اس خاتون نے اپنے جسم میں 35لاکھ سال پرانی ایک ایسی چیز ڈال لی کہ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

اس خاتون نے اپنے جسم میں 35لاکھ سال پرانی ایک ایسی چیز ڈال لی کہ جان کر آپ کو ...
اس خاتون نے اپنے جسم میں 35لاکھ سال پرانی ایک ایسی چیز ڈال لی کہ جان کر آپ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آئے گا

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) طویل عمر اور دیرپا جوانی کی خواہش تو سبھی کو ہوتی ہے لیکن اس جرمن خاتون نے اس خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے جسم میں 35لاکھ سال پرانی ایک ایسی چیز انجکشن کے ذریعے ڈال لی ہے کہ جان کر آپ کے لیے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے شہر میونخ کی اس 45سالہ اداکارہ نے پہلے تو نوجوان نظرآنے کے لیے 37ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 52لاکھ62ہزار روپے) خرچ کرکے پلاسٹک سرجری کروائی اور پھر روس کے علاقے سائبیریا سے حاصل ہونے والے 35لاکھ سال پرانے بیکٹیریا انجکشن کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر لیے۔

اس گوری خاتون نے اپنے جسم میں کیا چیز ڈالی کہ جلد کا رنگ کالا ہوگیا؟ جواب آپ کو بھی حیران پریشان کردے گا

رپورٹ کے مطابق سائبیریا کے برف پوش علاقے سے یہ بیکٹیریا روسی سائنسدانوں نے 2009ءمیں دریافت کیے تھے۔ 2015ءمیں سائنسدانوں نے باسیلس ایف (Bacillus F)نامی ان بیکٹیریا پر تحقیق ختم کی اور حیران کن انکشاف کیا کہ ان بیکٹیریا میں عمر بڑھنے کا عنصر موجود نہیں اور یہ جیسے 35لاکھ سال قبل تھے آج بھی لگ بھگ ویسی حالت میں ہی موجود ہیں اور یہ انسانی صحت کو بہتر بنانے اور اس کی عمر طویل کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔مینوش نامی اس اداکارہ کو ان بیکٹیریا کے حامل محلول کے نمونے ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ جیوکریولوجی کے سربراہ ڈاکٹر اناتولی بروچکوف نے دیئے جو اس نے انجکشن کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر لیے۔کسی ڈاکٹر نے اس کے جسم میں یہ بیکٹیریا اس لیے داخل نہیں کیے کیونکہ یہ ایک تجربہ تھا اور ان کا لائسنس منسوخ ہو سکتا تھا، چنانچہ مینوش نے خود اپنے آپ کو انجکشن لگایا تاہم اس وقت ڈاکٹر اور دیگر لوگ اس کے پاس موجود تھے تاکہ اگر کوئی ایمرجنسی ہو تو اس کی مدد کی جا سکے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ”میری جلد اتنی نرم ہے جیسے کسی بچے کی ہوتی ہے۔ آپ تصاویر میں اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے لیکن اگر آپ سامنے آ کر مجھے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ میری جلد پر کوئی نشان یا داغ دھبے نہیں ہیں۔میں نے خود کو کبھی اس سے بہتر محسوس نہیں کیا۔ میں کبھی اس سے بہتر، گہری اور لمبی نیند نہیں لے سکی۔ میں ورزش بہت زیادہ کرتی ہوں۔ میں باقاعدگی سے دو میل دوڑتی ہوں لیکن میں اتنی فٹ ہوں کہ تین میل تک دوڑ سکتی ہوں۔ رواں سال گرمیوں میں ہمارے ہاں موسم میں شدید تبدیلی ہوئی ہے اور عام حالت میں اگر ایسی تبدیلی ہو تو مجھے سردی لگ جاتی ہے لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔ شاید یہ اس لیے نہیں ہوا کہ میں اپنے جسم میں وہ قدیم بیکٹیریا داخل کر چکی ہوں۔ اس کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے تاہم میرے خیال میں وہ بیکٹیریا ہی اس کی وجہ ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس