ڈیل، شوشے اور اینٹی وائرس

ڈیل، شوشے اور اینٹی وائرس
ڈیل، شوشے اور اینٹی وائرس

  


بہت عرصہ کے بعد پاکستان میں ایک ایسی حکومت آئی ہے، جس کی کارکردگی ہر شعبہ میں صفر ہے۔ معیشت صفر، گورننس صفر، انسانی ترقی صفر، انفراسٹرکچر صفر، خارجہ پالیسی صفر، صوبے صفر، مقامی حکومتیں صفر، ہر جگہ اور ہر شعبہ میں صفر۔ ایسی کارکردگی کے ہوتے ہوئے فرسٹریشن ایک لازمی امر ہے۔وہ تمام لوگ جنہوں نے پی ٹی آئی کی حکومت بنوانے میں کوئی کردار ادا کیا اور انہیں ووٹ دئیے وہ اچھی خاصی مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ فرسٹریشن بھی وائرس کی طرح پھیلتے ہوئے بہت سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور حکومت کے اہم افراد اور ان کے سرپرستوں کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پی ٹی آئی کے ووٹر اور سپورٹر بھی اس کی زد میں آ جائیں گے۔

اس امکان کو روکنے کے لئے حکومتی ذرائع بار بار ڈیل کا شوشہ چھوڑتے ہیں تاکہ بددلی کا وائرس ان کے حامیوں تک نہ پہنچے۔ گویا یہ ڈیل کا شوشہ وہ اینٹی وائرس ہے،جو حکومتی ذرائع کی طرف سے چھوڑا جارہا ہے۔ اس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف قید خانہ سے نکلنے کے لئے بے تاب ہیں اور اس کے لئے وہ بھاری رقم بھی خزانہ میں جمع کرانے کے لئے تیار ہیں۔یہ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش ہے کہ ایک طرف مسلم لیگی کارکن بد دل ہوں کہ ان کے قائدین ’لوٹ کا مال‘ واپس کر رہے ہیں اور دوسری طرف تحریک انصاف کے کارکنوں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ جائے کہ کس طرح ان کے قائد نے لوٹا ہوا مال واپس لے لیا۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اہم رہنما فریال تالپور بھی قید ہیں اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اب تو سید خورشید شاہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ ان کے ساتھ کسی ڈیل کی اطلاع اس تسلسل سے نہیں پھیلائی جا رہی جیسا کہ میاں نواز شریف، مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف کے بارے میں لگاتار کہا جا رہا ہے۔ مرکزی قیادت کے علاوہ کچھ اور قائدین بھی اس وقت جیلوں میں بند ہیں جیسا خواجہ برادران یعنی سعد رفیق اور سلمان رفیق، رانا ثناء اللہ، مفتاح اسماعیل یا دوسری طرف آغا سراج درانی اور کچھ دوسرے لوگ۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی گرفتار ہوئے، لیکن آج کل ضمانت پر باہر ہیں، کب دوبارہ اندر کر دئیے جائیں اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

میرا مشاہدہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کے کسی بھی لیڈر کی گرفتاری پی ٹی آئی کے مایوس اور فرسٹریشن کے شکار حامیوں کے لئے ٹانک کا کام کرتی ہے اور وہ خوش ہو کر دوبارہ سے کچھ دنوں کے لئے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے لگ جاتے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ تو بس اتنے میں ہی خوش ہو جاتے ہیں، لیکن تحریک انصاف میں بھی اب ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو ’احتساب‘ کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی سے عملی طور پر کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر عمران خان کی حکومت کارکردگی دکھانے میں بدستور ناکام رہتی ہے تو ان کے حامیوں کی ایک بڑی اور فیصلہ کن تعداد عمران خان کی حمائت سے دست کش ہو جائے گی۔

پی ٹی آئی حکومت اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، اور جیسا کہ وقت تیزی سے گذر رہا ہے، دوسرے سال کا بھی پہلے سال کی طرح پتہ نہیں چلے گا کہ کب اور کیسے اتنی تیزی سے گذر گیا اور حکومت کے پاس لوگوں کے سوالات کے جوابات نہیں ہوں گے کہ اس نے ان دو سالوں میں کون سے شعبہ میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور بھی زیادہ مایوس کن ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے تقریباً ساڑھے چھ سال مکمل ہو چکے ہیں اور وہ اس تمام عرصہ میں ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں بنا سکی ہے۔ اللہ اللہ کرکے انہوں نے پشاور میں میٹرو کا ایک پراجیکٹ بی آر ٹی کے نام سے شروع کیا تھا جو اس قدر تعطل کا شکار ہو چکا ہے کہ شیطان کی آنت کی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، بی آر ٹی پر اس کے مجوزہ بجٹ سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ کی جا چکی ہے، اس کا ڈیزائن بھی بار بار تبدیل ہو چکا ہے اور اس کی تعمیر میں طرح طرح کے سکینڈل بھی سامنے آ چکے ہیں، لیکن پھر بھی حکومتی ذرائع سمیت کوئی بھی یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ یہ میٹرو پراجیکٹ بی آر ٹی کب مکمل ہو گا اور تکمیل تک اس پر کتنی لاگت آچکی ہو گی۔

بی آر ٹی بلا شبہ پی ٹی آئی کی صلاحیتوں پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ پشاور کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ میاں شہباز شریف نے کتنی تیزی سے لاہور، راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو پراجیکٹ مکمل کئے تھے تو سوائے پی ٹی آئی کو کوسنے کے ان کے پاس اور کوئی چارہ باقی نہیں بچتا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کی پرویز خٹک کی صوبائی حکومت نے مالم جبہ کے مقام پر ایک تفریحی پراجیکٹ کیا تھا جو مالی اور قانونی بے ضابطگیوں کے سکینڈلوں کی نذر ہو گیا اور اس کی نیب انکوائری کر رہا ہے۔ پاکستان میں جاری احتساب کا عمل چونکہ یکطرفہ ہے اور نیب صرف مسلم لیگ (ن) یا کبھی کبھار پیپلز پارٹی کے لوگوں کو گرفتار کرتا ہے اِس لئے مالم جبہ سکینڈل میں پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلی پرویز خٹک اور موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان گرفتاری سے بچے ہوئے ہیں۔ مالم جبہ کا پراجیکٹ ایوارڈ کرتے وقت محمود خان صوبائی وزیر سیاحت تھے۔

اگر احتساب کا عمل بلا امتیاز ہوتا تو پرویز خٹک اور محمود خان بھی گرفتار کئے جاتے۔ جہاں تک پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت کا تعلق ہے تو اس کی حالت اس بس جیسی ہے، جس کے ڈرائیور کا کسی کو معلوم ہی نہیں ہے۔بظاہر عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں لیکن ہم گذشتہ تیرہ مہینوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پنجاب میں کئی وزیر اعلی اپنا اپنا حکم چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہیں عثمان بزدار کا ہاتھ پڑ جاتا ہے اور کہیں گورنر چودھری سرور کا۔اسی طرح بیوروکریسی سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے کنٹرول میں ہے، جبکہ بعض فیصلوں میں علیم خان اور کچھ میں براہِ راست بنی گالہ کا عمل دخل دکھائی دیتا ہے۔ درمیان میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو فیصلے کرنے سے روک دیا گیا اور کہیں اور کئے گئے فیصلوں پر ان کا اختیار صرف دستخط کرنے تک محدود رہ گیا۔

اس ساری اتھل پتھل میں پنجاب میں گورننس معطل ہو کر رہ گئی اوراس کا خمیازہ صوبہ کے بارہ کروڑ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے دِنوں دوبارہ پنجاب میں اکھاڑ پچھاڑ ہوئی اور دو طاقتور مشیروں ڈاکٹر شہباز گل اور عون چودھری کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ اس ایک سال کے دوران کئی بار پنجاب کی بیوروکریسی کو مشق ستم کا نشانہ بنایا گیا، کم از کم تین بار آئی جی پولیس کو ہٹایا گیا، کئی صوبائی سیکرٹریوں کو بار بارشٹل کاک کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینکا گیا، ڈی پی اوز اور ڈی سی اوز کو بھی ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پورے صوبہ کے انتظامی معاملات کا بیڑہ غرق ہو کر رہ گیا ہے۔ میاں شہباز شریف اور خواجہ سلمان رفیق نے اپنی وزارتِ صحت کے دور میں ڈینگی کے مرض پر بڑی حد تک قابو پا لیا تھا، لیکن اب یہ دوبارہ سے ایک خوفناک جن بن کر سامنے آ گیا ہے،جس کے آگے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بے بس نظر آتی ہے۔اب شنید یہ ہے کہ حکومت کو ڈینگی پر قابو پانے کی ایک ہی ترکیب نظر آتی ہے کہ کسی طرح خواجہ سلمان رفیق کی خدمات حاصل کی جائیں، لیکن کیا کیا جائے وہ تو جیل میں بند ہیں اور پی ٹی آئی کے پاس کوئی ایسا بندہ بھی نہیں ہے جو ڈینگی پر قابو پا سکے۔ پی ٹی آئی کے سرپرستوں کو اب یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس صورتِ حال میں ہنسیں یا روئیں۔

میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف سیاسی اور اخلاقی طور پر انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ان کے خلاف قائم کئے گئے مقدمات انتہائی کمزور ہیں اور وہ کسی بھی وقت اس قید و بند سے نجات حاصل کر لیں گے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ عدالتیں انہیں مقدمات سے بری کر دیں گی۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی رہائی کے ساتھ ہی احتساب کے نام پر کی جانے والی غیرمنصفانہ اور بڑی حد تک انتقامی کارروائیوں پر مبنی عمارت زمین بوس ہوجائے گی۔ جب کوئی اس قدر مضبوط سیاسی اور اخلاقی پوزیشن پر موجود ہو تو بھلا وہ کسی سے ڈیل کیوں کرے گا۔ میاں نواز شریف بھی یقینا کوئی ڈیل نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں انصاف عدالتوں سے ملے گا، حکومت نہ تو انصاف دینے کی اہل ہے اور نہ کسی بھی ڈیل کے لئے سیاسی اور انتظامی طور پر مضبوط ہے۔ڈیل کی افواہیں حکومتی حلقوں کی طرف سے صرف اس لئے اڑائی جاتی ہیں، کیونکہ یہی وہ ایک اینٹی وائرس ہے جو اس کے حامیوں کو مکمل مایوسی اور فرسٹریشن سے فی الحال وقتی طور پر بچائے ہوئے ہے، لیکن کب تک؟ ایسی بے سود کوششوں کی عمر محدود ہوتی ہے اور بالآخر سچ ہی غالب آ کر رہتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...