سانحہ ماڈل ٹاﺅن انکوائری رپورٹ جاری کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر،25ستمبر کو سماعت ہوگی

سانحہ ماڈل ٹاﺅن انکوائری رپورٹ جاری کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف انٹرا کورٹ ...
سانحہ ماڈل ٹاﺅن انکوائری رپورٹ جاری کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر،25ستمبر کو سماعت ہوگی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے اوراس کی نقل متاثرین کو فراہم کرنے سے متعلق مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میںانٹرا کورٹ اپیل دائر کردی ہے ۔

استنبول میں شامی کالم نگار عروبہ برکات بیٹی سمیت قتل

ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب کی طرف سے دائراس انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کے لئے دورکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے ۔جسٹس عبدالسمیع خان اور جسٹس سید شہباز رضوی پر مشتمل یہ ڈویژن بنچ 25ستمبر کو سماعت کرے گا۔ انٹرا کورٹ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کا 3رکنی فل بنچ ماڈل ٹاﺅن انکوائری پبلک کرنے کے معاملے پر سماعت کر رہا ہے، یہ درخواستیں 25ستمبر کو سماعت کے لئے مقرر تھیں اس نشاندہی کے باوجودمسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل سنگل بنچ نے متاثرین کی درخواست پر انکوائری رپورٹ کی نقل متاثرین کو جاری کرنے کا فیصلہ دے دیا جو غیرقانونی ہے۔ حکومتی اپیل میں مزید نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ آئینی درخواست میں حکومت کا تحریری موقف لازمی سنا جاتا ہے لیکن سنگل بنچ نے آئینی درخواست میں ہوم سیکرٹری یا حکومت سے جواب ہی طلب نہیں کیا، حکومتی اپیل تیسرا قانونی جواز یہ اٹھایا گیا ہے کہ رپورٹ جاری کرنا حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے، انٹرا کورٹ اپیل میں پنجاب حکومت کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ ماڈل ٹاﺅن انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم کیا جائے۔انٹرا کورٹ اپیل کے ساتھ ایک متفرق درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کا فیصلہ اپیل کے حتمی فیصلے تک معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔انٹرا کورٹ اپیل میں مزید موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے جو دلائل اور عدالتی نظائر پیش کی گئیں ،سنگل بنچ کے فیصلے میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔اپیل میں یہ قانونی نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ٹربیونل کی کارروائی کو عدالتی کارروائی قرار دیناقانون کے منافی ہے ،حکومت اپنی راہنمائی کے لئے ٹربیونل سے انکوائری کرواتی ہے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آئے ۔علاوہ ازیں ٹربیونل کی کارروائی مکمل شہادتوں کی بنیاد پرنہیں تھی کیوں کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے متاثرین نے ٹربیونل کی کارروائی کا بائیکاٹ کررکھا تھا۔

مزید : لاہور