سرِ خاکِ شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم!

سرِ خاکِ شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم!
سرِ خاکِ شہیدے برگ ہائے لالہ می پاشم!

  


یہ کالم 21ستمبر بروز ہفتہ صبح 9بجے لکھا جا رہا ہے لیکن اسے آپ 23ستمبر بروز سوموار پڑھ سکیں گے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مجبوری یہی ہے کہ اول الذکر، موخر الذکر سے 24گھنٹے پیچھے رہ جاتا ہے۔ لیکن 21اور 23ستمبر میں جو فرق ہے وہ تو 24گھنٹے کا نہیں،48گھنٹے کا ہے اور یہ فرق میری ایسی ذاتی مجبوری ہے جس کو میں نے خود معمول بنا رکھا ہے۔ برادر مکرم شامی صاحب نے تو کہا ہوا ہے کہ آپ بے شک ہفتے کے سات دن سات کالم لکھیں، میرا اخبار انہیں ہر روز شائع کرے گا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہر روز کالم لکھنے سے کالم نگار کا امیج ایک حد تک ہی سہی متاثر ضرور ہوتا ہے۔ قاری جب روزانہ اخبار کھول کر آپ کا نام (اور تصویر) دیکھتا ہے تو اس کا جذبہ ء تجسس اس گرم جوشی سے خالی ہوتا ہے جو دوچار روز کی غیر حاضری کے بعد آپ کے ”نصیب“ میں ہوسکتی ہے۔

میں اپنی ملازمت کے دوران جب دفتر جاتا تھا تو میز پر ایک انگریزی اور ایک اردو اخبار رکھا ہوتا تھا۔ اس زمانے میں سارے GHQ میں تمام دفاتر میں انگریزی اخبارات کے علاوہ اردو کا روزنامہ جنگ بھی پڑھا جاتا تھا۔ میرے سامنے یہ اردو اخبار بھی ہوتا تھا…… ایک روز ایک معروف عالم فاضل سویلین دوست (نام لینا بہتر نہیں ہوگا) مجھے ملنے آئے تو ’جنگ‘ دیکھ کر پوچھا: ”کرنل صاحب! آپ اس کا ادارتی صفحہ پڑھتے ہیں؟“ ……میں نے جواب دیا کہ وہی تو ایک صفحہ پڑھنے والا ہوتا ہے۔ باقی خبریں تو ٹی وی پر 12،14گھنٹے پہلے دیکھ اور سن لی جاتی ہیں …… انہوں نے دوسرا سوال کیا…… ”جنگ کے ادارتی صفحہ پر ہر روز ارشاد احمد حقانی کا کالم پڑھ کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟“…… میں نے جواب دیا: ”وہ ایک صاحبِ علم صحافی ہیں۔ پوری عمر اسی دشت کی سیاحی میں گزار دی ہے۔ ان کی تحریر میں روانی بھی ہوتی ہے اور برجستگی بھی۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی رسائی اعیانِ حکومت تک ہے۔ تقریباً سارے ہی اکابر سیاستدان ان کے دوست اور مداح ہیں اور ان کا کالم بھی پڑھتے ہیں۔ ان کے تجزیئے اور تبصرے بڑے فکر انگیز اور متوازن ہوتے ہیں“ …… میری باتیں سن کر وہ بولے: ”کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ ان کا کالم اگر من و سلویٰ ہے تو آپ کا جی کبھی کبھی تو دال ساگ اور سوکھا لہسن پیاز کھانے کو بھی چاہا ہوگا؟“…… میں ان کا یہ سوال سن کر سوچ میں پڑ گیا اور کچھ توقف کے بعد عرض کیا: ”آپ نے وہ بات پوچھ لی ہے جو ایک عرصے سے میرے دل و دماغ میں رینگتی ضرور محسوس ہوتی تھی لیکن واشگاف ہو کر باہر نہیں آتی تھی“۔

