پیپلز پارٹی کا ''مذہب کارڈ'' کو جواز بنانا محض ''بہانہ'' دراصل کچھ طاقتوں کی خوشنودی '' نشانہ '' ہے:حافظ حسین احمد

پیپلز پارٹی کا ''مذہب کارڈ'' کو جواز بنانا محض ''بہانہ'' دراصل کچھ طاقتوں کی ...
پیپلز پارٹی کا ''مذہب کارڈ'' کو جواز بنانا محض ''بہانہ'' دراصل کچھ طاقتوں کی خوشنودی '' نشانہ '' ہے:حافظ حسین احمد

  


کوئٹہ(صباح نیوز)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا ''مذہب کارڈ'' کوجوازبنانا محض ''بہانہ'' دراصل کچھ طاقتوں کی خوشنودی '' نشانہ '' ہے،آزادی مارچ میں صرف مشترکہ یک نکاتی ایجنڈا منصفانہ نئے انتخابات کا مطالبہ ہی ہوگا، مذہب کارڈ کے استعمال کا جواز بنا کربہانے نہ بنائے جائیں،جگہ ''گرم ''ہو یا'' نرم'' ہماری جدوجہد جاری رہے گی، شیخ رشید ہی گرم جگہ سے بچنے کے لیے اپنی وفاداریاں بدلتے ہیں وہ کبھی نواز شریف کے قدموں تو کبھی پرویز مشرف کے بوٹوں میں نظر آئے،شیخ رشید شیخ چلی نہ بنیں وہ گرم جگہ تو کیا بلکہ ٹھنڈی جگہ پر بھی ''فارغ'' ہوجاتے ہیں،بانی پاکستان نے تحریک آزادی کے لیے کیا مذہبی کارڈ کا استعمال نہیں کیا تھا کیا آئین کی روح کے مطابق عمل کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔

اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں ’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ محترمہ گیتی آرا اور دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے امریکہ یاترا سے قبل امریکہ کی خوشنودی کے لیے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی مدد اور تعاون کے لیے جانے والوں کو ''ظالم'' کہا جس کو امریکہ نے سراہا کیوں کہ کشمیر میں ظلم کرنے والے بھارت کے تکون میں امریکہ اور اسرائیل شامل ہیں۔ حافظ حسین احمدنے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کا یہ کہناکہ جے یو آئی ''مذہب کارڈ'' استعمال کررہی ہے محض ''بہانہ'' ہے دراصل کچھ طاقتوں کی خوشنودی ''نشانہ'' ہے، جے یو آئی کے جانثار ورکرز اور حامی مذہبی طبقہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں ہم ان کے مذہبی جذبات اور ناموس رسالت ، ختم نبوت سمیت تمام معاملات کا دفاع کریں گے لیکن آزادی مارچ میں صرف مشترکہ یک نکاتی ایجنڈا منصفانہ نئے انتخابات کا مطالبہ ہی ہوگا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تحمل کے ساتھ بلاول اور پیپلز پارٹی کے اعتراضات کا سامنا کریں گے حالانکہ سندھ کے حوالے سے اگر وہ ''سندھ کارڈ''کو استعمال کر بھی رہے ہیں تب بھی ہم اپنے اس حوالے سے تحفظات کے باوجود ان کو گلے لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم، صدارتی الیکشن اور چیئرمین سینٹ کے انتخابات کے وقت بھی پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنی راہ الگ رکھی اس وقت تو ''مذہبی کارڈ'' کا بہانہ بھی نہ تھا لیکن جب اس تعاون اور اپوزیشن کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کے باوجود بھی ان کے خلاف اقدام ہوا تو کیا وہ مولانا فضل الرحمن کے پاس آکر تحریک چلانے کے لیے اصرار نہیں کرتے رہے ، ایک سوال کے جواب میں حافظ حسین احمد نے کہ بانی پاکستان نے تحریک آزادی کے لیے کیا مذہبی کارڈ کا استعمال نہیں کیا تھا اور کیا آئین پاکستان کی روح کے مطابق عمل کا مطالبہ غیر آئینی ہے، انہوں نے کہا کہ جہاںتک شیخ رشید کی شیخی بگھارنے کا تعلق ہے تو جگہ گرم ہو یا نرم ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے مولانا فضل الرحمن انشاء اللہ ضائع نہیں ہونگے بلکہ وہ اور ان کے رفقاء و پیروکار کامیاب و کامران ہونگے، یہ تو شیخ رشید ہی ہیں جو گرم جگہ سے بچنے کے لیے اپنی وفاداریاں بدلتے ہیں کبھی وہ نواز شریف کے قدموں میںاورکبھی جنرل پرویز مشرف کے بوٹوں میںنظر آتے تھے آج کل وہ اس عمران خان کے تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں جو ان کو چپراسی لگانا بھی نہیں چاہتے تھے ، شیخ رشید شیخ چلی نہ بنیں وہ گرم جگہ تو کیا بلکہ ٹھنڈی جگہ پر بھی ''فارغ'' ہوجاتے ہیں۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ


loading...