جنرل ضیا الحق نے بھٹو کاتختہ الٹنے میں ناکامی کے بعد ملک سے کیسے فرار ہونا تھا؟ایک ایسے جنرل کی گواہی جو ان کا معتمد تھا

جنرل ضیا الحق نے بھٹو کاتختہ الٹنے میں ناکامی کے بعد ملک سے کیسے فرار ہونا ...
جنرل ضیا الحق نے بھٹو کاتختہ الٹنے میں ناکامی کے بعد ملک سے کیسے فرار ہونا تھا؟ایک ایسے جنرل کی گواہی جو ان کا معتمد تھا

  

لاہور (نظام الدولہ)ملک میں بغاوت اور تختہ الٹنے سے پہلے اور جیلوں میں ڈالے جانے کے خوف کی وجہ سے بھی حکمران اپنے اہل خانہ کو ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں ۔اگر ان کا آپریشن ناکام ہوجائے تو وہ خود بھی بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسکی کئی مثالیں سامنے ہیں،بھٹو تو تختہ دار پر چڑھ گئے کہ انہیں اس کا موقع نہ مل سکا لیکن صدر ضیا الحق نے فوجی آپریشن میں ناکامی کے بعد بھاگنے کا بندوبست کیا ہوا تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تخت الٹنے سے پہلے جنرل ضیا الحق کی کیفیت کیا تھی اور کن سوچوں میں گم تھے یہ باتیں راز میں ہی رہتیں اگر انکے معاون اور معتمد ساتھی جنرل فیض علی چشتی (جنہیں وہ اپنا مرشد بھی کہتے تھے ) اپنی کتاب Betrayals of Another Kind میں جنرل ضیا الحق کے اقدامات اور انکے تحفظات پر کتاب مرتب نہ کرتے ۔ جنرل چشتی لکھتے ہیں کہ جنرل ضیا تختہ الٹنے میں ناکام ہوجاتے تو انہیں سنگین سزا کا سامنا کرنا پڑتا لہذا انہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی ذہنی معذور بیٹی کے آپریشن کا بہانہ بنایااوراہل خانہ کو برطانیہ بھیج دیاتھا تاکہ بغاوت کی ناکامی کی صورت میں ان کے اہلخانہ کو انتقام کا نشانہ نہ بنایا جاسکے۔

جنرل فیض علی چشتی فوجی بغاوت کے نمایاں ترین کردار اور چشم دید گواہ ہیں انہوں نے لکھا کہ ’’آپریشن فئیر پلے کے تحت جب مارشل لاء کی کارروائی جاری تھی تو راولپنڈی کور کے انٹیلی جنس چیف نے بتایا کہ دھمیال میں ایک ’’پوما‘‘ ہیلی کاپٹر مختصر نوٹس پر اڑان بھرنے کو تیار کھڑا ہے۔یہ ہیلی کاپٹر دو ہی افراد کے لئے ہوسکتا تھا،بھٹو یا پھر ضیا ء الحق۔بھٹو کا نام اس لئے خارج ازامکان ہے کہ اسے تو خبر ہی نہ تھی کہ کیا ہونے جا رہا ہے اور پھر وہ اپنی فیملی کو تنہا چھوڑ کر کیسے جا سکتا تھا۔یہ ہیلی کاپٹرممکنہ طور پر ضیاء الحق کیلئے ہی تھا جس کا سب کچھ داؤ پر لگا تھا۔اگر آپریشن فیئر پلے ناکام ہو جاتا تو ضیاء الحق کا کیا انجام ہوتا؟اسی لئے تو حکومت کا تختہ الٹنے کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے ضیاء نے مجھ سے کہا’’مرشد مروا نہ دینا‘‘بہر حال یہ ہیلی کاپٹر جس کسی کے لئے بھی تھا،میں نے انٹیلی جنس چیف کو کہا اس پر نظر رکھو اور یہ کسی صورت اڑنے نہ پائے۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس