سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات
سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات

  


سعودی عرب میں آج 23 ستمبر کو مملکت کا قومی دن بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن شاہ عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے سترہ جمادی الاول 1351 ہجری کو جاری اُس شاہی فرمان کی یاد میں منایا جاتا ہے جس میں مملکت کے بانی نے جدید سعودی ریاست کے تمام حصّوں کو ''مملکتِ سعودی عرب'' کے نام کے تحت یکجا اور متحد کر دیا تھا۔ قومی دن کے موقع پر سعودی عرب کے مختلف شہروں اور علاقوں میں ثقافتی، سماجی اور کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ شاہراہوں اور گھروں کو سبز رنگ کے علاوہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تصاویر سے سجایا گیا ہے۔ اس وقت 26 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کمانے کے لئے موجود ہیں۔ انہوں نے 18-2017ء میں 4.8 ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھجوایا جو دنیا بھرسے آنے والی مجموعی ترسیلات زر کا 29 فیصد بنتا ہے۔ موجودہ دور حکومت میں سعودی حکومت نے پاکستانی اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر جمع کرائے، تین سال تک ادھار تیل فراہم کرنے کا معاہدہ کیا جس کی مدت میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین 1982ء کے دفاعی تربیت کے معاہدے کے تحت اس وقت پاک فوج کے 1680 افسر و جوان سعودی عرب میں تعینات ہیں جبکہ مزید 1460 افسران و جوانوں کی سعودی عرب روانگی کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں اس وقت سعودی فورسز کے 77 افسران زیر تربیت ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں 20ارب ڈالر کے معاہدے ہونے کے بعد دونوں برادر اسلامی ممالک ایک نئے تاریخی اقتصادی شراکت داری کے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس سے ان کے باہمی تعلقات میں نہ صرف مزید استحکام آئے گا بلکہ باہمی احترام پر مبنی طویل المدت سرمایہ کاری سے مشترکہ خوش حالی و ترقی، علاقائی استحکام، نئے تزویراتی اور سماجی تعلقات کی راہ بھی ہموار ہو گی۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دوستی کے رشتوں کے علاوہ سب سے بڑا رشتہ دین کا ہے۔سعودی عرب میں ہمارا قبلہ بیت اللہ اور ہمارے پیارے آقا محمد عربیﷺ کا روضہ مبارک ہے۔ یہ وہ فضیلت ہے جو سعودی عرب کو دیگر اسلامی ممالک سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے، قیام پاکستان کے فوراً بعد سعودی عرب نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کو یہ پیغام بھجوایا کہ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت اور سعودی عرب جسد واحد کی طرح ہیں اوردونوں ممالک کے مفادات مشترک اور دکھ سکھ سانجھے ہیں۔ سعودی عرب کے جتنے بھی فرمانروا آئے انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی خصوصی محبت اور دلچسپی کا اظہار کیا اور پھر اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جب عنان حکومت سنبھالی تو انہوں نے پاکستان کو اپنی پہلی ترجیح میں رکھا اور کہا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے۔ پاکستان نے سرکاری اور عوامی سطح پر شاہ سعود بن عبدالعزیز سے لے کر ہر سعودی حکمران اور ولی عہد کا شاندار خیر مقدم کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کو ساٹھ کے عشرے میں بیت اللہ کا غلاف تیار کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ (سعودی عرب نے اس وقت تک اپنے ملک میں غلاف کعبہ تیار کرنے کا کارخانہ قائم نہیں کیا تھا)۔ اس وقت تک مصر سے غلاف کعبہ تیار کرایا جاتا تھا۔ مصر کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی انتہا کو پہنچی تو مصر میں غلاف کعبہ کی تیاری ناممکن ہوگئی تھی جس کے بعد رابطہ عالم اسلامی کی تجویز پر شاہ فیصل نے غلاف کعبہ تیار کرانے کے لیے حکومت پاکستان سے رجوع کیا تھا۔

جب شاہ فیصل نے 1973ء میں مغربی دنیاکو تیل کی سپلائی روک دی تھی تب اس وقت کے امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجربادشاہ کے پاس آئے اور کہا: اگر سعودی عرب نے امریکا کا بائیکاٹ ختم نہ کیا تو امریکا آئے گا اور تیل کے تمام کنوؤں پر بمباری کرے گا، شاہ فیصل نے جواب دیا:تم لوگ تیل کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ تم جانتے ہوکہ ہم صحراکے لوگ ہیں اور ہمارے آباؤاجداد کھجوروں اوردودھ پرگزارہ کرتے تھے، لہٰذا ہم واپس جائیں گے اوردوبارہ اسی طرح رہیں گے۔ شاہ فیصل نے مغربی دنیا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کرنے پر ورلڈ مارکیٹ سے تیل واپس لے لیا تھا۔ پاکستان کی شاہ فیصل سے خاص محبت تھی۔ اپنے ملک کے تیسرے بڑے شہر (لائل پور)کا نام بھی سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے نام کردیا۔ آج یہ شہر پاک دوستی کی ایک مثال کے طورپر فیصل آباد کہلاتا ہے۔ اسی طرح کراچی میں پاکستان ائیرفورس کی دوبڑی ائیربیسزمیں سے ایک پی اے ایف بیس کو فیصل کے نام پر منسوب کیا گیا۔

1974ء میں شاہ فیصل کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے بعد کراچی کی معروف شاہراہ کو آپ کے نام پر شاہراہ فیصل کا نام دیا گیا۔ آج سعودی عرب کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن تخریبی کارروائیاں کررہا ہے۔ ان حالات میں ہم سعودی قیادت کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ پاکستانی قوم سرزمین حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر تمام سعودی بھائیوں، مملکت سعودی عرب کی قیادت بالخصوص خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کی عزت اور عظمت کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...