خدمت بذریعہ ملازمت اور سیاست

خدمت بذریعہ ملازمت اور سیاست
خدمت بذریعہ ملازمت اور سیاست

  


میجر(ر) ساجد حسین چٹھہ کا تعلق احمد نگر چٹھہ گوجرانوالہ سے ہے۔ یہ ایف سی کالج لاہور سے بی اے کرتے ہی فوج میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہوئے۔ تقریباً چوالیس سال مملکت خداداد کی خدمت میں گزارے۔ مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد بالآخر 2008ء میں بطور وفاقی سیکرٹری مواصلات ریٹائر ہوئے۔ اس طرح ان کا بنیادی تعارف ایک افسر کا ہے، تاہم ملازمت سے سبکدوش ہو کر کوچہ ء سیاست میں آ گئے۔ 2013ء کے الیکشن میں این اے 79 وزیرآباد سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا۔ تقریبا چودہ ہزار سے زائد ووٹ لئے۔ یہ ان کا پہلا انتخابی تجربہ تھا۔

واقعہ یہ ہے کہ موصوف نے اپنے حلقہ کے عوام کو کبھی مایوس نہیں کیا۔بنیادی طور پر شریف النفس، پُرعزم، مخلص اور متحرک انسان ہیں۔ سیاسی شعبے میں کوئی ان کا حامی ہو یا مخالف، مگر کسی کو ان کی شرافت سے انکار نہیں۔ قصبہ میں بیماروں کے لئے ٹیسٹ لیبارٹریز کا قیام ان کا ایک اہم کارنامہ کہا جا سکتا ہے۔ المختصر لوگوں کے لئے ان کے دروازے کبھی بند نہیں ہوئے۔ مقامی مسائل حل کرنے میں بہت دلچسپی لیتے ہیں! اپنے حلقہ کے عوام کی خاطر کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ غریب لوگ ایک عرصہ سے ”یرغمال“ چلے آتے ہیں۔ اپنا ووٹ بھی آزادی سے نہیں دے سکتے۔ ایسے میں نسل در نسل مخصوص گھرانوں کے افراد ہی سیاسی گدیوں کی زینت بنے بیٹھے ہیں۔ کسی خود ساز اور ”کارآمد“ آدمی کے لئے آسانی سے گنجائش نہیں نکلتی!

اتفاق سے میرا اپنا تعلق بھی احمد نگر چٹھہ سے ہے اور میں ذاتی طور پر یہ بات جانتا ہوں کہ تمام حلقوں میں ان کا بہت زیادہ احترام پایا جاتا ہے۔ اب چودھری برادران سے قرابت داری ہوتے ہوئے بھی موجودہ حالات میں، جبکہ مسلم لیگ(ن) بحران سے دوچار ہے، انہوں نے اپنا وزن شریف خاندان کے پلڑے میں ڈالا اور خوب نرم گوشے کا اظہار کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ماضی قریب کے انتخابات اور ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی غیر مشروط حمایت کی، مگر پارٹی نے انہیں ہمیشہ نظر انداز کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ بحرین میں متعدد ضرورت مند افراد کو ایڈجسٹ کروایا اور اندرون ملک بھی ملازمت دلانے میں کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیا۔طالب علم اور بے روزگار کی حمایت و سفارش کرنے میں بہت جذبہ رکھتے ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ ان معاملات میں کسی شخص کو مایوس کیا گیا ہو۔ ساجد حسین چٹھہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ دل کی بات زبان پر لاتے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان کا کردار نہایت اہم ہو گا اور ہونا بھی چاہیے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ محسن پاکستان میاں نوازشریف آئندہ انہیں تحصیل یا ضلع میں کوئی اہم عہدہ و منصب تفویض کر دیں۔ اولاً قومی سیاست میں یا بلدیاتی سطح پر ایسا فیصلہ یقینا مسلم لیگ(ن) کی نیک نامی میں ایک خوبصورت اضافہ متصور ہو گا!

مزید : رائے /کالم


loading...