میں جب جب کسی کالم نگار کا کالم ہر روز کسی اخبار میں چھپا دیکھتا ہوں تو وہ ہرچند کہ بڑا بروقت، معلومات افزاء اور دوررس تجزیوں کے ساتھ سجا ہونے کے ساتھ ساتھ موزوں، پُر مغز اور بہت خوبصورت نثر سے بھی مزین ہوتا ہے پھر بھی جانے مجھے وہ دوست اور اس کا بیان کردہ ’من و سلویٰ‘ کا حوالہ کیوں یاد آ جاتا ہے…… اگر اسے خودستائی نہ سمجھیں تو میرے درجنوں قارئین(دیدہ اور نادیدہ) نے کئی بار اصرار کیا ہے کہ جیلانی صاحب آپ ناغہ نہ کیا کریں۔ میں انہیں ازراہِ مذاق جواب دیا کرتا ہوں کہ منگل اور بدھ کو گوشت کا ناغہ اس لئے نہیں ہوتا کہ ہمارے ہاں بکرے چھترے اور گائے بھینسیں کم ہو گئی ہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ آپ گوشت خوری سے ہفتے میں دو روز تو اجتناب کر لیا کریں تاکہ تیسرے روز گوشت کی کششِ طلب میں اضافہ ہو!…… میں سمجھتا ہوں کہ ہم کالم نگاروں کو بھی ارشاد حسین حقانی مرحوم کے معمولاتِ کالم نگاری سے ہٹ کر گوشت والا ہفتہ واری ”ناغہ کلچر“ اپنا لینا چاہیے تاکہ قارئین کا ذوقِ طلب فزوں تر ہو جائے۔……حضرتِ اقبال نے کہہ رکھا ہے کہ دلِ بے قرار کو فرصت دینی چاہیے تاکہ محبوب کے گیسوئے تابدار کی شکنوں میں اضافہ ہو جائے۔

فرصتِ کشمکش بدہ ایں دلِ بے قرار را

یک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار را

اب آتے ہیں آج کے موضوع کی طرف……

فوج میں ملازمت کے دوران مجھے سابق فاٹا میں بسنے والے پشتونوں کے ساتھ کام کرنے کے کئی مواقع میسر آئے۔ 1970ء کے عشرے میں قلات سکاؤٹس خضدار میں ہماری یونٹ کی چارکمپنیوں میں جو سولجرز پوسٹ ہوکر آتے تھے، ان کو ان کی قوموں کے لحاظ سے مختلف پلاٹونوں میں بانٹ دیا جاتا تھا۔ ان میں خٹک، محسود، بنگی خیل، اورک زئی، بھٹانی اور داوڑ وغیرہ کی پلاٹونیں تھیں۔ ان سب کے ساتھ اڑھائی تین برس کی رفاقت،میری حسین یادوں کا بیش قیمت خزینہ ہے…… پھر اسی عشرے میں فرنٹیئر فورس رجمنٹل سنٹر ایبٹ آباد میں پوسٹنگ کا موقع ملا اور وہاں بھی پشتون افسروں اور جوانوں سے میل جول کے وافر مواقع میسرآئے…… بعد ازاں 1980ء کے عشرے میں ایک انفنٹری ڈویژن ہیڈکوارٹر میں پوسٹنگ ہوئی جو کوئٹہ میں تھا (اور آج کل پنوں عاقل میں ہے) وہاں بھی مختلف بریگیڈوں اور بٹالینوں میں پشتو بولنے والے ساتھیوں سے واسطہ رہا۔ اسی دوران میرے ساتھ جو اردلی (Buddy)پوسٹ ہوئے ان میں بیشتر کا تعلق سابق فاٹا کے قبائل سے تھا۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

جب کبھی کوئی ایسا حادثہ یا سانحہ رونما ہوتا جس میں یونٹ کے کسی سپاہی کی شہادت ہو جاتی یا آپریشنوں کے دوران کوئی آفیسر شہید ہوجاتا تو میرا ”بڈّی“ نصیب خان جس کا تعلق اورک زئی قبیلے سے تھا، بڑا غمگین اور اداس ہو جایا کرتا۔ میں واپس گھر آتا تو پوچھتا: ”نصیب خان! کیا ہوا؟…… منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے؟“ تو وہ جواب دیتا: ”یار۱ سر! آج میرا دل بہت ’خفا‘ ہے“۔…… اس کے بعد وہ شہید ہونے والے آفیسر یا جوان کے وہ سارے قصے سنانے لگتا جو یونٹ کے شب و روز کے معمولات سے متعلق ہوتے۔اور ان کو یاد کرکے اس کی آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں!

