گئی لیکن اس کا بندوبست امیدواروں کے دوست احباب نے کیا جنہیں انتخابی عذرداریوں کا سرے سے کوئی اندیشہ نہ تھا۔ دولت مند اور غریب دونوں طرح کے امیدواروں کو مساوی مواقع مہیا کرنے کا واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انتخاب کی بندوبست ٹھیک وہیں ہو جہاں ووٹر رہتے ہیں۔ اس سے ہر چند کہ پولنگ بوتھ کی تعداد بڑھ جائے گی اور یہ انتظام بہت مہنگا ثابت ہوگا لیکن ایسا کرنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔ ہر ایک ہزار کی آبادی کے لئے ایک پولنگ بوتھ ہونا چاہیے۔ ان تمام پولنگ بوتھوں پر امن بحال رکھنے کے لئے پولیس کی تعداد شاید ناکافی ہو لیکن اس کے لئے انتخابات کی مدت بڑھائی جاسکتی ہے۔

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : فادرآف گوادر