جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کے کامیابی کے سفرپر ایک نظر

جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کے کامیابی کے سفرپر ایک نظر
جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کے کامیابی کے سفرپر ایک نظر

  

ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے ۔بدعنوانی ایک ایسا ناسور ہے جو ملک کو دیمک کی طرح آہستہ آہستہ چاٹ رہا ہے۔ بدعنوانی کی وجہ سے جہاں حقدار کو اس کا حق نہیں ملتا بلکہ ملکی ترقی و خوشحالی کا پہیہ بھی رک جاتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت جس بڑے چیلیج کا سامنا ہے وہ ہے بدعنوانی۔ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ پوری قوم نے مل کر بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ جہاں تک قومی احتساب بیورو کا تعلق ہے وہ ملک قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور قومی احتساب بیورو کو ایک ایسا ادارہ بنا دیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی دباؤ اور پریشر کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر کے خلاف کاروائی پر یقین رکھتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے گزشتہ 11 ماہ میں476 افراد کو گرفتار کیا، 216 افراد کے خلاف شکایات کی جانچ پڑتال ، 239 افراد کے خلاف انکوائری اور 79 افراد کے خلاف انوسٹی گیشنزشروع کی گئیں جبکہ 340 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے۔ نیب نے گزشتہ 11 ماہ میں موجودہ چئیرمین کے دور میں تقریباََ 2410.250 ملین روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی کاوشوں اور سخت محنت کے بعد نیب ایک بہترین انسداد رشوت ستانی کے ادارہ کی صورت میں سامنے آیا ہے جو اپنی موجودہ افرادی قوت کی ترقی کیلئے تربیت اور ان کو کام کرنے کا بہترین ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نئے تحقیقاتی افسران کی بھرتی سے ایک ماڈل ادارہ بن چکا ہے۔ نئے تحقیقاتی افسروں کو پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں تربیت دی گی ان کی تربیت کی تکمیل کے بعد تفتیش اور تحقیق کے کام میں مزیدتیزی آئی ہے۔نیب کے افسران کی محنت سے گذشتہ چار سال کے دوران شفافیت مقاصد کے حصول، پروفیشنل ازم بڑھانے میں مدد ملی ہے آج کا نیب ایک نیا نیب ہے۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے قومی احتساب بیورو کو اپنے تجربہ کی بدولت جہاں ملک کا بدعنوانی کا ایک موئژ ادارہ بنا نے کیلئے بدعنوانی کی خاتمہ کے لئے بہترین حکمت عملی ترتیب دی وہاں انہوں نے افسران کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔

قومی احتساب بیورو (NAB) نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا گیا ہے ۔ اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہیں نہ صرف ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتاہے بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ نیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے، سٹیزن فرینڈلی نیب کا بنیادی مقصد نہ صرف شکایت کنندہ کو احسن انداز میں اپنی شکایت سے متعلق پیشرفت پر آگاہی فراہم کرنا ہے بلکہ اس سے نیب میں شکایت کنندہ کے ساتھ رابطہ کے تناظر میں شفافیت اور ذمہ داری پیدا ہو گی جس سے نیب پر اعتماد سازی میں اضافہ ہوا ہے اور نیب میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔ نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا۔ قومی احتساب بیورو نے نیب میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی عمل میں لائی۔ آپریشن ڈویژن میں نئے تحقیقاتی افسروں اور پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی سے دونوں ڈویژن مزید متحرک ہو گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے تحقیقاتی افسروں اور نئے لا افسروں کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دئیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی گئی یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر Conviction Rate تقریباََ77 فیصد ہے۔

قومی احتساب بیورو کو اپنے قیام سے ابتک3 لاکھ 94 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 13 ہزار اکیاسی شکایات کی جانچ پڑتال ، 8 ہزار 4 سو چھیانوے انکوائریاں، 4 ہزار ایک سو انوسیٹی گیشنز، 3 ہزار تین سو چھیاسی بد عنوانی کے ریفرنسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کیے گئے جن میں سے ابھی تک 12 سو انیس بد عنوانی کے ریفرنسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مکمل رقم 895.279 بلین روپے ہے۔ نبنے بد عنوانی کے12 سو انیس ریفرنسز کی جلد سماعت کیلئے متعلقہ احتساب عدالتوں میں درخواستیں دائر کر دی ہیں۔اس کے علاوہ نیب کو مضاربہ /مشارکہ سیکنڈل میں تقریباََ43 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔جن پر قومی احتساب بیورو نے قانون کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو اب تک مضاربہ/ مشارکہ سیکنڈل میں مبینہ طور پر ملوث44 افراد کو گرفتار ان سے لوٹی ہوئی تقریباََ 616 ملین روپے کی رقم ریکور کرنے کے علاوہ ان سے تقریباََ 6ہزار کنال زمین، 10 مکانات اور 12 قیمتی گاڑیاں برآمدکرنے کے علاوہ 28ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کیے ہیں تاکہ عوام کی لوٹی ہوئی رقم ملزمان سے ریکور کرکے متاثرین کو واپس کی جا سکیں۔ قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت ہاؤسنگ سوسا ئیٹیوں کے افراد کی لوٹی ہوئی رقوم برآمد کرکے جب ان کو با عزت طریقے سے واپس کی گئیں تو انہوں نے نہ صرف چےئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا

قومی احتساب بیورو کی تجویز پر پاکستان میں سارک انٹی کرپشن سیمینار منعقد ہوا جس میں بھارت سمیت سارک ممالک نے پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو سراہا اور قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن فورم کے قیام پر متفق ہو گئے جو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ مزید برآں پاکستان اور چین کے درمیان بدعنوانی کے خاتمہ سے متعلق امور میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے جس کے تحت چین اور پاکستان سی پیک کے تحت منصوبوں کی شفافیت کے لئے مل کر کام کریں گے۔ قومی احتساب بیورو ملک کا سب سے بڑا بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والا ادارہ ہے اگر صیح معنوں میں دیکھا جائے تو یہ ایک قومی ادارہ ہے جس کا مقصد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بدعنوان عناصر سے عوام کی کرپشن کے زریعے لوٹی ہوئی رقم کو نہ صر ف واپس دلانا ہے بلکہ اس میں نیب کے افسران کوئی حصہ وصول نہیں کرتے۔ نیب کے افسران بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو نے اپنے قیام سے ابتک قوم کے لوٹے ہوئے تقریباََ 297 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانہ میں جمع کروائے جس سے بہت سے متاثرین اور اداروں کو ان کی لوٹی ہوئی رقم واپس ملی۔

قومی احتساب بیورو نے اب تک کے سفر میں جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کیں ہیں وہ قومی احتساب بیورو کے موجود چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں کیونکہ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چئیرمین بھی ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں اور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں۔ وہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے کرپشن پرسپشن انڈیکس میں کمی قومی احتساب بیوروکی کاوشوں کا نہ صرف نتیجہ ہے بلکہ ایک واضح ثبوت ہے جسکو قومی احتساب بیورو پاکستان کے لئے ایک اعزاز تصور کرتا ہے ۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اس وقت تک تقریباً0 5 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جبکہ نیب8 201 کے اختتام پر 55 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لانے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ اس کے مثبت اور حو صلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد جہاں نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا تھا وہاں نیب کی انکوائری اور انویسٹیگیشن کی کوالٹی کو بھی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک طرف تو وقت کی بچت کرنا مقصود ہے وہاں سکریسی بھی برقرار رہتی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اپنی تعیناتی سے ابتک قومی احتساب بیورو کی کامیابی کے سفر کو جاری رکھا ہے ۔ آپکی قیادت میں قومی احتساب بیورو ایک قابل اعتمادقومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہیجس کا برملا اظہارمعاشرے کے تمام طبقوں نے کیاَ ِ ہے۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چئیرمین کی شاندار قیادت میں نیب نے اپنی کامیاب انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے تحت پاکستان سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے جس طرح منظم اور مربوط انداز میں بھر پور کوشیش کی ہیں ان کے انتہائی مثبت نتائج قوم کے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔قومی احتساب بیورو کا بدعنوان عناصر کے خاتمہ کا سفر اور کاوشیں کٹھن ضرور ہیں مگر نیب ناامید نہیں ہے اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب اپنی کامیاب حکمت عملی کے تحت پوری پاکستانی قوم کے ساتھ مل کر ملک سے بد عنوانی کے خاتمہ کے لئے اپنی بھر پور کوشیش کر رہا ہے گا تاکہ ملک سے بدعنوانی کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔

مزید :

رائے -کالم -