تو قارئین محترم! آج میرا دل بھی بہت ”خفا“ ہے۔ جب سے کل کے سانحے میں میجر عدیل شاہد اور سپاہی سرفراز حسین کی شہادت کی خبر سنی ہے ”خفگی“ میں اضافہ ہو گیا ہے اور میں نے شدت سے محسوس کیا ہے کہ پاک فوج کے جو آفیسرز اور جوان آئے روز ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر خون کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، کتنے عظیم اور کتنے دلیر ہیں۔ گزشتہ دو تین عشروں کا کوئی ایسا مہینہ یاد نہیں جس میں ان دونوں سرحدوں پر پاک فوج کی شہادتیں نہ ہوئی ہوں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ شہداء، مہمند ڈسٹرکٹ میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی نگرانی اور چیکنگ کر رہے تھے کہ ایک ’خانہ ساز بارودی ڈیوائس‘ (IED) کے پھٹ جانے سے شہید ہو گئے۔ ایک سپاہی گلفام خان بھی زخمی ہوا جسے CMH پشاور میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا کام جب سے شروع ہوا ہے ہمارے درجنوں آفیسرز اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ کام رکا نہیں۔ مہمند علاقے کا یہ حصہ مغربی سرحد کے حساس ترین اور مشکل ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ بارڈر اتنا پورس (Porous) ہے کہ اس میں آمد و رفت کے راستے متعدد اور پیچ در پیچ ہیں۔ جنگلہ بندی سے پہلے یہ علاقہ سرحد پار سے آنے والے تخریب کاروں اور دہشت گردوں کا گڑھ تھا۔ اس طرح کے گڑھ اس طویل سرحد پر اور بھی بہت سے ہیں لیکن یہاں کی ٹیرین بالخصوص دھوکہ باز اور فریبی نشیب و فراز سے ’لبالب‘ ہے۔ اس قبائلی ڈسٹرکٹ کی تحصیل بازئی کا مغربی حصہ افغانستان سے ملحق ہے اور آمد و رفت کے لئے یہاں ایک گیٹ بھی بنا ہوا ہے تاکہ یہاں کے وہ باشندے جن کے نصف افرادِ خانہ پاکستان میں اور نصف افغان علاقے میں رہتے ہیں، آجا سکیں۔ اس گیٹ کا نام ”گرسل گیٹ“ ہے۔ اس پر اگرچہ نگرانی سخت ہے لیکن انسانی بھول چوک کے علاوہ یہاں زیرِ زمین راستوں / سرنگوں کا بھی ایک وسیع سلسلہ پھیلا ہوا ہے جس کی نگرانی بے حد مشکل ہے……پورس بارڈر کا مفہوم یہی ہے!

میجر عدیل شاہد شہید کی شہادت کا یہ سانحہ ایک اور حوالے سے بھی زیادہ دردناک ہے کہ انہوں نے آپریشن ضربِ عضب میں شہید ہونے والے ایک آفیسر (کیپٹن مجاہد) کی جواں سال بیوہ سے شادی کر لی تھی۔ کیپٹن مجاہد شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران شہید ہو گئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ میجر عدیل نے جب مسز صالحہ کے ساتھ نکاح کیا تو مجاہد شہید کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ پھر 2017ء میں اسی خاتون کے بطن سے ان کے اپنے ہاں دو جڑواں بچے پیدا ہوئے…… ذرا اس خاتون کی حرماں نصیبی پر غور کیجئے جو دوبارہ بیوہ ہو گئی اور تین بچوں کی ماں ہے!…… اللہ کریم قوم کی اس بیٹی کو صبر عطا کرے!

سپاہی سرفراز شہید بھی جواں سال تھا۔ اس کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ شادی شدہ تھا یا نہیں اور اس کا بھی کوئی بیٹا یا بیٹی تھی یا نہیں …… کئی بار یہ بھی سوچا ہے کہ IEDs کو تلاش کرنے اور ایریا کلیئرنس کی ایک SOP جب ان علاقوں میں موجود تھی تو کیا دورانِ نگرانی اس کو بروئے کار نہیں لایا گیا تھا؟ جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں یہ علاقہ بڑا دھوکہ باز(Deceptive) ہے لیکن یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے کہ اس باڑ کی تنصیب کے دوران جو شہادتیں افغان سرحد کے پار سے تخریب کاروں کی فائرنگ سے ہوچکی ہیں تقریباً اتنی ہی IEDs کے پھٹنے سے ہوئی ہیں۔ اگر اس IED کی چیکنگ میں کوئی کوتاہی ہوئی یا میجر عدیل شہید کے اس سکواڈ نے SOP کی کلیئرنس کے سلسلے میں مقرر شدہ ڈرل سے انحراف کیا تو اس کا علم تو انکوائری کے بعد ہی چل سکے گا۔ اگر کوئی SOP فالو نہیں بھی کی گئی تو بھی اس کی جو قیمت ان شہیدوں نے چکائی، وہ انتہائی دلدوز اور دلخراش ہے۔ تاہم ہمارا ایمان ہے کہ جو سانحہ ہونا ہوتاہے، وہ ہو کے رہتا ہے، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اس سکواڈ نے یہ ڈرل ضرور اپنائی ہو گی۔ خواہ مخواہ کوئی بھی شخص،وہ فوجی ہو یا سویلین،موت کو گلے نہیں لگاتا کہ موت تو خود زندگی کی محافظ ہے!

سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم

کہ خونش بانہالِ ملتِ ما سازگار آمد

مزید : رائے /کالم


loading...