مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ،عالمی ضمیر بیدار کریں!

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ،عالمی ضمیر بیدار کریں!

  

کشمیر پر قابض بھارتی فوجوں نے اہل کشمیر کو غمِ حسینؓ بھی نہیں منانے دیا اور عاشورہ کے جلوس پر دھاوا بول کر حسب معمول تشدد کیا۔ اس میں خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کر لیا، جبکہ تین افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں، شہید وانی کی شہادت کے بعد نوجوانوں میں جو جذبہ بیدار ہوا اسے روکنے کے لئے بھارتی افوا ج نے اسرائیل کے تعاون سے جو نئی حکمت عملی ترتیب دی اس کے مطابق کشمیر (مقبوضہ) کی خود مختار حیثیت کے لئے آواز بلند کرنے والے سرگرم نوجوانوں کی فہرستیں تیار کر کے ان کی مسلسل گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا گیا اور مزاحمت پر گولیاں برسا کر نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ پیلٹ گنوں سے مظاہرین کو زخمی اور ان کی آنکھوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہزاروں معذور اور شہید ہو چکے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دنیا اس ظلم پر خاموش، ایسی ہی بے حسی ہے، جیسی فلسطین کے مسئلہ پر فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر ہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو حقیقی تنازعہ قرار دے کر اس کو مذاکرات کا حصہ قرار دیا اور وزیر اطلاعات نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے کیا اقدامات کئے ہیں، صرف مسئلہ کشمیر پر موقف کا اظہار تو کافی نہیں۔ اس کے لئے دنیا کی توجہ مبذول کرانا بھی ضروری ہے۔ بہتر ہوتا کہ اب تک کشمیر کمیٹی تشکیل پا چکی ہوتی اور یہ باقاعدہ فعال اور صاحب خبر لوگوں پر مشتمل ہوتی۔ لیکن اس میں دوسرے ریاستی امور کی وجہ سے تاخیر ہو گئی، ضرورت ہے کہ فوری طور پر یہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اور کمیٹی کشمیریوں پر بہیمانہ مظالم کا نوٹس لے کر عملی اقدامات کرے، ہمارے نزدیک یہ ہونا چاہئے کہ کشمیر کمیٹی جہاں بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب دے وہاں ایک سب کمیٹی پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیا جائے ۔ جو او۔ آئی۔ سی کو متحرک کرنے کی کوشش کے علاوہ دنیا کے اہم ممالک میں جا کر ان حکومتوں کو بھارتی مظالم سے آگاہ کرے اور ویڈیوز سے بھی مدد لے، بات اعداد و شمار اور حقائق سے کی جائے تاکہ عالمی ضمیر بھی بیدار ہو اور بھارتی غلط اور جھوٹے پروپیگنڈے کا موثر جواب بھی ہو کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بات کرنے پر ہی رضا مند نہیں اور مذاکرات میں مسلسل تعطل کا سبب بھی یہی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -