پاکستان میں کوڑے کے ڈھیرسے ایسی قیمتی ترین چیز مل گئی کہ پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی، ایسی کیا اہم ترین چیز ہے؟ جان کر ہر پاکستانی خوشی سے جھوم اُٹھے گا

پاکستان میں کوڑے کے ڈھیرسے ایسی قیمتی ترین چیز مل گئی کہ پوری دنیا میں کھلبلی ...
پاکستان میں کوڑے کے ڈھیرسے ایسی قیمتی ترین چیز مل گئی کہ پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی، ایسی کیا اہم ترین چیز ہے؟ جان کر ہر پاکستانی خوشی سے جھوم اُٹھے گا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پلاسٹک بڑی مفید چیز ہے کیونکہ روز مرہ استعمال کی سینکڑوں اشیاءاس سے بنتی ہیں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ اسے گلنے سڑنے کے لئے صدیوں کا وقت درکار ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں کے لئے یہ ایک دردسر بن چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ 80 لاکھ ٹن سے زائد پلاسٹک صرف سمندروں کی نذر ہوتا ہے جبکہ خشکی پر پایا جانے والا پلاسٹک اس کے علاوہ ہے۔ مجموعی طور پر پلاسٹک کا یہ کچرا انسانی ماحول کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ سائنسدان ایک مدت سے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے اور بالآخر انہیں ایک حل مل ہی گیا ہے۔ یہ ایک ایسی پھپھوندی ہے جو پلاسٹک جیسی سخت جان چیز کو بھی کھاجاتی ہے، اور دیکھئے کیسی دلچسپ بات ہے کہ اس پھپھوندی کی دریافت پاکستان میں ہوئی ہے۔

دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق پلاسٹک کی ڈی گریڈنگ پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے اسلام آباد کے نواح میں کچرے کے ایک ڈھیر سے ایسی پھپھوندی دریافت کرلی ہے جو پلاسٹک جیسی سخت جان چیز کو بھی نامیاتی اجزاءمیں بدل کر مٹی کا حصہ بنادیتی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ورلڈ ایگروفوریسٹری سنٹر اینڈ کمنگ انسٹیٹیوٹ آف بایالوجی کے سائنسدان ڈاکٹر سحرون خان نے کی۔

اس ڈرائیور کی ان لڑکا لڑکی سے کیا دشمنی ہے کہ انہیں اس طرح لٹکا کر گاڑی چلارہا ہے، جواب ایسا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

اس دریافت کے بارے میں ان کا کہنا تھا ”ہم نے اسلام آباد کے نواح میں کچرے کے ایک ڈھیر سے کچھ نمونے حاصل کئے تاکہ یہ معلوم کرسکیں کہ جس طرح حیاتیاتی اشیاءکو مختلف نامیے کھاتے ہیں کیا پلاسٹک کو بھی کوئی ایسی چیز کھارہی ہے۔ ہماری تحقیقات سے پتہ چلا کہ واقعی ایک ایسی پھپھوندی موجود ہے جو پلاسٹک کو بھی کھاجاتی ہے۔ اس کا نام ’اسپیرگلس ٹیوبنجیسس‘ ہے، جو کہ کلییسٹر پولی یورتھین کو تحلیل کردیتی ہے۔

پولی یورتھین پلاسٹک کا لازمی جزو ہے، جسے روزمرہ استعمال کی سینکڑوں قسم کی اشیاءبنانے میںاستعمال کیا جاتا ہے، جن میں ٹائر، پلاسٹک کے پائپ، پلاسٹک کے برتن، گاڑیوں میںاستعمال ہونے والی پلاسٹک کی اشیاءاور دیگر بے شمار چیزیں شامل ہیں۔“

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا اگلا قدم ایسے موزوں حالات کی دریافت کرنا ہے جن میں یہ پھپھوندی اپنا عمل بہترین طریقے سے سرانجام دے سکتی ہے۔ اس مقصد کیلئے موزوں پی ایچ لیول، درجہ حرارت اور کلچر میڈیم پر تحقیق کی جائے گی، تاکہ پلاسٹک کو ختم کرنے والی یہ پھپھوندی کمرشل سطح پر تیار کرکے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے استعمال کی جاسکے۔ پلاسٹک خور پھپھوندی کی دریافت کے متعلق یہ تحقیق سائنسی جریدے ’انوائرمنٹل پولیوشن‘ میں شائع کی گئی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -