افغان فوج کی تربیت کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ

افغان فوج کی تربیت کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ
افغان فوج کی تربیت کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ

  

کابل(این این آئی)ایک امریکی آڈیٹر نے افغان افواج کی جانب سے ملک کو خطرات سے نکالنے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو پھر سے ابھرنے نہ دینے کے کام میں ناکامی کا ذمہ دار ناقص منصوبہ بندی اور تربیت کو قرار دیا ہے۔

نائجیریا، بوکو حرام نے 9افراد کو قتل کر دیا

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق غیر جانبدار ادارے کے ایک سربراہ نے متنبہ کیا کہ جب تک افغان فوج کی تربیت کا انداز نہیں بدلا جائے گا، تب تک فراہم کیے جانے والے اربوں ڈالر ضائع جاتے رہیں گے۔افغانستان کی تعمیر نو کے خصوصی انسپکٹر جنرل، جان سوپکو کے اس جائزے سے پہلے 3000 اضافی فوجیں افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، جو وہاں موجود امریکی فوجوں کی تعداد میں 25 فیصد سے زائد کا اضافہ ہے۔اْنھوں نے کہا کہ امریکی مشن افغانستان کے عوام کے دل اور دماغ جیتنے کی کوشش کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑائی جاری رکھیں۔ تاہم اْنھوں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ سب سے پہلے افغان افواج کی طرف دھیان مرکوز کرنا ہوگا۔ادارے کے سربراہ کے بقول وہ نہیں لڑیں گے اگر اْنھیں یہ شک ہو کہ اْنھیں اس کا معاوضہ نہیں ملے گا۔

مزید : بین الاقوامی