’میرا باپ ایک جاسوس تھا جس کا کام تھا کہ۔۔۔‘ معروف اداکار جیکی چن نے پہلی مرتبہ ایسا انکشاف کردیا کہ دنیا دنگ رہ گئی

’میرا باپ ایک جاسوس تھا جس کا کام تھا کہ۔۔۔‘ معروف اداکار جیکی چن نے پہلی ...
’میرا باپ ایک جاسوس تھا جس کا کام تھا کہ۔۔۔‘ معروف اداکار جیکی چن نے پہلی مرتبہ ایسا انکشاف کردیا کہ دنیا دنگ رہ گئی

  

ہانگ کانگ سٹی(نیوز ڈیسک)عالمی شہرت یافتہ اداکار جیکی چن کو کون نہیں جانتا۔ دنیا بھر میں ان کے کروڑوں مداح ہیں، جو ان کے بارے میں ہر بات جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جیکی چن کے بارے میں دنیا بھر کے میڈیا میں کوئی نہ کوئی خبر سامنے آتی ہی رہتی ہے لیکن اپنے بارے میں انہوں نے خود ایک ایسی بات کا انکشاف کر دیا ہے کہ جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔

ویب سائٹ i.stuff.co.nz کے مطابق جیکی چین نے اپنی زندگی کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا ”دراصل میں آسٹریلوی ہوں۔ میری پیدائش تو ہانگ کانگ میں ہوئی لیکن میرا بچپن آسٹریلوی شہر کینبرا میں گزرا اور میرے والد چارلس اور والدہ لی لی کا آسٹریلیا سے گہرا تعلق ہے۔ دونوں کی تدفین بھی کینبرا میں ہوئی۔ جب میں اے ٹی سی ڈکسن کالج میں پڑھتا تھا تو مجھے لوگ سٹیو کے نام سے جانتے تھے۔ کینبرا میں امریکی سفارتخانے میں، جہاں میرے والدین کام کرتے تھے، لوگ مجھے پاﺅ کہہ کر پکارتے تھے۔ سفارتخانے کے ایک ڈرائیور کا نام جیک تھا اور اسی نے مجھے بھی جیک کا نام دیا جو بعد میں جیکی بن گیا۔

’خواتین کے پاس آدھا دماغ ہوتا ہے اور جب وہ بازار جاتی ہیں تو۔۔۔‘ سعودی عالم دین نے ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی کہ اس کے نماز پڑھانے اور تبلیغ کرنے پر ہی پابندی لگادی گئی

میرے والد ایک جاسوس تھے۔ انہوں نے چین میں کمیونسٹوں سے بچنے کیلئے راہ فرار اختیار کی اور پہلے ہانگ کانگ اور پھر آسٹریلیا چلے گئے۔ جب وہ ہانگ کانگ اور آسٹریلیا میں روپوش تھے تو کئی سال تک بطور جاسوس کام کرتے رہے۔ جب وہ کینبرا میں امریکی سفارتخانے میں روپوش تھے تو ان دنوں میں ہانگ کانگ میں مقیم تھا اورہانگ کانگ میں ہی میں نے مارشل آرٹس اور ایروبکس کی تربیت حاصل کی۔ میں اپنے لڑکپن میں دوبارہ آسٹریلیا اپنے والدین کے پاس چلا گیا تھا۔

آسٹریلیا سے میں دوبارہ ہانگ کانگ واپس آیا اور اداکاری کے شعبے میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ انہی دنوں میں نے اپنے نام جیک کوبدل کر جیکی کیا تھا۔ شروع میں مَیں نے کچھ فلموں میں کام کیا لیکن بری طرح ناکام ہوا۔ اس کے بعد جب میں نے گولڈن ہارویسٹ کمپنی کے بینر تلے بننے والی فلموں میں کام شروع کیا تو تب مجھے کامیابی ملنا شروع ہوئی۔

’بوڑھے بوڑھے عرب شیخ یہاں آتے ہیں اور اُن کے سامنے نوعمر لڑکیوں کو پیش کیا جاتا ہے، جن میں سے انتخاب کرکے وہ۔۔۔‘ یہ شرمناک کام کس علاقے میں کیا جارہا ہے؟ جان کر آپ کے واقعی ہوش اُڑجائیں گے

آج لوگ سمجھتے ہیں کہ میں پیدائشی کامیاب ہوں، میں انہیں بتانا چاہتاہوں کہ میں نے بہت سی ناکامیاں دیکھنے اور کئی سال کی محنت کے بعد پہلی کامیابی کا منہ دیکھا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری کامیابی میں میری اس عادت کا بنیادی کردار ہے کہ میں ناکامی کے باوجود ہمت نہیں ہارتا اور محنت جاری رکھتا ہوں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس