سعودی عرب میں نیکی کرنا آسان،گناہ مشکل ہے

سعودی عرب میں نیکی کرنا آسان،گناہ مشکل ہے

روزنامہ پاکستان……ایک موقر اخبار ہے، جس کی خبریں اور مضامین تصنع سے پاک اور سنجیدہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ علمی،ادبی حلقوں میں روزنامہ ”پاکستان“ دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ خبریں اور مضامین کی اشاعت میں ادار ے نے ایک کڑا معیار قائم کر رکھا ہے، جس کی بہرصورت پاسداری کی جاتی ہے۔کڑے معیارکے باوجود 22 ستمبر کے روزنامہ ”پاکستان“ کے ادارتی صفحہ پر ایک مضمون شائع ہوا ہے۔مضمون نگار کا نام منظور احمد ہے۔پیشے کے اعتبار سے وہ بینکار ہیں۔ان کادعویٰ ہے کہ وہ کافی وقت سعودی عرب اور عرب امارات میں گزار چکے ہیں۔یہ اتفاق ہی ہے کہ فاضل مضمون نگار”تلخ تحریریں“ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ان کی تحریر واقعی بہت تلخ ہے۔دارالسلام دینی کتابوں کی اشاعت کا ایک عالمی ادارہ ہے۔ اس ادارے کانیٹ ورک دُنیا کے پانچ براعظموں میں پھیلا ہوا ہے۔یہ ادارہ دُنیا کی27عالمی زبانوں میں کتابیں شائع کر رہا ہے۔ادارے کے بانی عبدالمالک مجاہد ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔ دارالسلام کا ہیڈ آفس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہے، جبکہ عبدالمالک مجاہد گزشتہ چالیس سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔چالیس سال تقریباً نصف صدی کا قصہ ہے۔چالیس سال کا عرصہ کسی بھی معاشرے کو گہرائی سے جانچنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔

عبدالمالک مجاہد سے ایک دفعہ پوچھا گیا ”آپ چالیس سال سے سعودی عرب میں رہے ہیں چالیس سالہ تجربات کی روشنی میں آپ سعودی معاشرے کا دُنیا کے دیگر ممالک کے معاشروں سے طرح موازنہ کریں گے؟“ عبدالمالک مجاہد کہنے لگے میں یورپ سمیت دُنیا کے تمام ممالک گھوم چکا ہوں۔سعودی عرب اور دُنیا کے دیگر ممالک میں میں نے جوفرق پایاوہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں نیکی کرنا آسان اور گناہ کرنا مشکل ہے۔اسی طرح سعودی شاہی خاندان کی ایک خاتون سے ایک دفعہ پوچھا گیا سعودی عرب میں دولت کی جو اچانک ریل پیل ہوئی ہے آپ کی نظرمیں اس کے فوائد و نقصانات کیا ہیں؟ خاتون کا جواب بہت خوبصورت تھا کہنے لگیں اس میں شک نہیں کہ ہم پر دولت اس طرح اچانک برسی ہے جس طرح موسم برسات میں اچانک بارش برستی ہے تاہم مقام شکر ہے ہمارا معاشرہ قائم ودائم ہے،اگرچہ ہمارے معاشرے میں خرابیاں بھی ہیں تاہم جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں،نیکی اور سخاوت کا جذبہ عام ہے۔ اس کے برعکس اگردُنیاکی کسی دوسری قوم کو اس طرح اچانک دولت ملی ہوتی تو یقینا وہ آتش فشاں کی طرح پھٹ جاتی،بکھر جاتی اور تھوڑے ہی عرصہ میں تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتی۔

یہ ہے مملکت سعودی عر ب کا اصل رخ جونہ جانے کیوں فاضل مضمون نگارکی آنکھوں سے اُوجھل رہا۔ مملکت سعودی عرب کی بنیادکلمہ خیر پر رکھی گئی ہے۔ مملکت ِ سعودی عرب کے بانی ملک عبدالعزیز بہت دور اندیش حکمران،اتحادامت کے داعی اور وقت کی ضرورتوں کوبخوبی سمجھتے تھے یہی وجہ تھی کہ حجاز کا انتظام سنبھالنے کے بعدانہوں نے سب سے پہلاکام اس وقت کی اسلامی دُنیا کو ایک پلیٹ فارم پرمتحدومتفق کرنے کاکیااس مقصد کے لئے انہوں نے 13 تا 19 مئی 1926ء کے درمیان ساری دُنیا کے مسلمان رہنماؤں پر مشتمل ایک موتمر اسلامی طلب کی۔ موتمر میں اسلامی ہند کے ایک وفد نے بھی شرکت کی، جس کی سب سے ممتاز شخصیت مولانا محمد علی جوہر تھے۔ اگرچہ یہ موتمر اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکی، لیکن اتحادِ اسلامی کی تحریک میں اس کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

شاہ عبدالعزیز کے اخیر دور حکومت میں تیل کے کنوئیں اس کثرت سے نکل آئے کہ ملک کی کایا پلٹ گئی۔ شاہ عبدالعزیز نے تیل کی آمدن کو مملکت کی فلاح وبہبود،حرمین کی توسیع،اسلام کی خدمت و فروغ کے لئے خرچ کیا،سڑکیں،پل راستے بنائے،لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کیا۔ سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز ہیں، جبکہ ان کے ولی عہدمحمدبن سلمان ہیں۔ محمدبن سلمان سعودی عرب کووقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کاعزم رکھتے ہیں اس مقصدکی خاطر انہوں نے کابینہ اور محکموں میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں۔ حکومتی اداروں کو ترقی کی طرف گامزن کیا ہے پرائیویٹ سیکٹر کو سعودی شہریوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات اور خدمات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

وزارت تربیت اور وزارت اعلیٰ تعلیم کو ایک ہی وزارت تعلیم کے تحت کر کے تعلیم کے ذریعے بہتر تربیت کے بندوبست پر ارتکاز کیا گیا ہے، اسی طرح سعودی وزارت عمل اور وزارت سوشل افیئر کو وزارت عمل و سوشل ڈویلپمنٹ بنا کر سماجی بہتری سے سماجی ترقی کا سفر شروع کیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم، میڈیا اور امن وامان کی سپریم کونسلز کو یکجا کرکے شہریوں کی بہترین تعلیم و تربیت کے ذریعے میڈیا اور امن وامان کو راہِ راست پر لانے پر کام شروع ہو گیا ہے۔ محمد بن سعود یونیورسٹی کی شاخوں کو سعودی عرب کے ہر شہر تک پھیلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس پر 3 بلین ریال خرچ کئے جا رہے ہیں۔ عالم اسلام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا شعور بیدار کرنے کے لئے مسلمانوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں خدمات کے اعتراف میں ایک میوزیم بنایا گیا ہے۔حجاج کرام کی سہولت اور آسانیوں کے پیش نظر مسجد الحرام کے صحن کی توسیع، زمین دوز راستوں کا قیام، بلڈنگ سروسز، پہلے رنگ روڈ، مسجد حرام کی تین منزلہ عمارت، سینٹرل سروسز آڈیٹوریم، بجلی پیدا کرنے کے لئے نئے جنریٹرز کا قیام، ریزرو پاور جنریٹر، پانی ٹھنڈا کرنے کا منصوبہ، حرم مکی میں جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے سمیت کئی دوسرے منصوبہ جات شامل ہیں۔

اس کے ساتھ مسجد قبا اور مسجد نبوی کی توسیع کے منصوبے شروع کئے گئے۔ نئے بجٹ میں تعلیم پر خاص توجہ دی گئی ہے، شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے زیراہتمام منعقدہ دوسری عالمی کانفرنس میں یونیورسٹی کی مرکزی عمارت میں توسیع کا سنگ بنیاد رکھا اور ساتھ ساتھ ملک کے ہر شہر میں اس کی شاخوں کے قیام کی منظوری بھی دی،جس کے لئے تین ارب 235 ملین ریال کی رقم مختص کی گئی۔ ریاض میں قائم کردہ سائنس اور ٹیکنیکل سروسز کے شعبوں میں تعلیم دینے والی الیکٹریکل یونیورسٹی کے لیے مختلف منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور یونیورسٹی کی توسیع کے لئے آٹھ ارب 590 ملین ریال کا بجٹ منظور کیا۔

فاضل مضمون نے سعودی شہریوں کے پاکستانیوں کے ساتھ تحقیرآمیزرویے کا ذکربھی کیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ تلخ ترش طبیعتوں کے لوگ دُنیاکی ہرقوم میں پائے جاتے ہیں اس سے نہ سعودی بچے ہوئے ہیں نہ پاکستانی اورنہ اماراتی۔ اچھے برے لوگ دُنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ قابل اور دیانتدار لوگ ہر جگہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔پاکستانیوں کے ساتھ مجموعی طور سعودیوں کا رویہ قابل ستائش ہے۔ اگرایسی بات نہ ہوتی تو فاضل مضمون نگار زندگی کے کئی قیمتی سال سعودیہ اور امارات میں نہ گزارتے۔ ہم نے کئی ایسے پاکستانی بھی دیکھے ہیں جو پاکستان آنے کے بعد بھی اپنے سعودی کفیلوں کے لئے دُعائے خیر کرتے ہیں۔

اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہمیشہ مثالی تعلقات رہے ہیں۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب میں مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔

1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔ پاکستان کے عوام ان کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا،جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب ایک بہت بڑی آبادی شاہ فیصل کالونی کہلاتی ہے اور اسی کی نسبت سے کراچی کے ایک ٹاؤن کا نام شاہ فیصل ٹاؤن ہے۔شاہ فیصل شہیدکے بعدبھی تمام سعودی حکمرانوں کی ترجیحات میں پاکستان سرفہرست رہاہے تمام حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ محبت،اخوت اوروفاکارشتہ نبھایا اورنبھاتے چلے آرہے ہیں۔آخرمیں فاضل مضمون نگارسے گزارش ہے کہ وہ چندمثالوں کوپوری قوم پرمنطبق نہ کریں۔پاکستان پررحم کریں۔اسلامی دُنیا کی حالت پہلے ہی تن ہمہ داغ داغ شدوالی ہے۔ ان حالات میں ایسے مضمون لکھنے سے احترازکریں جس سے پاک سعودی تعلقات میں رخنہ پیداہو۔

مزید : رائے /کالم


loading...